ایک بے خوف طالبہ رسی کی مدد سے ندی عبور کرتے ہوئے، ٹوئٹر پر 73 لاکھ سے زائدسوشل میڈیا صارفین نے یہ خطرنک ویڈیو دیکھا

ایک بے خوف طالبہ رسی کی مدد سے ندی عبور کرتے ہوئے
ٹوئٹر پر 73 لاکھ سے زائد صارفین نے یہ حیرت انگیز ویڈیو دیکھا
تھرماکول باکس میں بیٹھ کر اسی کے پتوار سے ندی پار کرتے ہوئے طلباء

حیدرآباد: 18۔نومبر
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

دنیا کے کئی ممالک اور ہندوستان کے کئی دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں بچوں کو اسکولوں تک پہنچنے کےلیےذرائع دستیاب نہیں ہوتے۔گزشتہ دنوں جموں وکشمیر کا ایک ویڈیوسوشل میڈیا پر وائرل ہواتھا کہ پہاڑی علاقہ کے طلبا و طالبات روزآنہ دس کلومیٹر کا پیدل سفر طئے کرکے اسکول پہنچتے ہیں اور اتنا ہی فاصلہ طئے کرکے شام کو اسکول سے گھر آتے ہیں۔

آج بھی ملک کی کئی ریاستوں کے دیہاتوں اور دور دراز مقامات کےطلبہ اورعوام کوسرکاری ٹرانسپورٹ نظام کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔اگر یہ سہولت دستیاب بھی ہو تو اکثر شکایت ہوتی ہےکہ بسیں اور ٹرینیں تاخیرسے چلتی ہیں۔جس کی وجہ سےطلبہ کوصبح کےوقت اسکول پہنچنے میں اور شام کو اپنے گھروں کو واپس پہنچنے میں تاخیر عام بات ہوتی ہے۔

پہاڑی اور دور دراز مقامات کے طلبہ کن مشکلات کاسامنا کرتےہوئے اسکولوں تک پہنچ کرتعلیم حاصل کرتے ہیں یہ وہی جانتے ہیں اور تعلیم حاصل کرنے کا جنون و جذبہ رفتہ رفتہ ان میں ان تمام مصائب کوبرداشت کرنے کی طاقت پیداکردیتاہے۔اور یہی بچے ان مصائب سے منجھ کر مستقبل میں شاندار کامیابی حاصل کرنے کا ایک ریکارڈ رکھتے ہیں۔

دوسری جانب بہت سے ایسے بچے بھی ہوتے ہیں جو تمام سہولتوں و آرائشوں کے باؤجودتعلیم حاصل کرنے کے لیے وہ جذبہ نہیں پیدا کرتے جس سے ان کا مستقبل سنور جائے۔اور ان کے والدین کی خواہشات پوری ہوجائیں۔اگر لامحالہ ایسے طلبہ نے ڈگریاں حاصل بھی کرلیں تو وہ ڈگریاں سوائے ان کے والدین کی جانب سے ادا کی گئیں بھاری فیس کی رسائد اور کاغذ کے ٹکڑوں کے اور کچھ نہیں ہوتیں!! کیونکہ ڈگری سے کہیں زیادہ اہم اور قابلیت اور تجربہ ہوتا ہے۔!

سوشل میڈیا بالخصوص ٹوئٹر پر ایک ایسا ویڈیو وائرل ہواہے جسے دیکھ کر عام لوگوں کے رؤنگٹھے کھڑے ہوجاتے ہیں۔جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک طالبہ رسی پکڑ کر نیچے ندی میں تیز رفتاری کے ساتھ بہتے ہوئے پانی سے بےخوف ہوکر ندی کے دوسرے کنارے پر پہنچتی ہے۔دیکھنے والوں کےلیے یہ منظرخوفناک ہے۔لیکن اس نڈر اور بہادر طالبہ کےچہرے پر خوف یا ڈر کا شائبہ تک نظر نہیں آتا۔اس ویڈیو کو دیکھ کر ایسا  محسوس ہوتا ہے کہ یہ اس طالبہ کا روز کامعمول ہے،اور وہ اسی طرح روز ندی پار کرکے اس کنارے پر موجود اسکول پہنچتی ہے۔!!

اس ویڈیو کو کل 17 نومبر کو برجیندرسنگھ یادو نے ٹوئٹ کیا ہے۔اور اس کے ساتھ انہوں نے لکھا ہے کہ” جذبہ ہو پڑھنے کا تو کچھ دکھائی نہیں دیتا، چاہے سمندر ہو یا دریا سب کچھ پار کرجانا ہے”۔اس ویڈیو کو 8,833 ٹوئٹر صارفین نے دیکھا ہے۔تاہم اس ویڈیو کےساتھ یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ کونسے ملک یا کونسی ریاست کا ہے؟

جب اس کی جانچ کی کوشش کی گئی کہ یہ ویڈیو آخر ہے کہاں کی؟ تو ٹوئٹر پرہی ولا افشار نامی ٹوئٹر کےمصدقہ ہینڈل سے 2 نومبر کو یہ ویڈیوٹوئٹ کیا گیا ہے۔اور دوبارہ 8 نومبر کو بھی انہوں نےاپنے اس ویڈیو کوری۔ٹوئٹ کیا ہے،جوکہ ایک ادیب اور کالم نگار ہیں۔جن کے 9 لاکھ 45 ہزار سے زائد ٹوئٹر فالوورز ہیں۔

لیکن حیرت انگیز طور پر ان کی جانب سے ٹوئٹ اور ری۔ٹوئٹ کیے گئے اس ویڈیو کو اب تک 73 لاکھ سے زیادہ سوشل میڈیاصارفین دیکھ چکے ہیں۔ولا افشار نے اپنے ٹوئٹ کےساتھ لکھا ہے کہ”کچھ بچے اسکول جانے اورتعلیم حاصل کرنے کے لیے جو کچھ بھی کرنا ہوگا وہ کریں گے۔ ہمیں ان کے لیےتعلیم تک رسائی آسان بنانے کی ضرورت ہے”۔اس ویڈیو کو اب تک ایک لاکھ 13 ہزار 900 صارفین نے لائیک اور 25,700 نے ری۔ٹوئٹ (شیئر) کیا ہے۔جبکہ اس ویڈیو پر 2,381 ٹوئٹر صارفین نے مختلف کمنٹس کیے ہیں۔

” دونوں ویڈیوز یہاں دیکھے جاسکتے ہیں "

دوسری جانب ولا افشار کے اس ویڈیو کے ٹوئٹ پر بلاسٹ Blast# نامی ٹوئٹر ہینڈل سےکمنٹ کرتے ہوئے ایک ویڈیو پوسٹ کیا گیا ہے۔جس میں دیکھا جاسکتا ہےکہ کمسن طلبہ تھرماکول سےبنائے ہوئے ڈبوں میں بیٹھ کرتھرماکرل سے ہی بنائے گئے پتوار اپنے دونوں ہاتھوں سے چلاتے ہوئے ندی عبور کرکے اسکول جارہے ہیں۔اس کمنٹ والےویڈیو کو 17،600 ٹوئٹرصارفین نےدیکھاہے۔تاہم ان دونوں ویڈیوز کےمتعلق اطلاع نہیں ہے کہ یہ کونسے ملک کے ہیں۔؟ لیکن اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ کسی اور ممالک کے ویڈیوز ہیں!!۔