افغانستان: کابل کے تعلیمی ادارہ میں خودکش بم دھماکہ 19 افراد ہلاک،27 زخمی
مہلوکین میں طالبات کی تعداد زیادہ،اموات میں اضافہ کا خدشہ
کابل: 30۔ستمبر(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایک تعلیمی ادارے میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں 19 افراد ہلاک اور 27 زخمی ہو گئے ہیں۔خبر رساں ادارے رائٹرز نےکابل پولیس کے ترجمان کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔افغانستان کے میڈیا ہاؤز طلوع نیوز نے ٹوئٹ کیا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کاج تعلیمی مرکز پر حملے میں کم از کم 19 افراد ہلاک ہوئے۔اس نے کابل سیکیورٹی کمانڈکےترجمان خالد زدران کے حوالے سے بتایا کہ طلبہ داخلہ امتحان پاس کرنے کے لیے مرکز میں آئے تھے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق زدران نےکہاکہ حملہ ایک تعلیمی ادارے میں ہوا جہاں داخلہ کا امتحان ہورہا تھا۔افغانستان میں عام طور پر جمعہ کے روز اسکول بند رہتے ہیں۔انہوں نے اس خودکش حملہ میں کون ملوث ہیں اس کا انکشاف نہ کرتے ہوئے کہا کہ”شہری اہداف پر حملہ کرنا دشمن کے غیر انسانی ظلم اور اخلاقی معیارات کی کمی کو ثابت کرتا ہے”۔
خبررساں ادارہ اے ایف پی نے ایک عینی شاہد طالبہ کے حوالہ سے اطلاع دی ہے کہ مہلوکین میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے۔ایک طالب علم نے بتایاکہ کلاس روم میں 600 کےقریب طلبہ تھے،لیکن زیادہ تر ہلاکتیں لڑکیوں کی ہوئی ہیں۔مرد طالب علم نے ایک ہسپتال میں بتایا جہاں اس کا علاج کیا جارہا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہاگیا ہے کہ اس خودکش حملہ کےمہلوکین کی تعداد میں اضافہ کا خدشہ ہے،ہسپتال کےایک نامعلوم ذرائع سے میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ مرنے والوں کی تعداد 23 ہے،جب کہ طالبان کے ایک ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ تعداد 33 ہے۔
ایک مقامی رہائشی غلام صادق نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ گھر پر تھے جب انہوں نے ایک زوردار آواز سنی اور تعلیمی مرکز سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا جہاں وہ اور پڑوسی مدد کے لیے پہنچ گئے۔انہوں نے کہاکہ” میں اورمیرے دوست دھماکے کی جگہ سے 15 زخمیوں اور 9 نعشوں کو منتقل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔دیگر لاشیں کلاس روم کے اندر کرسیوں اور میزوں کے نیچے پڑی تھیں۔”
گزشتہ سال افغانستان میں طالبان کی اقتدار پر واپسی سے دو دہائیوں سے جاری جنگ کا خاتمہ ہوا تھا اور تشدد میں نمایاں کمی آئی تھی،لیکن حالیہ مہینوں میں سکیورٹی کی حالت ابتر ہونا شروع ہو گئی ہے۔اور وقفہ وقفہ سے بم دھماکوں کا سلسلہ جاری ہے۔
این ڈی ٹی وی کےمطابق یہ خودکش دھماکہ مغربی کابل کےدشت برچی محلے میں ہواجوکہ شیعہ اکثریتی اقلیتی ہزارہ برادری کاعلاقہ ہے،جوافغانستان کے چند انتہائی مہلک حملوں کا ہدف ہے۔

