حیدرآباد کےمختلف مقامات سے 20 موٹرسیکلوں اور دو آٹورکشاوں کے تین سارق دوست تانڈور میں گرفتار،گاڑیاں برآمد :ضلع ایس پی

حیدرآباد کے مختلف مقامات سے 20 موٹرسیکلوں اور دو آٹورکشاوں کے
سرقہ اور فروخت میں ملوث تین سارق دوست تانڈور میں گرفتار،گاڑیاں برآمد
ضلع ایس پی وقارآباد کوٹی ریڈی کی پریس کانفرنس

وقارآبا/تانڈور:20۔ستمبر(سحرنیوزڈاٹ کام)

حیدرآباد کے مختلف مقامات اور تانڈور سے نقلی چابیوں کی مدد سے 20 سے زائد موٹرسیکلوں اور دو آٹورکشاؤں کےسرقہ میں ملوث تین سارق دوستوں کا تانڈور پولیس نے پردہ فاش کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرلیا۔اور ان کی نشاندہی پرفروخت شدہ مسروقہ موٹرسیکلیں اور آٹو رکشاء برآمد کرلئے گئے۔

دفتر پولیس سب ڈویژنل آفس تانڈور میں منعقدہ پریس کانفرنس میں ایس پی وقارآبادضلع مسٹر نندیالا کوٹی ریڈی آئی پی ایس نے ان تینوں سارقوں اور برآمد کی گئیں گاڑیوں کومیڈیا نمائندوں کے سامنے پیش کیا۔اس پریس کانفرنس میں ڈی ایس پی تانڈور جی۔شیکھرگوڑ،سرکل انسپکٹران و سب انسپکٹران پولیس تانڈور اربن و رورل بھی موجود تھے۔

ضلع ایس پی مسٹر این۔کوٹی ریڈی نےبتایاکہ یالال منڈل کےگووند راو پیٹ کے ساکن مہیندراکر انیل کمار اور مادھا پور حیدرآباد کے ساکن تملا سنتوش نے یالال پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی تھی کہ ان کی موٹرسیکلیں تانڈور کےوینکوبا گارڈن فنکشن ہال سےچوری کرلی گئی ہیں۔جس کے بعد ضلع ایس پی نے پولیس کی ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی اورتحقیقات کا آغاز کردیا گیا۔

ضلع ایس پی این۔کوٹی ریڈی نے بتایا کہ کل اتوار کی شام یالال منڈل کے ہی لکشمی نارائن پور چوراہا پر یالال پولیس کی جانب سے گاڑیوں کی تلاشی لی جارہی تھی کہ بوئنی سری کانت،میاتری بھاسکر اور میاتری شیوا ایک موٹرسیکل پر وہاں پہنچے جب ان سے گاڑی کے دستاویزات پیش کرنےکے لیے کہا گیا تو انہوں نے وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کی۔تاہم یالال پولیس نے ان تینوں کواپنی تحویل میں لے کر اپنےحساب سے ان تینوں سے تفتیش کی تو ان کی جانب سے گزشتہ تین ماہ سے حیدرآباد اور تانڈور سے بڑے پیمانے پر گاڑیوں کے سرقہ کی وارداتوں کی انجام دہی اور ان کو فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا۔

ضلع ایس پی مسٹر نندیالا کوٹی ریڈی آئی پی ایس نے میڈیا کو بتایاکہ تانڈورکے یالال منڈل کےکمال پورموضع کے ساکن بوئنی سری کانت،میاتری بھاسکر اور میاتری شیوا تینوں آپس میں دوست ہیں جو کہ حیدرآبادمیں قیام کرتے ہوئے آٹورکشا چلاتے ہیں۔کم آمدنی سے پریشان ان تینوں نے پیسہ کمانے کےلئے گاڑیوں کی چوری کی وارداتوں کاآغاز کردیا۔اور ان تینوں نےموٹرسیکلوں کی چوریاں اور پھر ان کوفروخت کرکے رقم حاصل کرنا شروع کردیا۔

ضلع ایس پی نے بتایا کہ ان تینوں کا نشانہ پارکنگ کے مقامات پر مقفل موٹرسیکلیں ہوا کرتی تھیں اور نقلی چابیوں کے ذریعہ وہ گاڑیاں چوری کرتے تھے۔ضلع ایس پی مسٹر این کوٹی ریڈی نے بتایا کہ ان تینوں سارقوں بوئنی سری کانت،میاتری بھاسکر اور میاتری شیوا نے حیدرآباد کے مادھا پور علاقہ سے پانچ موٹرسیکلیں،کوکٹ پلی سے دو موٹرسیکل اور ایک آٹو رکشا،میاں پور سے دوموٹرسیکلیں،بنجارہ ہلزکے علاقہ سے تین،صنعت نگر سے دو، باچو پلی سے ایک آٹورکشا، چندا نگر علاقہ سے تین موٹرسیکلیں اور یوسف گوڑہ سے دو موٹرسیکلوں کا سرقہ کرلیا۔اس طرح ان تینوں سارقوں نے جملہ 20 موٹرسیکلوں اور دو آٹو رکشاوں کا سرقہ کیا۔

بعد ازاں ان تینوں نے پدیمول کے ساکن آنند کو کم قیمت پر 9 موٹرسیکلیں فروخت کرتےہوئے رقم آپس میں تقسیم کرلی۔ وہیں موضع اکم پلی کے ساکن مہیپال کوپانچ موٹرسیکلیں فروخت کیں۔جبکہ بوئنی سری کانت کے مکان سے تین موٹرسیکلیں اور ایک آٹو رکشا،میاتری بھاسکرکےمکان سے دو موٹرسیکلیں اور میاتری شیوا کے قبضہ سے تین موٹرسیکلیں اور ایک آٹو رکشا برآمد کرلیا گیا۔اور فروخت شدہ 14 موٹرسیکلیں پدیمول میں آنند کے پاس سے اور اکم پلی میں مہیپال کے قبضہ سے برآمد کرلی گئیں۔

ضلع ایس پی نے بتایا کہ ان تینوں سارقوں کے ساتھ چوری کی گئیں گاڑیاں خریدنے والے آنند اور مہیپال کے خلاف بھی کیس درج رجسٹرکیا گیا ہے۔ان موٹرسیکلوں اور آٹورکشاؤں کی جملہ قیمت 15 لاکھ روپئے سے زائد ہے۔

اس کیس کو حل کرنے اور سارقوں کی ٹولی کا پردہ فاش کرنے پر سب انسپکٹر یالال اروند اور ان کے ساتھی پولیس جوانوں کے لیے ریوارڈ کا اعلان کیا۔اس پریس کانفرنس میں سرکل انسپکٹر پولیس تانڈور(اربن)راجندرریڈی اور سرکل انسپکٹر پولیس تانڈور(رورل)رام بابو، سب انسپکٹران پولیس اروند اور وینوگوپال گوڑ کے علاوہ دیگر موجود تھے۔