پیغمبراسلام ﷺ کی شان میں گستاخی کے خلاف ملک کےمختلف شہروں میں نماز جمعہ کے بعد احتجاج، پریاگ راج میں پتھراؤ،لاٹھی چارج اور آنسوگیس کا استعمال

پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں گستاخی کے خلاف
ملک کے مختلف شہروں میں نماز جمعہ کے بعد احتجاج
پریاگ راج میں پتھراؤ،لاٹھی چارج اور آنسوگیس کا استعمال

نئی دہلی/حیدرآباد: 10۔جون
(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز )

آج نماز جمعہ کے بعد ملک کی کئی ریاستوں کے مختلف شہروں اور ٹاؤنس میں 26 مئی کو انگریزی کےنیشنل نیوز چینل ٹائمز ناؤ پر لائیو ڈیبیٹ کے دؤران بی جے پی کی قومی ترجمان نوپور شرما(جنہیں 5 جون کو پارٹی نے 6 سال کے لیے معطل کردیا ہے)پیغمبراسلام ﷺ،حضرت عائشہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)اور واقعہ معراجؐ کےمتعلق انتہائی گستاخانہ الفاظ کےاستعمال کےخلاف اوران کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے مسلمانوں نے زبردست احتجاج منظم کیا۔

https://twitter.com/Angryoldman_J/status/1535208257249107968

دہلی کی جامع مسجد،حیدرآباد کی مکہ مسجد،عزیزیہ مسجد مہدی پٹنم کےعلاوہ حیدرآباد کے دیگرمقامات پر،کرناٹک کے چکمگلور،بیلگام،پنجاب کے لدھیانہ، مہاراشٹراکے اورنگ آباد،نوی ممبئی،شولاپور،ناندیڑ،اترپردیش کےپریاگ راج،سہارنپور،لکھنؤ اور مرادآباد میں جبکہ تلنگانہ کےعادل آباد، تانڈور،میدک، گجویل،کورٹلہ،اوٹکور کے بشمول آندھرا پردیش کےمختلف اضلاع و ٹاؤنس میں بھی نوپورشرما کے خلاف بعد نماز جمعہ شدید احتجاج کیا گیا۔  

لیکن اترپردیش کے پریاگ راج(الہ آباد)کے اٹالہ میں مظاہرین اور پولیس کےدرمیان پتھراؤ کا واقعہ پیش آیا.جس کے ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ہیں۔میڈیااطلاعات کےمطابق پولیس نےمظاہرین پر لاٹھی چارج بھی کیا۔اور مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کرتے ہوئے آنسو گیس کے گولے داغے۔

کولکاتا سے ہوڑہ تک کل سڑکوں کو بند کرکےمسلمانوں نے نوپورشرما اورنوین جندال کے خلاف شدیداحتجاج کیا۔جس پرتنقید کی جارہی ہے کہ احتجاج کا یہ اسلامی طریقہ نہیں ہے!!اور نہ ہی یہ اسلامی تعلیم ہے۔کہاجارہا ہےکہ اس کےغلط اثرات مرتب ہونگے اورمسلمان ملک کے سیکولر طبقہ کی تائید سے محروم ہوجائیں گے۔میڈیا اطلاعات کے مطابق صبح 9 بجے سے ہی احتجاجیوں نےسڑکیں بند کردی تھیں۔جس کی وجہ سے 37 کلومیٹر طویل گاڑیوں کا جام لگ گیا تھا۔

نیشنل ہائی وے 116 مکمل طور پر مفلوج کرکے رکھ دیا گیا تھا۔جس کے باعث ایمبولنس،پولیس کی گاڑیاں اور دیگر ضروری اشیا سے لدی گاڑیاں بھی روک دی گئی تھیں۔

