حیدرآباد: پولیس کانسٹیبل عبدالقدیر نے سی پی آر کے عمل سے ایک نوجوان کی جان بچائی،راکیش برقی شاک کے بعد تشویشناک حالت میں مندر سے گرگیا تھا

حیدرآباد: پولیس کانسٹیبل عبدالقدیر نے سی پی آر کے عمل سے ایک نوجوان کی جان بچائی
راکیش برقی شاک کے بعد تشویشناک حالت میں مندر سے گرگیا تھا

حیدرآباد: 16۔جولائی(سحرنیوزڈاٹ کام)

پولیس کی شبیہ ذہن میں ابھرتے ہوئے لاٹھیوں اور گالیوں کی گونج سنائی دیتی ہے۔لیکن کئی مواقعوں پر یہی پولیس ہوتی ہےجواپنی قیمتی جانوں کو خطرہ میں ڈال کرکسی بھی مصیبت میں گرفتار انسانوں کو بچالیتی ہے۔سماج میں امن و امان کی برقراری،جرائم کی سرکوبی پولیس کا اہم کارنامہ ہوتا ہے۔ہر پولیس عہدیدار ظالم نہیں ہوتا بعض اؤقات عوام پرسختی کرنا بھی ان کی ڈیوٹی کا ایک حصہ ہوتا ہے!!۔کیونکہ وردی کے پیچھے بھی ایک انسان ہی ہوتا ہے۔

ایسے ہی ایک حیدرآباد کے وردی کے پیچھے موجود ہمدرد انسان پولیس کانسٹیبل عبدالقدیر کے کل سے سوشل میڈیا پرخوب چرچے ہیں۔جو ایک نوجوان کے لیے مسیحا ثابت ہوئے اور اس نوجوان کوہنگامی طبی امداد بہم پہنچاتے ہوئے اس کی سانسیں بحال کیں جو کہ برقی شاک لگنے کے باعث مندر کے اوپر سے نیچے گرچکا تھا اور وہاں موجودلوگ سمجھ رہے تھے کہ اس کی موت واقع ہوگئی ہے۔لیکن عبدالقدیر کی اس انسانی جان کی فکر اور حاضر دماغی کے باعث موت کے منہ میں جاچکا شخص زندہ بچ گیا تو وہاں موجود لوگ حیرت زدہ ہوگئے۔

حیدرآباد سٹی پولیس کے آفیشل ٹوئٹرہینڈل اور فیس بک پیج پر کل شام ایک 20 سیکنڈ کا ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے”ہمارا آج کا ستارہOur Star Of The Day# کے عنوان کے ساتھ اس واقعہ کی تفصیلات لکھی گئی ہیں۔اس ویڈیو کو حیدرآباد سٹی پولیس کے فیس بک پیج پر 58 ہزار سے زائد صارفین نے دیکھا ہے اور تین ہزار صارفین نے ستائشی کمنٹس کیے ہیں۔جبکہ ٹوئٹر پر دس ہزار سے زائد ٹوئٹر صارفین نے اس ویڈیو کو دیکھا ہے۔

حیدرآبادسٹی پولیس HyderabadCityPolice# کی جانب سے فراہم کردہ اطلاع کے مطابق 14 جولائی کودوپہر 2 بجے سکندرآباد کے ماریڈ پلی پولیس اسٹیشن سےوابستہ کانسٹیبل عبدالقدیر (پی سی نمبر3067) پولیس گاڑی میں ڈرائیور سریش ٹھاکر (ایس پی او 0498)کے ساتھ پٹرولنگ ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔

جب یہ دونوں پٹرولنگ کے دؤران شام 30-5 بجے سکندرآباد کے ماریڈ پلی کی میسماں مندر کے قریب پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک نوجوان جس کی شناخت سویندرمکر راکیش 25 سالہ کے طور پر ہوئی جو کہ پیشہ سے مزدور ہے۔وہ مین روڈ پر موجود میسماں مندر پر آنےوالے بونال تہوار کے پیش نظر آرائشی محراب نصب کررہا تھا کہ وہ برقی تار کی زد میں آگیا اور برقی شاک لگنے کے بعد مندر کی بلندی سے نیچے زمین پر گر گیا۔

جسے دیکھ کر فوری پولیس کانسٹیبل عبدالقدیر دؤڑتے ہوئے راکیش کے پاس پہنچ گئے اور” کارڈیو پلمونیری رسسائی ٹیشن”(سی پی آر) کا طریقہ استعمال کرتے ہوئے راکیش کے سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر اس کے دل کو زور زور سے پمپ کرتے ہوئے راکیش کی رکی ہوئی سانسیں بحال کیں۔اس طریقہ کار کو انگریزی میں Cardiopulmonary Resuscitation (CPR) کہا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ ” کارڈیو پلمونیری رسسائی ٹیشن”(سی پی آر) کے ذریعہ ہنگامی حالت میں مریض کو ہوش میں لانے کے لیے اس کے سینے کو دونوں ہاتھوں سے زور زور سے دباکر اور منہ سے منہ جوڑ کر سانس بحال کرنے کاعمل ہے.اگر یہ عمل اچھی طرح کیاجائے تو ایسے مریض جنہیں دل کا دورہ پڑاہو،ان کا دوران خون اور سانس بحال کرنے میں مدد ملتی ہے۔

اس کے بعد کانسٹیبل عبدالقدیر نے متاثرہ راکیش کو علاج کی غرض سے گاندھی اسپتال منتقل کیا۔جہاں اسےطبی امداد فراہم کرتے ہوئے اسے ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا۔اب اس نوجوان سویندر مکر راکیش کی صحت مستحکم ہے۔سوشل میڈیا پر پولیس کانسٹیبل عبدالقدیر کے اس جذبہ انسانیت کی جم کر ستائش کی جارہی ہے۔