بھینسہ میں معمولی واقعہ فرقہ وارانہ تشدد میں تبدیل ،پتھراؤ اور آگ زنی کے واقعات
پتھراؤ میں سب انسپکٹرپولیس،صحافی کے بشمول پانچ شدید زخمی ،ایک کی حالت نازک،صورتحال کشیدہ لیکن قابو میں!
ضلع کلکٹر ، انچارج ایس پی اور ایڈیشنل ایس پی بھاری پولیس جمعیت کیساتھ بھینسہ پہنچ گئے
نرمل/بھینسہ 7۔ مارچ ( سحر نیوزڈاٹ کام)
ریاست تلنگانہ میں فرقہ وارانہ طور پر انتہائی حساس مانے جانے والے ضلع نرمل کے بھینسہ ٹاؤن میں آج رات پیش آنے والا ایک معمولی واقعہ فرقہ وارانہ تشدد میں تبدیل ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے شرپسندوں کی جانب سے مسجد ذوالفقار پر ، اس علاقہ کے مکانات اور کاروباری اداروں پر پتھراؤ کے ساتھ ساتھ گاڑیوں میں آگ لگادئیے جانے کے باعث حالات کشیدہ ہوگئے۔

پتھراؤ میں پانچ افراد شدید زخمی ہوئے ہیں جن میں سے ایک کی حالت نازک ہونے کے باعث بہتر علاج کی غرض سے نظام آباد منتقل کردیا گیا ہے زخمی ہونے والوں میں سب انسپکٹر پولیس اور ایک صحافی شامل ہیں۔ وہیں پرُتشدد ہجوم نے مکانات،موٹرسیکلوں،آٹورکشاؤں اور دیگر اشیاء کو آگ لگادی جسے بجھانے کیلئے فائر انجن طلب کرلیے گئے۔ بڑے پیمانے پر پتھراؤبھی کیا گیا حالات کو دیکھتے ہوئے دیگرمقامات سے زائد پولیس فورس طلب کرلی گئی ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ دونوں طبقات کے نوجوانوں کے درمیان ہونے والے معمولی موٹرسیکل تصادم کے بعد شرپسندوں نے مسلم اکثریتی علاقہ ذوالفقارکے چند مکانات اور اور ذوالفقار مسجد پر بڑے پیمانے پر پتھراؤ شروع کردیا جس سے حالات کشید ہ ہوگئے ۔ اس واقعہ کی اطلاع کے ساتھ ہی بھینسہ میں مختلف افواہوں کا بازارگرم ہوگیا دیکھتے دیکھتے دُکانات اور کاروباری ادارے بند کردئیے گئے۔
عوام میں افراتفری کا ماحول پیدا ہوگیا۔حالات کو دیکھتے ہوئے مقامی قائدین ، ارکان بلدیہ ، اور نوجوانوں نے محلہ ذوالفقار سے مسلم خاندانوں کو محفوظ مقام پرمنتقل کردیا۔
اس فرقہ وارانہ تشدد کی اطلاع کیساتھ ہی انچارج ایس پی نرمل وشنو وارئیراور ایڈیشنل ایس پی رام ریڈی فوری بھاری پولیس جمعیت کیساتھ بھنیسہ پہنچ گئےہیں۔پولیس کی جانب سے تشدد پر قابو پانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ نائب صدرنشین بلدیہ بھینسہ محمد جابراحمد نے پولیس اسٹیشن پہنچ کر حالات سے واقفیت حاصل کرنے کے بعد پولیس کے اعلی عہدیداروں سے فون پر ربط قائم کیا اور مطالبہ کیا کہ اس تشدد پر فوری قابو پاتے ہوئے خاطیوں کو گرفتار کیا جائےاس موقع پر رکن بلدیہ فیض اللہ خان کے علاوہ دیگر مسلم قائدین اور ذمہ داران بھی موجود تھے۔
رات 30-11 بجے اس خبر کے لکھے جانے تک بھی پتھراؤ اور آگ زنی کے چند ایک واقعات کے جاری رہنے کی اطلاع ہے وہیں شہر کے مختلف مقامات پر پولیس فورس تعینات کردی گئی ہے جو سحر حالات کو معمول پر لانے میں مصروف ہے۔اس فرقہ وارانہ تشدد کی اطلاع کیساتھ ہی رات دیر گئے کلکٹر ضلع نرمل جناب مشرف علی فاروقی بھینسہ پہنچ گئے انہوں نے انچارج ایس پی نرمل وشنو وارئیر اوردیگر پولیس عہدیداروں کیساتھ تشدد سے متاثرہ علاقہ کا دورہ کرتے ہوئے آگ کی نذر کیے گئے مکانات ، کاروباری اداروں سمیت نذرآتش کی گئیں گاڑیوں اور آٹورکشاؤں کا مشاہدہ کیا۔

کلکٹر ضلع نرمل جناب مشرف علی فاروقی نے پولیس کو ہدایت دی کہ حالات کو معمول پر لانے کیلئے سخت اقدامات کیے جائیں اور ساتھ ہی تشدد میں ملوث خاطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کیا جائے ۔ضلع کلکٹر نے کہا کہ کسی کو بھی نقص امن کی اجازت نہیں دی جائے۔
ضلع کلکٹر نرمل مشرف علی فاروقی اورا نچارج ایس پی نرمل وشنو وارئیرنے بھینسہ کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پرامن رہیں ، افواہوں پر ہرگز دھیان نہ دیں اور انتباہ دیا کہ سوشیل میڈیا بالخصوص وہاٹس اپ کے ذریعہ غیر مصدقہ اطلاعات پھیلاتے ہوئے عوام کو خوفزدہ کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
بھینسہ میں حالات قابو میں لیکن کشیدہ بتائے جاتے ہیں ٹاؤن کے حساس و مذہبی مقامات پر پولیس پکٹس بٹھادی گئی ہیں اورسحر میں پولیس گشت جاری ہے۔