پریاگ راج میں حالات پر قابو پانے کے لیے زائد پولیس فورس طلب کرلی گئی ہے۔ڈی جی پی ڈی ایس چوہان اے ڈی جی لااینڈ آرڈر کے ساتھ اے سی ایس ہوم پولیس ہیڈ کوارٹر کنٹرول روم میں موجود ہیں۔میڈیا ذرائع کے مطابق آج دکانات بند کرنے کی بھی اپیل کی گئی تھی۔دوسری جانب اے ڈی جی لا اینڈ آرڈر اترپردیش مسٹر پرشانت کمار نے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ”آج امن ہے۔کئی مقامات پر نماز جمعہ ادا کی جاچکی ہے۔مسلم مذہبی رہنماؤں کی جانب سے بھی حمایت حاصل کی گئی ہے۔

پریاگ راج میں آج نمازجمعہ کے بعد پیش آئے پتھراؤکے واقعہ کے ویڈیو کو ری۔ٹوئٹ کرتے ہوئے نامور و سینئرصحافی اجیت انجم نے لکھا ہے کہ”احتجاج کرنا آپ کا دستوری حق ہے،احتجاج کریں،احتجاج کرنا آپ کا جمہوری حق ہے لیکن قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا نہیں۔پتھراؤ اور تصادم نہیں۔

 

صحافی اجیت انجم نے پریاگ راج کے اٹالہ کا ہی پتھراؤ والا ایک اورویڈیوری۔ٹوئٹ کرتےہوئے لکھا ہے کہ”ایسے بے لگام ہجوم اور پتھراؤ کے بعد اگر پولیس حرکت میں آجائے تو یہ کہنے کا کوئی حق نہیں کہ ہم مظلوم ہیں۔تم سمجھتے نہیں ہو،قانون سب کے لیے برابر ہے۔جو لوگ اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں وہ پولیس کو موقع فراہم کررہے ہیں کہ وہ لاٹھیوں کےاستعمال کے لیے ہول سیل ریٹ پر گرفتار کرلیں”۔

اسی طرح کرناٹک کے بیلگام کے فورڈ روڈ علاقے میں نوپورشرما کا علامتی پتلالٹکا ہوا پایا گیا۔پولیس نےاس پتلے کو نیچے اتارلیا ہے اور اس بات کی چھان بین میں مصروف ہے کہ یہ حرکت کس نے کی ہے۔اس واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں۔مقامی کارپوریٹرشنکر پاٹل نے پولیس کو اس کی اطلاع دی تھی۔مقامی بائیں بازوں گروپوں نے اس معاملہ میں کارروائی کا مطالبہ کیا۔

 

دوسری جانب جھاکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں بھی آج احتجاج کے دؤران پرتشدد واقعات کی اطلاع ہے۔جس میں پولیس ملازمین بھی زخمی ہوگئے۔

یاد رہے کہ بی جے پی کی قومی ترجمان نوپور شرما(جنہیں 5 جون کو پارٹی سے خارج کردیا گیا ہے)جبکہ مسلمانوں کی جانب سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ نوپور شرما اور نوین جندال کی صرف پارٹی سے معطلی اور اخراج ہی کافی نہیں ہے بلکہ انہیں گرفتار کیا جائے۔

نوپورشرما کی جانب سے اہانت رسولﷺکے خلاف اب تک زائد از 17 اسلامی ممالک ہندوستان سے اپنا احتجاج درج کرواچکے ہیں ان میں سے چند ممالک نے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔

نوپور شرما کی جانب سے ٹائمز ناؤ چینل پر اور بی جے پی کے ہی ایک اور ترجمان نوین جندال کی جانب سے ٹوئٹر پر اہانت رسولﷺ کے بعد ہونے والے احتجاج کو دیکھتے ہوئے بی جے پی نے 5 جون کوجہاں نوپور شرما کو 6 سال کےلیے پارٹی سےمعطل کردیا۔وہیں نوین جندال کو پارٹی سے خارج کردیا ۔جبکہ نوپورشرما پرممبئی میں ایف آئی درج کی گئی ہے۔وہیں دہلی پولیس نے بھی کل دیگرشخصیتوں کے ساتھ نوپورشرما پربھی ایف آئی آر درج کیا ہے۔