امت مسلمہ کا سب سے بڑا مسئلہ اتحاد اور اتفاق کا فقدان ہے
ملک میں پیدا کی جارہیں بدگمانیوں کو دور کرنے خواتین داعی کا کردار کریں
تانڈور میں جماعت اسلامی ہند کا ایک یومی ضلعی اجتماع عام
مولانا حامدمحمد خان،حافظ محی الدین شاکر،رقیب لطیفی اور دیگر کا خطاب

وقارآباد/تانڈور: 27-جنوری (سحر نیوز ڈاٹ کام)
مولانا حامد محمد خان،امیر جماعت اسلامی ہند تلنگانہ نےکہا ہےکہ خواتین پر نسلوں کی آبیاری اور ان کی بہتر تربیت کی بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔وہ جماعت اسلامی ہند ضلع وقارآباد کے زیراہتمام اتوار 22 جنوری کو تانڈورکے کلاسک گارڈن فنکشن ہال،چنگیز پور روڈ میں منعقدہ”بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو دوزخ ٰ کی آگ سے” کے موضوع پرضلعی سطح کے اجتماع عام سے خطاب کر رہے تھے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ عورتیں بحیثیت ماں،بہن،بیوی اور بیٹی ہر دور میں بڑا رول ادا کرتی آ رہی ہیں۔اور انسانوں کی بہتر تربیت ایک عورت ہی کرتی ہے جو توحید باری تعالیٰ کو انسان کے اندر سے پیدا کرتی ہےجو کہ ایمان کا اصل جوہر ہے۔انہوں نے کہا کہ دین،قرآن، ایمان اور حضور اکرمﷺ کی سیرت ایک امانت ہے جسے لوگوں تک پہنچانا ہے۔
مولانا حامدمحمد خان،امیر جماعت اسلامی ہند تلنگانہ نے اپناخطاب جاری رکھتے ہوئے کہاکہ توحید ہی اصل جوہر اور امانت ہے جو ہمیں زندہ رکھی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ قرآن اور حضور اکرم ﷺ کی زندگی مبارک سارے انسانوں کی امانت ہے اور انسانوں تک انہیں پہنچانا ہے۔انہوں نے تاسف کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ آج جو ملک اور دنیا کے موجودہ حالات ہیں اس کی اہم ترین وجہ مسلمانوں نے دین کی دعوت کا کام چھوڑ دیا ہے۔جب تک یہ امت داعی گروہ بنی رہی وہ دنیا کو دیتی رہی،دنیا کو نوازتی رہی۔لیکن جب سے اس امت نے دعوت کےکام کو چھوڑدیا اس وقت سےوہ مغلوب،محکوم،مجبور،لاچار،بے وزن اوربےوقعت ہوگئی۔اورہم خوداب مانگنے والےہوگئے ہیں کوئی وزن باقی نہیں رہا۔
انہوں نے کہا کہ داعی کاسب سے زیادہ کام خواتین میں ہونا ہے۔اس لیے کہ جو برادران وطن ہیں ان کا جو بھی دین و دھرم ہے وہ عورتوں کی وجہ سے ٹکا ہوا ہے۔ان کی عورتیں جتنی مذہبی ہیں،جتنا وہ منادر کو جاتی ہیں مرد افراداتنا نہیں جاتے۔انہوں نےتلقین کی کہ اس لیےعورتوں کی بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بہنوں کے اندر دعوت کا کام انجام دیں۔
مولانا حامد محمد خان نے خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے جو سوالات ہیں ان کے جواب دیں کہ آپ برقعہ کیوں پہنتی ہیں۔؟ دو سے زائد بچے آپ کیوں پیدا کرتی ہیں؟،آپ گھر کی چار دیواری تک محدود کیوں رہتی ہیں؟،آپ پردہ کیوں کرتی ہیں؟،آپ کا شوہر آپ پرظلم کرتا ہے،تین طلاق کے ذریعہ کیوں چھوڑ دیتا ہے۔؟ان سارے شکوک و شبہات اور غلط فہمیوں کے جوابات خود خواتین کو دینا ہوگا۔مرد دینےسے نہیں چلے گا۔بلکہ ان سارے سوالات کے جوابات میری بہنوں کو دینا ہوگا۔کیوں کہ جتنے سوالات اٹھائے جارہے ہیں وہ سارے مسلم خواتین سے متعلق ہیں۔انہوں مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ اپنے بچوں کو اسمارٹ فون سے دور رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ برادران وطن تک اسلام کی تعلیمات پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔مولانا نےسوال کیا کہ کیا ہم حضور اکرم ﷺ کے احکامات پر چل رہے ہیں؟انہوں نے اسلامی اجتماعیت کی دینی اور شرعی ضرورت کو اہم اور وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اجتماع عام کے انعقاد کا مقصد مسلمانوں کو یاد دلانا ہے کہ وہ کتنی بڑی غفلت میں مبتلا ہیں۔
