نئی دہلی: 19۔مئی (سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
نکہت زرین جن کا تعلق ہندوستان کی ریاست تلنگانہ کے نظام آباد شہر سے ہے۔نے آج جمعرات کو استنبول،ترکی میں منعقدہ فلائی ویٹ فائنل میں تھائی لینڈ کی جیتپونگ جوٹاماس کو شکست دے کر خواتین کی عالمی چمپئن شپ میں 52 کلوگرام کے زمرہ میں سونے کاتمغہ حاصل کرتے ہوئے ملک،قوم اور ریاست کا سر فخر سے اونچا کردیا ہے۔
اس طرح نکہت زرین میری کوم،سریتا دیوی،جینی آر ایل اور لیکھا کے سی کے بعد عالمی چیمپئن شپ میں طلائی تمغہ جیتنے والی صرف پانچویں ہندوستانی خاتون باکسر بن گئیں۔
25 سالہ نکہت زرین سابق جونیئر یوتھ ورلڈ چیمپئن ہیں۔فائنل میں اپنی تھائی حریف کے خلاف،نکہت زرین نے شاندارمقابلہ کیا اورسونے کا تمغہ اپنے نام کرتے ہوئے ملک کا سر بلند کردیا۔
وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ”ہمارے باکسرس ہمیں قابل فخر بنادیا۔وزیراعظم نے باقاعدہ نکہت زرین کو ٹیگ کرتے ہوئے گولڈ میڈل حاصل کرنے پر مبارکباد دی ہے اور ساتھ ہی انہوں نے منیشا موؤن اور پروین ہوڈا کو بھی براؤنز میڈلس حاصل کرنے پر مبارکباد دی ہے۔
نکہت زرین ٹاپ فارم میں تھیں کیونکہ انہوں نے اپنی تکنیکی ذہانت کا بہترین استعمال کرتے ہوئے اپنی حریف کو پیچھے چھوڑنے کے لیے کورٹ کا خوب احاطہ کیا۔نکہت زرین پہلے راؤنڈ میں تمام ججوں کومتاثر کرنے میں کامیاب رہیں۔کیونکہ انہوں نےتھائی باکسر سےکہیں زیادہ مکے لگائے۔دوسرا راؤنڈ سخت تھا اور جیتپونگ نے اسے 3-2 سے جیت لیا۔
فائنل راؤنڈ میں اپنی طرف سے صرف ایک جج کو حاصل کرنے کی ضرورت تھی،نکہت زرین نے رِنگ میں داخل ہوکر بلآخر اپنی مخالف کے خلاف 0-5 کا متفقہ فیصلہ کن ریکارڈ اپنے نام کرلیا۔
نکہت زرین نے اپنی طویل رسائی کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور تھائی باکسر کے خلاف اپنا تسلط برقرار رکھا،جسے انہوں نے 2019کے تھائی لینڈ اوپن سیمی فائنل میں شکست دی تھی۔
ہندوستانی باکسر نکہت زرین نے خواتین کی عالمی باکسنگ چیمپئن شپ میں ملک کے لیے واحد گولڈ میڈل جیتا۔ہندوستان کی ریاست تلنگانہ کے نظام آباد شہر کی گلیوں سے نکل کر اس باحوصلہ باکسر لڑکی نے یہ مقابلہ یکطرفہ انداز میں 0-5 سے جیتا۔خواتین کی عالمی چمپئن شپ میں ہندوستان کو 4 سال بعد سونے کا تمغہ حاصل ہوا ہے۔اس سے قبل 2018 میں ایم سی میری کوم چیمپئن بنی تھیں۔
نکہت زرین کی جانب سے عالمی باکسنگ چیمپئن شپ میں ملک کے لیے واحد گولڈ میڈل جیتنے کے بعد میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس خبر کے ساتھ ان کی تصاویر کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ملک و ریاست تلنگانہ کے علاوہ نکہت زرین کے آبائی شہر نظام آباد اور حیدرآباد میں بھی جشن کا ماحول ہے۔
اس سلسلہ میں آج رات سحرنیوزڈاٹ کام http://www.sahernews.com کےخصوصی نمائندہ نے نظام آباد شہر میں موجود نکہت زرین کے ماموں جناب قدیر خان کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان سے نکہت زرین کے متعلق تفصیلات حاصل کیں۔
