کسان حکومتوں کو بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں،ایک پلیٹ فارم پر آجائیں
300 شہید فوجیوں اور کسانوں کے افراد خاندان کو امدادی چیک حوالے
چندی گڑھ میں منعقدہ تقریب سے وزیراعلیٰ تلنگانہ چندراشیکھرراؤ کاخطاب
نئی دہلی/چندی گڑھ:22۔مئی(سحرنیوزڈاٹ کام/یجنسیز)
وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤنے کہاہے کہ اس ملک کے کسان حکومتوں کوبدلنے کی ناقابل تسخیر طاقت رکھتے ہیں۔انہوں نے مرکزی حکومت پر الزام عائد کیاکہ وہ مختلف طریقوں سے کسانوں کا خون پینے کی کوشش میں مصروف ہے اور ہم ہرگز ایسا ہونے نہیں دیں گے
وزیراعلیٰ تلنگانہ ان دنوں غیر بی جے پی وغیر کانگریسی حکومتوں کے سربراہان اور ملک کے اہم اپوزیشن قائدین سے ملاقات اور موجودہ ملکی حالات پر تبادلہ خیال کی غرض سے شمالی اور جنوبی ہند کے ایک ہفتہ طویل دؤرہ پر ہیں۔
انہوں نے کل سابق وزیراعلیٰ اترپردیش اکھلیش یادو سے ملاقات کی تھی،وہیں آج وزیراعلیٰ دہلی اروند کیجریوال اور وزیراعلیٰ پنجاب بھگونت مان سے ملاقات کی۔

وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ آج چندی گڑھ کے ٹیگور ہال میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کیا۔جس میں عام آدمی پارٹی سربراہ و وزیراعلیٰ دہلی اروند کیجریوال اور وزیراعلیٰ پنجاب بھگونت مان بھی شریک تھے۔
جبکہ گزشتہ رات وزیراعلیٰ تلنگانہ نے این ڈی ٹی وی کے سربراہ پرانئے رائے کے مکان پہنچ کر ملاقات کرتے ہوئے ان سے اور ان کی اہلیہ سے ملک کے موجودہ حالات پر بات کی۔

اس تقریب میں مرکزی حکومت کے تین قوانین کے خلاف دہلی کی تین سرحدوں پر ایک سالہ طویل جدوجہد کے دؤران اور گلوان وادی میں چین کےحملہ میں شہید ہونے والے پنجاب کے فوجیوں کے افراد خاندان بھی شریک تھے۔
اس تقریب میں وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندرا شیکھرراؤ نے 600 خاندانوں میں فی کس تین لاکھ روپئے مالیتی امدادی چیک حوالے کیے جس کا انہوں نے پہلے ہی اعلان کیا تھا۔
اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ تلنگانہ نے کہا کہ موجودہ ملکی حالات دیکھ کر شدید افسوس ہوتا ہے کہ آزادی کے 75سال بعد بھی ملک کی حالت ایسی ہے۔ہرکسی کو ہر کام کے لیےمشقت کرنی پڑرہی ہے،کئی مسائل ہیں جن کے لیے لڑناپڑتا ہے،شہادت دینی پڑتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہرملک میں مسائل موجود ہوتے ہیں لیکن ہمارے ملک جیسے مسائل دنیا کے کسی اورملک میں نہیں ہیں۔
وزیراعلیٰ تلنگانہ کے چندراشیکھرراؤ نے اس تقریب میں موجود شہید کسانوں اور فوجیوں کے خاندانوں کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں نے اپنے قوانین کو واپس لینے پر مجبور کرنے کے لیے مرکزی حکومت کے خلاف جدوجہد اور لڑائی کرنے والوں کو سلام۔انہوں نے کہا کہ گلوان وادی میں اور کسان جدوجہد کے دؤران جو فوجی شہید ہوئے ہیں ان کوہم واپس نہیں لاسکتے لیکن ہم ہمدردی ضرور جتاسکتے ہیں اور ایسی ہمدردی رکھنے والے لوگ ملک میں بہت لوگ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کی زمین سے بھگت سنگھ جیسے مجاہد آزادی پیدا ہوئے۔آزادی کی جنگ میں پنجاب کی قربانیاں ناقابل نظرانداز ہیں ساتھ ہی ملک میں قحط سالی کے دؤران پنجاب کے کسانوں کی جانب سے اناج کی پیداوار ناقابل فراموش ہے۔اوران تمام خدمات کو سنہرے الفاظ میں لکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ گلوان میں شہید ہونے والوں میں تلنگانہ اور پنجاب کے فوجی بھی شامل ہیں۔

وزیراعلیٰ نے اپنے اس خطاب میں کہا کہ ریاست تلنگانہ کے قیام سے پہلے کسانوں کی حالت انتہائی ابتر ہوا کرتی تھی۔کسانوں کی خودکشی عام تھی،انہیں برقی میسر نہیں تھی۔لیکن تشکیل تلنگانہ کے بعد ہر شعبہ کو بلا وقفہ برقی سربراہ کی جارہی ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ کسانوں کو دی جانے والی مفت برقی پر میٹر لگانے کی مرکزی حکومت ہدایت دے رہی اور ہم نے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چاہے ہماری جان چلی جائے لیکن برقی میٹر ہرگز نہیں لگائے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیےکسانوں کا احتجاج پورے ملک میں جاری رہنا چاہئے۔اور اپنا خون پسینہ بہاکر ملک میں اناج پیدا کرنے والے کسانوں کو ان حق ملنا ہی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے کسان ایک پلیٹ فارم پر آجائیں،ہم سب کسانوں کا ساتھ دیں گے۔
"وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ چندی گڑھ کےٹیگورہال میں گلوان وادی کے شہید فوجیوں اور ایک سالہ احتجاج میں جاں بحق ہونے والے کسانوں کے افراد خاندان سے خطاب کرتے ہوئے”
https://www.facebook.com/KalvakuntlaChandrashekarRao/videos/252247887103335

