بھارت جوڑو ، دیوانہ کا خواب

راہل گاندھی نے براہ راست سنگھ سے پنگا لیا۔آج سےہی نہیں منموہن سنگھ کےزمانہ سےہی وہ جلسے وجلوس میں آر ایس ایس اور ملک کے بڑے صنعت کاروں کو آڑے ہاتھوں لیتے رہے ہیں۔ملک میں فرقہ وارانہ ماحول کے بگاڑ میں شدت کی وجہ وہ آر ایس ایس کو گردانتے ہیں تو ملک میں بے روزگاری اور بدعنوانی کا سبب سنگھ اور صنعت کاروں کی ملی بھگت میں تلاش کرتے ہیں۔
اب یہ ان کی سیاسی ناسمجھی ہے یا پھر سیاسی بصیرت کہ جہاں ان کے اس موقف سے نام نہاد راشٹر بھکت ناراض ہوئے تو وہیں ان ہی کی پارٹی میں چھپےنام نہاد کانگریسی بھی تلملاگئے۔متعدد کانگریسیوں نے حیلہ بہانہ بناکر پارٹی چھوڑی تو کئی کانگریسیوں نے”لؤٹی وہیں پر خاک جہاں کا خمیر تھا“کےمصداق سنگھ میں واپسی کرلی۔ چنانچہ کانگریس کےساتھ یہ چیلنج زیادہ سخت ہوگیاکہ ووٹرس کومتحد کریں یا لیڈروں کو منتشر ہونے سے بچائیں۔
کانگریس کے ساتھ یہ بھی برا ہوا کہ علاقائی پارٹیاں اس کے ووٹ بنک پر ڈاکہ ڈالتی چلی گئیں۔اب مشکل یہ ہے کہ کانگریس کے ساتھ وہ اتحاد تو کر لیتی ہیں مگر اسے اتنی کم سیٹوں پر سمٹنا ہوتا ہے کہ وہ بس عزت ہی بچا پاتی ہے۔تاہم کچھ ریاستوں میں کانگریس آج بھی زیادہ کمزور نہیں ہوئی ہے اور حکومت بنانے میں کامیاب ہے۔
راہل گاندھی نےحتی الامکان کوشش کی کہ وہ اپنی باتوں اور اپنےنظریوں سے بی جے پی کی لہر کند کرسکیں لیکن انہیں کامیابی نہیں مل پارہی ہے۔اس کی وجہ ان کا سنگھ مخالف کٹر نظریہ ہی رہا ہے۔بی جے پی نے ملک میں مسلمانوں کے خلاف جس طرح کا پروپگنڈہ اور مائنڈ سیٹ تیار کیا کہ اس مائنڈ سیٹ میں دلتوں،بہوجنوں اور پچھڑوں کے بھی مائنڈ سیٹ ہو گئے کہ کانگریس ہندو مخالف ہے اور مسلمانوں کے مفاد میں کام کرتی ہے۔دوران الیکشن براہ راست کانگریس کے بارے میں یہ کہتے سنا جاتا ہے کہ کانگریس آئے گی تو مسلمانوں کی حکومت آ جائے گی۔
اب اس طرح کے ٹیگ کے باوجود اگر راہل گاندھی آر ایس ایس کے نظریہ کے خلاف ڈٹ کر کھڑے رہ جاتے ہیں تو اسے ان کا جرات مندانہ قدم کہا جاسکتا ہے یا پھر ان کے سیاسی ناسمجھی!!۔

