تانڈور اور وقار آباد کی صدورنشین بلدیہ کے خلاف تحریک عدم اعتماد
نائب صدور بلدیہ نے ضلع کلکٹر کو مکتوبات حوالے کیے،اپوزیشن کی تائید!!
وقارآباد/تانڈور : 28۔جنوری
(سحر نیوز ڈاٹ کام)
ضلع کلکٹر وقارآباد محترمہ کے۔نکھیلا سے آج ہفتہ کو نائب صدرنشین بلدیہ تانڈور پٹلولا دیپا نرسملوکی قیادت میں ارکان بلدیہ کے ایک وفد نے دفتر کلکٹریٹ وقارآباد پہنچ کرضلع کلکٹر سے ملاقات کرتے ہوئے صدرنشین بلدیہ تانڈور تاٹی کونڈا سواپنا پریمل کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا مکتوب حوالے کیا۔اس موقع پر صدر ضلع لائبرریز راجو گوڑ،صدر تانڈور ٹاؤن بی آر ایس ایم اےنعیم افو،ایم اے سلیم،پٹلولا نرسملو،نریندر گوڑ کے علاوہ دیگر پارٹی قائدین موجود تھے۔
واضح رہے کہ صدرنشین بلدیہ تانڈور اور نائب صدرنشین بلدیہ دونوں کا تعلق ریاست میں برسر اقتدار بی آر ایس پارٹی (سابق ٹی آریس) سے ہی ہے۔36 رکنی مجلس بلدیہ تانڈور کے لیے جنوری 2020ء میں منعقدہ انتخابات میں ٹی آرایس کے 17 رکان بلدیہ منتخب ہوئے تھے۔وہیں بی جے پی نے 7 نشستوں پر،کانگریس نے 4،مجلس اتحادالمسلمین کے 3، آزاد امیدوار 3، سی پی آئی اور ٹی جے ایس کے ایک،ایک ارکان بلدیہ منتخب ہوئے تھے۔
اس وقت صدرنشین بلدیہ تانڈور کے عہدہ پر قبضہ کے لیے 19 ارکان بلدیہ کی تائید لازمی تھی تب تینوں نومنتخب آزاد ارکان بلدیہ ٹی آر ایس میں شامل ہوگئے تھے۔جس کے بعد ٹی آر ایس نے تنہا صدرنشین اور نائب صدرنشین بلدیہ کے عہدوں پر قبضہ کرلیا تھا۔
جبکہ جنوری 2020ء میں صدرنشین بلدیہ تانڈور کےعہدہ کے لیے رکن قانون ساز کونسل و سابق وزیر ٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہیندرریڈی گروپ سے وابستہ تاٹی کونڈا سواپنا پریمل اور رکن اسمبلی پائلٹ روہت ریڈی گروپ کی جانب سے پٹلولا دیپا نرسملومضبوط دعویدارتھیں۔تاہم اس وقت ٹی آر ایس پارٹی ذرائع نے بتایاتھا کہ اس عہدہ کےلیے سخت رسہ کشی کے بعد جنوری 2020ء میں رکن قانون ساز کونسل و سابق وزیر ٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہیندرریڈی اور رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی کے درمیان پارٹی قیادت کی مداخلت کے بعد معاہدہ طئے پایا تھاکہ اس عہدہ کے لیےپہلے کے ڈھائی سال تاٹی کونڈا سواپنا پریمل کو صدرنشین بلدیہ تانڈور کی ذمہ داری تفویض کی جائے گی اور پٹلولا دیپا نرسملو کو نائب صدرنشین بلدیہ کا عہدہ دیا جائے گا۔بعدازاں مزید ڈھائی سال پٹلولا دیپا نرسملو کو صدرنشین بلدیہ کا عہدہ منتقل کردیا جائے گا۔
اس طرح صدرنشین بلدیہ تانڈور تاٹی کونڈا سواپنا پریمل کی ڈھائی سالہ معیاد 27 جولائی 2022ء کوختم ہوگئی۔تاہم انہوں نےیہ کہتے ہوئے استعفیٰ دینے اور عہدہ منتقل کرنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ کوویڈ وبا کے باعث اپنی معیاد میں کوئی زیادہ کام نہیں کرپائیں،وہ ببانگ دہل یہ بھی کہتی آرہی ہیں کہ وہ عہدہ سےمستعفی نہیں ہوں گی اور پانچ سالہ معیاد مکمل کریں گی۔
اسی دؤران گزشتہ سال سی پی آئی رکن بلدیہ محمدآصف اور بی جے پی کی دو ارکان بلدیہ سندھوجا گوڑ اورسنگیتا ٹھاکر ٹی آر ایس پارٹی میں شامل ہوگئے اور وہ رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی کےخیمہ میں ہیں۔اس طرح بلدیہ تانڈور میں اب ٹی آر ایس کے جملہ 23 ارکان بلدیہ موجود ہیں۔
تاہم تانڈور میں بی آر ایس پارٹی میں سیاسی رسہ کشی،رکن قانون ساز کونسل وسابق وزیر ٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہیندرریڈی اور رکن اسمبلی روہت ریڈی کے درمیان جاری سرد جنگ کے دؤران اس عہدہ کی منتقلی عمل میں نہیں لائی گئی۔جس کے بعد سے ان دونوں گروپوں میں بیان بازی اور عہدہ کی منتقلی کا مطالبہ جاری تھا۔
اسی دؤران کل 27 جنوری کو صدرنشین بلدیہ تانڈور تاٹی کونڈا سواپنا پریمل نے اپنے عہدہ کے تین سال مکمل کرلیے۔اس کےبعد ازروئے بلدی قانون اس عہدہ کی تکمیل کے تین سال کے بعدتحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا فائدہ اٹھاتےہوئے آج رکن اسمبلی پائلٹ روہت ریڈی گروپ سےوابستہ نائب صدرنشین بلدیہ پٹلولا نرسملونے صدرنشین بلدیہ تانڈور کےخلاف تحریک عدم اعتماد کا مکتوب ضلع کلکٹر کے حوالے کیا۔
دوسری جانب بلدیہ تانڈور میں موجود بی آر ایس پارٹی کے ارکان بلدیہ بھی رکن قانون ساز کونسل اور رکن اسمبلی گروپس میں تقسیم ہیں۔تاہم نائب صدرنشین بلدیہ نے آج بی آر ایس کے چند ارکان بلدیہ سمیت کانگریس مجلس،ٹی جے ایس اور بی جے پی کے ارکان بلدیہ کے ساتھ مل کر یہ عدم اعتماد کی تحریک پیش کی ہے۔جس کے بعد تانڈور میں سیاسی ماحول گرم ہوگیا ہے۔
وہیں 34 رکنی مجلس بلد یہ وقارآباد کا بھی یہی تنازعہ گزشتہ سال سے جاری تھا جہاں آج بی آر ایس پارٹی کے 18 ارکان بلدیہ نے ضلع کلکٹر کے۔نکھیلا سے ملاقات کرتے ہوئے صدرنشین بلدیہ وقارآبادمنجولا رمیش کےخلاف تحریک عدم اعتماد کا مکتوب پیش کیاہے۔اس سلسلہ میں پارٹی قیادت کیا قدم اٹھاتی ہے اس پر سب کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔

