وزیراعلیٰ تلنگانہ چندراشیکھرراو کا آج دورہ وقارآباد
احتجاج کے اعلان کے بعد کئی کانگریس،بی جے پی اور سی پی آئی قائدین گرفتار
چند اپوزیشن قائدین اور کارکن گھروں میں نظربند،پولیس کا سخت بندوبست
وقارآباد:16۔اگست(سحرنیوزڈاٹ کام)
وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراوآج 16 اگست کو وقارآبادضلع مستقر کا دورہ کررہے ہیں۔وزیراعلیٰ دوپہر دوبجے بیگم پیٹ ایرپورٹ سے بذریعہ ہیلی کاپٹر وقارآباد کے لیے روانہ ہوں گے۔اور 20-2بجے دفترضلع ایس پی وقارآبادکے احاطہ میں تعمیرکردہ ہیلی پیڈ پر اتریں گے۔ پہلے طئے کیا گیا تھا کہ وزیراعلیٰ کے سی آر بذریعہ سڑک وقارآباد پہنچیں گے۔تاہم آج اس پروگرام میں تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے۔
اپ ڈیٹ : وزیراعلیٰ آج سہء پہر ساڑھے تین بجے وقارآباد پہنچ چکے ہیں۔ہیلی پیڈ پرصدرنشین بلدیہ وقارآباد سی۔منجولا رمیش نے گلدستہ پیش کرتے ہوئے ان کا استقبال کیا۔اس موقع پر ریاستی چیف سیکریٹری سومیش کمار،رکن پارلیمان چیوڑلہ ڈاکٹر جی۔رنجیت ریڈی،رکن قانون ساز کونسل ڈاکٹر پی۔مہیندرریڈی،رکن اسمبلی وقارآباد ڈاکٹر میتکو آنند کے علاوہ ضلع کے ارکان اسمبلی اور پارٹی قائدین موجود تھے۔

طئے شدہ پروگرام کے تحت وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ 50-2 بجے وقارآباد میں تعمیر کردہ ٹی آر ایس بھون کا افتتاح انجام دیں گے۔بعدازاں وزیراعلیٰ 20-3 بجے سہء پہر وقارآباد کےاینے پلی میں جدید تعمیر کردہ”انٹیگریٹیڈ ڈسٹرکٹ آفسیس کامپلیکس(دفتر کلکٹریٹ)” کاافتتاح انجام دیں گے اور وقارآباد کے لیے منظورہ گورنمنٹ میڈیکل کالج کی تعمیر کے لیے سنگ بنیاد رکھیں گے۔جس کی تعمیرکے لیےریاستی حکومت کی جانب سے235کروڑ روپئے منظور کیے گئے ہیں۔بعدازاں وزیراعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ایک جائزہ اجلاس منعقد کریں گے۔
وزیراعلیٰ کے سی آر افتتاح کردہ دفترکلکٹریٹ کے گراونڈمیں شام 4 بج کر 35 منٹ تا شام پانچ بج کر 50 منٹ تک جلسہ عام میں شرکت کرتے ہوئے خطاب کریں گے اور شام 6 بجے حیدرآباد کے لیے بذریعہ ہیلی کاپٹر روانہ ہوجائیں گے۔ریاستی وزیرتعلیم و انچارج وزیر ضلع وقارآباد مسز پی۔سبیتااندرا ریڈی وزیراعلیٰ کے دورہ وقارآباد کے انتظامات کی نگرانی کررہی ہیں اور وہ وقارآباد میں ہی موجود ہیں۔
یاد رہے کہ وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراو ایک ایسے وقت ضلع وقارآباد کا دورہ کررہے ہیں جہاں وقارآباد اور تانڈور کی بلدیات کی صدور کی تبدیلی اور عہدوں کی منتقلی کے مسئلہ پر ٹی آر ایس پارٹی کے دوگروپوں میں شدید اختلافات زوروں پر ہیں۔امکان ہے کہ وزیراعلیٰ ان دونوں گروپس سے بھی بات کرتے ہوئے انہیں متنبہ کریں گے!!
وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراو کے دورہ وقارآبادکے پیش نظر پولیس نے انتہائی سخت حفاظتی اقدامات کیے ہیں۔اس سلسلہ میں آئی جی پی ویسٹ زون کملاس ریڈی آئی پی ایس نےکل شام اور آج وقارآباد پہنچ کرایس پی وقارآبادضلع این۔کوٹی ریڈی آئی پی ایس کی قیادت میں کیےگئے پولیس انتظامات کا جائزہ لیا۔

وزیراعلیٰ کےدورہ وقارآباد کے دوران 1600 ملازمین پولیس کے ساتھ سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ان کے علاوہ انٹلیجنس اوراسپیشل برانچ کے عہدیداروں اورملازمین اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ان انتظامات میں دیگراضلاع اور وقارآبادضلع کے 4 ضلع ایس پیز،6 ایڈیشنل ایس پیز، 14 ڈی ایس پیزکے علاوہ 63 سرکل انسپکٹران پولیس اور 146 سب انسپکٹران پولیس انتظامات پر مامور کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراو کے دورہ وقارآباد کے موقع پر مقامی اپوزیشن جماعتوں کانگریس،بی جے پی،سی پی آئی اور دیگرتنظیموں کے قائدین کی جانب سےان کے دورہ کے راستے اور جلسہ عام میں احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا۔جس کے پیش نظر پولیس نےاس سلسلہ میں اھتیاطی اقدامات کے طور پر آج صبح کی اولین ساعتوں میں وقارآباد اور دیگر منڈلات سے کئی کانگریسی،بی جے پی اور سی پی آئی قائدین کوتحویل میں لے کر مختلف پولیس اسٹیشنوں کو منتقل کردیا ہے۔اور دیگر قائدین کو ان کے مکانات پر نظربند کردیا ہے۔

اس سلسلہ میں سابق وزرا و سابق ارکان اسمبلی وقارآباد ڈاکٹر اے۔چندراشیکھر(بی جے پی)اورجی۔پرساد کمار(کانگریس)نے ویڈیو پیغامات جاری کرتے ہوئے اپنی پارٹیوں کے قائدین اور کارکنوں کی گرفتاری اور انہیں نظر بند کیے جانے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تمام گرفتار شدگان کو غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔اور ساتھ ہی مطالبہ کیاہے کہ وقارآبادضلع کی ترقی کےلیے وزیراعلیٰ آج اپنے دورہ کے موقع پر فنڈس کی اجرائی کا اعلان کریں۔


