تلنگانہ : جگتیال میں صحافیوں کی کار پانی میں بہہ گئی، ضمیر الدین کی تلاش جاری، کار میں سوار ایک اور صحافی محفوظ

تلنگانہ: جگتیال ضلع میں صحافیوں کی کار پانی میں بہہ گئی
ضمیرالدین کی تلاش جاری،کار میں سوار ایک اور صحافی محفوظ

جگتیال:12۔جولائی(سحرنیوزڈاٹ کام)

ریاست تلنگانہ کےضلع جگتیال میں آج شام دیرگئے ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا۔جہاں رائیکل منڈل کے موضع بورنا پلی میں دوپہر سے سیلاب کے پانی میں پھنسے ہوئے 9 زرعی مزدوروں کی خبر کاکوریج کرنے کی غرض سے جگتیال میں خدمات انجام دے رہے تلگو نیوز چینل این ٹی وی کے جواں سال صحافی محمدضمیر الدین کی موضع راما جی پیٹ میں اپنی کار سمیت ندی کے سیلابی پانی میں بہہ جانے کی اطلاعات ہیں۔

تفصیلات کےمطابق رائیکل منڈل کےموضع بورنا پلی میں 9 قبائلی زرعی مزدور سیلابی پانی میں پھنس گئےہیں۔جنہیں بحفاظت وہاں سے نکالنے کے لیے جگتیال ضلع انتظامیہ بچاؤ مہم میں مصروف ہے۔اس سلسلہ میں چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ ان مزدوروں کو سیلابی پانی سے بحفاظت نکالنے کے لیے ہیلی کاپٹر کا استعمال کیا جائے۔

اس سلسلہ میں جگتیال سے الیکٹرانک میڈیا کےصحافی مزدوروں کو سیلابی پانی سے نکالنے میں مصروف این ڈی آر ایف ٹیموں کی خبر کے کوریج کے لیے ایک کار میں روانہ ہوئے۔واپسی کےدوران آج رات 8:30بجے این ٹی وی کے صحافی محمدضمیر الدین اورسیدریاض علی ایک سوئفٹ ڈیزائر کار میں رائیکل منڈل کے بورناپلی گاؤں پہنچے اور اپنےموبائل فون میں فون لوکیشن ایکٹیوکرکے جگتیال لوٹ رہے تھے۔

جب ان کی کار راموجی پیٹ گاؤں پہنچی تو انہوں نے مین روڈ سے راستہ تبدیل کرتے ہوئے راموجی پیٹ،ایس سی کالونی سے ہوتے ہوئے بوپتی پور ایس سی کالونی کی جانب سفر کررہے تھے۔سڑک پر موجود بریج کے اوپر سے پانی بہہ رہا تھا جسےعبور کرنے کی کوشش کی تاہم سیلابی پانی کے شدید بہاؤ کی وجہ سے بدقسمتی سے ان کی کار سیلابی پانی میں بہہ گئی۔

اس کار میں موجود ایک صحافی سید ریاض علی کارسے چھلانگ لگاکرمحفوظ رہے اور وہ کسی طرح راموجی پیٹ پہنچ گئے۔بتایا جاتاہے کہ کار میں موجود دوسرے صحافی محمدضمیرالدین بھی اس کار سے کودنے میں کامیاب ہوگئے تھے تاہم ان کا اب تک کوئی سراغ نہیں چل پایا ہے۔

اس اطلاع کے بعد لاپتہ صحافی محمد ضمیرالدین کی تلاش کے لیے سرکاری طور پرخصوصی ٹیموں اور دیہاتیوں کی مدد سے تلاشی کا کام شروع کردیا گیا ہے۔

جواں سال صحافی محمد ضمیرالدین کے لاپتہ ہونے کی اس اطلاع کے بعد سے ان کے افراد خاندان، رشتہ داروں کے علاوہ جگتیال ضلع اور ریاست تلنگانہ کے صحافیوں اور عوام میں غم اورتجسس کی لہر دؤڑگئی ہے۔اور دعائیں کی جارہی ہیں کہ محمدضمیر الدین جہاں کہیں بھی رہیں صحیح سلامت رہیں۔اس سلسلہ میں سرکاری طور پر اور نیوز چینل انتظامیہ کی جانب سے رات 11 بجے تک بھی کسی بھی قسم کا کوئی مصدقہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