مولاناحامدمحمد خان نے کہاکہ آج ہمارے جتنے مسائل پائے جاتے ہیں ان کا تجزیہ کریں تو سب سے بڑا مسئلہ ہم میں اتحاد اور اتفاق کا فقدان ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم میں اتحاد و اتفاق کا نہ ہونا اور اجتماعیت کا نہ ہونا ہی اصل مسئلہ ہے۔
حافظ محی الدین شاکر قومی سیکریٹری جماعت اسلامی ہندنے” بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو دوزخ ٰ کی آگ سے” کے موضوع پر اپنے خطاب میں کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس لیے پیدا فرمایا ہے کہ وہ اس کی اطاعت کریں،اللہ کے رسولوں کی اطاعت کریں، اور اللہ کے آخری نبی حضرت محمدمصطفیٰﷺ کی اطاعت کے ذریعہ اللہ کو راضی کرکے جنت کے مستحق بن جائیں اور دوزخ سے بچ جائیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کی زندگی اورمصیبت سب ختم ہوجاتی ہیں،لیکن اللہ کے عذاب سےنجات کا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔اس لیے ہم خود اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچائیں۔ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے گھروں کو اسلام کے قلعے بنائیں۔حافظ محی الدین شاکر قومی سیکریٹری جماعت اسلامی ہندنے آیات قرانی کے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید میں جہنم کا نقشہ تفصیلی طور پر کھینچتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سب سے بدترین جگہ جہنم ہے اور اس سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔اللہ اور اس رسولوں کی نافرمانی اور بغاوت کرنے والوں کے لیے ہے۔
حافظ محمد رشاد الدین، ناظم شہر جماعت اسلامی ہندعظیم تر حیدرآباد نے” توحید کے اثرات انسانی زندگی پر "کے عنوان پر مخاطب کرتے ہوئے کامل ایمان اختیار کرنے،ہر قسم کے شرک سے بچنے کی تلقین کی۔
اس اجلاس سے محمدصادق احمد سیکریٹری،جماعت اسلامی ہند تلنگانہ نےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ دعوت دین ایک اہم فریضہ ہے اور اس کی ادائیگی ہم پرلازم ہے۔”اسلام میں اجتماعیت کی اہمیت و ضرورت”کےموضوع پرخطاب کرتےہوئےعبدالرقیب لطیفی سیکریٹری،جماعت اسلامی ہند تلنگانہ نے کہاکہ اسلام کی تمام عبادتیں اجتماعیت کی تعلیم دیتی ہیں۔ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اجتماعیت سے جڑکر رہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بکری اپنے ریوڑسے ہٹ کر چلتی ہے تو اس پر بھیڑیا آسانی سے حملہ کرتا ہے۔ٹھیک اسی طرح انسانوں کے لیے بھیڑیا شیطان ہے۔
اس اجتماع عام سے ڈاکٹر اسلام الدین مجاہد نے ” موجودہ حالات اور ہماری ذمہ داریاں "کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ موضوع ہمارا یا آپ کا نہیں ہندوستان میں بسنے والے ہر شہری کاعنوان ہے کہ آج ہندوستان کن حالات سے گذر رہا ہے۔موجودہ حالات کاحوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس اجتماع کا مقصد قوم کو مایوسی میں لےجانا نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ 1400 سالہ اسلامی تاریخ کئی سنگین حالات سے گزری ہے۔پیغمبر اسلامﷺ نےمصائب و مشکلات کےباوجود 13 سال کے مکّی دؤر میں عزم و حوصلہ کے ساتھ دین کی دعوت دی۔
ڈاکٹر اسلام الدین مجاہد نے اپنے خطاب میں استفسار کیا کہ حالات سے پریشان ہوجانا،حالات کا ماتم یاشکوہ کرنا یا خود کوحالات پر چھوڑ دینا کیا کسی قوم کو ترقی کی سمت لے جاسکتا ہے۔؟جس سے حالات نہیں سدھرتے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں حالات بہت سنگین ہیں۔ایک طرف یکساں سول کوڈ کی تلوار لٹک رہی ہے۔ایک طرف لؤجہاد کا بے بنیاد نعرہ لگایاجارہا ہے۔دوسری طرف قوم پرستی کےنام پر ایک خاص مذہب، تہذیب اور زبان کو پوری ایک کروڑ 40 لاکھ کی آبادی پر مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے قوم کو تلقین کی کہ ان حالات میں جوش کے بجائے حکمت، تدبیر اور ایمان پر استقامت لائیں۔
ڈاکٹر اسلام الدین مجاہد نے کہا کہ برادران وطن،اسلام سے ناواقف ہیں اور ان کے اندر غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔یہ وہ چیزیں ہیں جو مسلمانوں کے خلاف کھڑی کرتی ہیں۔اور ہماری ذمہ داری ہے کہ عزم اور استقلال کے ساتھ ہم اسلام کی حقانیت اور مسلمانوں کےتعلق سےحقائق کو دنیا کےسامنے رکھتے ہوئے ان غلط فہمیوں اور بدگمانیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔انہوں نے کہاکہ میڈیا ایک قسم کی مایوسی ہیجان اور اضطراب پیدا کررہا ہےجس سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور اس خوف کو اپنے اندر سے ختم کریں۔انہوں نے کہا کہ قوموں کو وسائل اور مسائل زندہ نہیں رکھتے بلکہ اعلیٰ مقاصد ہی قوموں کو زندہ رکھتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہمیں اسلام سے مزید قریب ہونا ہے اور عملی طور پر مسلمان ہونا ہے۔ہماری سیاست،دوستی،ہماری معیشت سب اسلام کے مطابق ہوں۔
مولانا محمد عبداللہ اظہر قاسمی،صدر جمعیتہ علما وقارآبادضلع نے” درس حدیث،حب رسولﷺ اور اس کے تقاضے”کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے نبی ﷺ اس دنیا میں اللہ کے پیغام اور کلام کوسمجھانے اورسنانے کے لیے تشریف لائے۔انہوں نے کہا کہ ہر زمانے میں اللہ نے بغیر رسول اور نبی کے کوئی کتاب نازل نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ بچہ اپنے والدین کو دیکھ کر سیکھتا ہے۔مولانا نے کہا کہ اتباع کے لیے حضور اکرم ﷺ سے محبت اور عقیدت لازمی ہے۔مولانا عبداللہ اظہر قاسمی نے صحابہ کرام (رض) کی زندگی اور پیغمبر اسلام سے ان کی محبت و عقیدت کے واقعات کا حوالہ دیا۔
اس اجتماع کا آغاز محمدخواجہ (پاشاہ بھائی) ناظم جماعت اسلامی ہند،محبوب نگر ضلع کے درس قران سے ہوا۔بعد ازاں ہادی پٹیل،ناظم جماعت اسلامی ہند وقارآباد ضلع نے افتتاحی کلمات پیش کیے۔انہوں نے اپنے خطاب میں مثالی خاندان کا قیام،اسلامی تعلیمات پر عمل آوری، اسلامی تہذیب کا رواج،غیر اسلامی رسم و رواج سے اجتناب، بامقصد زندگی گزارنے کی تلقین کی۔
اس ایک یومی اجتماع عام کے دوران طلبہ تنظیموں ایس آئی او اور جی آئی او کی نگرانی میں طلباء و طالبات نے ویووز2023،اور اسلامی ایکسپو میں معلوماتی اور دلچسپ نمائش کا اہتمام کیا۔اس کانفرنس میں Know Islam test میں کامیاب طلباء اور طالبات کونقد انعامات عطا کیے گئے۔
اس اجتماع عام میں ناظم اجتماع سعید عبداللہ مبشر نے مختلف قراردادیں پیش کیں جنہیں تمام شرکاء نے منظور کیا۔محمد فہیم خان امیر مقامی جماعت اسلامی تانڈور نے کلمات تشکر پیش کیے۔اس اجتماع کی پہلی نشست کی کارروائی محمد فیاض الدین،امیر مقامی وقارآباد نے چلائی۔جبکہ دوسری نشست کی کارروائی محمد سراج الدین صمدانی،معاون ناظم ضلع وقار آباد نے چلائی۔
اس ایک یومی اجتماع عام میں مولانا محمدشکیل احمد نظامی،سابق صدر اہلسنت والجماعت تانڈور،مولانا خلیل الرحمن محمدی،مشیرجمعیت اہلحدیث تانڈور،محمدخورشیدحسین،سید کمال اطہر صدر ویلفیئر پارٹی آف انڈیا تلنگانہ،صدر عیدگاہ و قبرستان کمیٹی تانڈور محمد یوسف خان،محمدمختار احمد ناز رکن بلدیہ تانڈور،محمد صدیق بی آرایس پارٹی قائد وقار آبادافضل شکیل کوآپشن ممبر بلدیہ وقارآباد،مجیب الرحمن پرگی کے علاوہ دیگر ڈائس پر موجود تھے۔اس ضلعی اجتماع کا اختتام مولانا حامد محمد خان امیر جماعت اسلامی ہند تلنگانہ کی اجتماعی دعا پر ہوا۔
اس اجتماع عام میں وقار آباد ضلع کے اسمبلی حلقہ جات وقار آباد، پرگی اور کوڑنگل کے علاوہ حلقہ اسمبلی تانڈور کے بشیر آباد، یالال اور پدیمول کے بشمول تانڈور ٹاؤن سے برداران ملت،دختران اسلام، طلباء و طالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