جناب قدیر خان نے بتایا کہ نکہت زرین کے والد جناب جمیل احمد اور والدہ پروین سلطانہ کو جملہ چار لڑکیاں ہیں۔جن میں ملک کا نام روشن کرنے والی نکہت زرین کا نمبر تیسرا ہے۔نکہت زرین کی دو بڑی بہنیں ڈاکٹر ثانیہ امرین حیدرآباد کے ایشین گیسٹرو ہسپتال میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔جبکہ ایک اور بڑی بہن ڈاکٹر انجم منہاز اپولو ہسپتال حیدرآباد میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔
آج دختر تلنگانہ نکہت زرین کی جانب سے خواتین کی عالمی باکسنگ چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل حاصل کرنے پر وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے خوشی اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی ہے۔
جبکہ نکہت زرین کی چھوٹی بہن افنان زرین بھی حال ہی میں بیڈمینٹن میں نیشنل چمپئن شپ حاصل کرچکی ہیں اور ڈگری میں زیرتعلیم ہیں۔

عام متوسط طبقہ اور قدامت پسند خاندان سے تعلق رکھنے والی نکہت زرین نے دسویں جماعت تک نظام آبادکے نرملا اُدیہ کانوینٹ اسکول(برائے طالبات) میں تعلیم حاصل کیں۔بعدازاں انہوں نے کاکتیہ انسٹیٹیوٹ نظام آباد سے انٹر میڈیٹ اور ڈگری کی تکمیل کی۔
جناب قدیر خان نے بتایا کہ نکہت زرین بشمول دیگر دو بہنیں نظام آباد کے محلہ پھولانگ پیدا ہوئیں بعدازاں ونائیک نگر میں اپنی نانی محترمہ فاطمہ بی کی زیرپرورش اور زیر نگرانی رہیں ان کے والد جناب جمیل احمد اور والدہ محترمہ پروین سلطانہ اپنی چھوٹی دختر افنان زرین کے ساتھ خلیجی ملک میں مقیم تھے۔نکہت زرین کی نانی محترمہ فاطمہ بی کاگزشتہ سال انتقال ہوگیا نکہت زرین اپنی نانی کے بہت قریب تھیں۔

بعدازاں والدین کے خلیجی ملک سے واپس ہونے کے بعد یہ خاندان حیدرآباد کے منی کونڈا میں مقیم ہوگیا۔
نکہت زرین نے نظام آباد میں جناب صمصام الدین سے باکسنگ کی تربیت حاصل کی بتایا جاتا ہے کہ اس وقت نکہت زرین کو اتنی سہولتیں اور ذرائع میسر نہیں تھےلیکن اس حوصلہ مند لڑکی نے ان مساعد حالات میں بھی اپنے ہدف کا تعاقب جاری رکھا۔سابق رکن پارلیمان نظام آباد محترمہ کے۔کویتا بھی وقفہ وقفہ سے ان کی ہمت افزائی کرتی رہیں۔
بالآخر 12 سالہ صبر آزما اور طویل سفر طئے کرتے ہوئے وہ آج عالمی چمپئن بن گئیں۔بقول نامور بشیر بدر؎
جس دن سے چلا ہوں مِری منزل پہ نظر ہے
آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا
اس طرح جہاں نکہت زرین ملک،ریاست اور قوم کے لیے قابل فخر بن گئی ہیں وہیں قدم قدم پر ان کی حوصلہ و ہمت افزائی کرنے والے ان کے والدین اور دیگر رشتہ دار بھی قابل مبارکباد ہیں۔
جناب صمصام الدین آج بھی نظام آباد کے کلکٹریٹ گراؤنڈ میں محض نوجوانوں میں کھیل کے جذبے کو پروان چڑھانے کی غرض سے گزشتہ 50 سال سے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔جن کے فرزند حسام الدین بھی ایک مقبول باکسر ہیں جنہوں نے کئی میڈل حاصل کیے ہیں۔