”بھارت جوڑو“ مہم کا آغاز کرتے ہوئے ان کا جو موقف ہے وہ بس اتنا ہی ہے کہ ملک کی اقتصادی،سماجی اور سیاسی حالت دگرگوں ہوچکی ہے۔ایسے میں عوام کو اپنے ملک کے تئیں بیدار ہو جانا چاہئے کہ ملک کی سلامتی اور ترقی ہر آدمی کی ذمہ داری ہے۔چونکہ بھارت میں میڈیاچند صنعتکاروں کا زرخرید غلام بن چکا ہے اور اپنے ڈبیٹ میں بھارت کوتوڑنے کی حتی المقدورکوشش کررہا ہے۔اس لیے بھارت جوڑومہم اس کے نظریہ کے خلاف چلائی جانے والی مہم ہے۔
اس لیے اس مہم کو دِکھانا یا اس مہم سے منسلک کسی طرح کی جانکاریوں سے عوام کو آگاہ کرنا اس کے لیے گناہِ عظیم تو ہے ہی اپنے آقاؤں کی طرف سے پھیکی ہوئی روٹی کی تذلیل بھی ہے۔اس لیے بھارت میں چلنے والی اب تک کی سب سے بڑی مہم کو بلیک آؤٹ کر دیا گیا۔
3000 کلومیٹر کا پیدل مارچ بھارت ہی نہیں دنیا کا سب سے بڑا پیدل مارچ ہے۔جو ملک کی 12 ریاستوں سے تقریبا 5 ماہ میں اپنی منزل طے کرے گا۔اس پیدل مارچ میں 120 لوگ ہمہ وقت شامل ہیں اور جن راستوں سے یہ قافلہ گزرتا ہے وہاں کے مقامی باشندے جوق درجوق اس میں شامل ہوتے ہیں۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ان 120 لوگوں میں راہل اور کنہیا کمار کو چھوڑ کر تمام انجان چہرے ہیں۔
اس قافلہ کو نزدیک سے دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ تمام لوگ گھر نہیں جاتے بلکہ ساتھ میں چلنے والے کنٹینرز میں ہی کھاتے اور سوتے ہیں۔ ماہرین سیاست کا کہنا ہے کہ اس ریلی سے عوامی بیداری میں زبردست اضافہ ہواہے اور راہل گاندھی کی مقبولیت میں بھی۔تاریخ نویسوں کا کہنا ہے کہ اتنی لمبی دوری کی ریلی آج تک دنیا کے کسی کونے میں نہیں نکلی۔جدوجہد آزادی کے زمانہ میں بھی گاندھی جی کی قیادت میں متعدد پیدل مارچ ہوئے مگر 12 ریاستوں میں پیدل مارچ پہلی مرتبہ دیکھا جارہا ہے۔روزانہ 26 کلومیٹر چلنا ایک معجزہ ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر چلائی جا رہی مہم کانگریس کو ازسر نو زندہ کرپائے گی۔؟ کیا پیدل مارچ کا ساتھ دینے والے لوگ ووٹنگ مراکز پر کانگریس کو ووٹ دینے پیدل چل کر آئیں گے۔؟ کہنا مشکل ہے کیونکہ اسی بھارت میں کورونا کے دؤر میں عوام نے بے انتہا مشکلات کا سامنا کیا،بے روزگاری کا سامنا کر ہی رہے ہیں،مہنگائی روز بروز عروج پر پہنچ چکی ہے۔لیکن عوام پر کوئی اثر دیکھنے کو نہیں ملا اور نہ ہی سرکار کو کسی گھبراہٹ کا سامنا کرنا پڑا۔
کیونکہ آج کی سیاست مسلم مخالف سیاست ہے۔مسلمانوں کےخلاف وہ لوگ بھی کھڑے ہوچکے ہیں جنہیں مسلمانوں نے چلنا سکھایا تھا۔آج اگر کوئی بھی مسلمانوں کے مفاد میں یا اس کے دفاع میں کھڑا ہوگا وہ ملک دشمن قرار پائے گا۔

ایسے میں راہل گاندھی کی بھارت جوڑو مہم دیوانہ کا خواب ہی ثابت ہوگا۔ابھی بھارت کے ایک ہزار مسائل ایک طرف اور گیان واپی مسجدکا مسئلہ ایک طرف!!۔
اس لیےآپ راہل گاندھی کے جذبہ کو توسلام کرسکتے ہیں مگر ان کے بھارت جوڑنے کے نظریہ پر افسوس ہی کر سکتے ہیں۔اور اگر بین السطور لکھنا پڑے تو یہ لکھ سکتا ہوں کہ”مسلمان بھی آر ایس ایس کے خلاف ہیں اور راہل گاندھی بھی۔مگر دونوں ایک دوسرے کا ساتھ نہیں دے سکتے”۔یہ بھی ایک طرح کا مائنڈسیٹ ہی ہے۔!!

