کاما ریڈی میں ایک ہی خاندان کے چار افراد بشمول دو بچے
برقی تار کی زد میں آکر جاں بحق،وزیراعلیٰ نے کیا تعزیت کا اظہار
فی کس تین لاکھ روپئے کی امداد کا اعلان،تحقیقات اور کارروائی کا حکم
کاماریڈی:12۔جولائی(سحرنیوزڈاٹ کام)
ریاست تلنگانہ کے کاماریڈی ضلع کے دیون پلی پولیس اسٹیشن حدود میں موجود بیڑی ورکرس کالونی میں آج منگل کی دوپہر پیش آئے ایک روح فرسا واقعہ میں ایک ہی خاندان کے چار افراد برقی شاک لگنے سےجان بحق ہوگئے مہلوکین میں دو کمسن بچے بھی شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق دونوں بچے اپنے مکان کے قریب کھیل میں مصروف تھے کہ اتفاقی طور پر بدقسمتی سے وہ ایک برقی تار کی زد میں آگئے۔یہ منظر دیکھ کر قریب ہی موجود ان بچوں کے والدین اپنے بچوں کو بچانے کے لیے پہنچ گئے اور یہ دونوں بھی برقی رؤ کی زد میں آنے سے جاں بحق ہوگئے۔
مہلوکین کی شناخت محمد حماد (35سالہ)،پروین بیگم (30سالہ)،ماہم (6سالہ) اور عدنان (4سالہ)کے طور پرہوئی ہے۔اس دلسوز واقعہ کی اطلاع کے ساتھ ہی کاماریڈی میں غم واندوہ کی لہر دوڑ گئی۔آن واحد میں ہنستے کھیلتے بچوں سمیت اس طرح ایک ہی خاندان کے چار افراد کی المناک موت کے بعد مہلوکین کے رشتہ داروں،پڑوسیوں اورپورے موضع میں غم اور افسوس کی لہر دؤڑ گئی۔
اس واقعہ کی اطلاع کے ساتھ ہی دیون پلی پولیس نے جائے مقام پر پہنچ کرتفصیلات حاصل کیں۔بعدازاں ان چاروں مہلوکین کی نعشوں کو بعد پنچنامہ کاماریڈی کے سرکاری ہسپتال منتقل کردیا گیا۔اس سلسلہ میں دیون پلی پولیس ایک کیس درج رجسٹر کرکےتحقیقات میں مصروف ہے۔

کاماریڈی میں پیش آئے اس اندوہناک واقعہ کی اطلاع کے بعد چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے شدید افسوس اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعہ کے مہلوکین کے افراد خاندان کو فی کس تین لاکھ روپئے کی ایکس گریشیا جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔
چیف منسٹر نے عہدیداروں کواس معاملہ کی تحقیقات اور مقامی سطح پر کارروائی کا حکم دیا ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے حادثات کا اعادہ نہ ہو۔
چونکہ گزشتہ پانچ دنوں سے ریاست تلنگانہ شدید بارش کی لپیٹ میں ہے۔سڑکیں اور نشیبی علاقے تالابوں میں تبدیل ہوگئے ہیں تو عوام کے لیے بھی لازمی ہوگیا ہے کہ وہ چوکس رہیں۔بالخصوص بچوں اور عمررسیدہ افراد کو مکانات کے باہر نہ بھیجیں۔سڑکوں اورگلیوں میں موجود برقی کھمبوں کو نہ چھوئیں اور نہ ہی ان کے قریب جائیں۔ساتھ ہی درختوں اور سائن بورڈس کے نیچے بارش سے پناہ لینے کے لیے کھڑے ہوں۔اس سلسلہ میں سخت احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔

