سماج وادی پارٹی رہنما اعظم خان کوسپریم کورٹ سے عبوری ضمانت
فرزند عبداللہ اعظم خان نے کہا سپریم کورٹ زندہ آباد،جلد رہائی
اہلیہ نے کہا سچائی کی جیت اور شیوپال یادو نے کہا عدالتی نظام امید کی کرن
نئی دہلی:19۔مئی(سحرنیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)
سپریم کورٹ نے اپنے سامنے پیش کیے گئے غیرمعمولی حقائق کا حوالہ دیتے ہوئے آج سماج وادی پارٹی کے رہنما سابق رکن پارلیمان و موجودہ رکن اسمبلی اعظم خان کو دھوکہ دہی کے ایک معاملہ میں عبوری ضمانت دے دی۔عبوری ضمانت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ ان کی باقاعدہ ضمانت کی درخواست پر فیصلہ نہیں ہو جاتا۔اب ان کی رہائی کا راستہ صاف ہو جاتا ہے۔
عدالت نے کیس کے عجیب و غریب حقائق کے پیش نظر اعظم خان کو راحت فراہم کرنے کے لیے آرٹیکل 142 کا حوالہ دیا۔آرٹیکل 142 سپریم کورٹ کو فریقین کے درمیان مکمل انصاف کرنے کے لیے ایک خصوصی طاقت فراہم کرتا ہے۔جہاں بعض اوقات قانون یا قانون کوئی علاج فراہم نہیں کرسکتا۔یہ معاملہ رام پور پبلک اسکول سے متعلق مبینہ زمین پر قبضہ اور جعلسازی سے متعلق ہے۔ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اسکول کی شناخت حاصل کرنے کے لیے عمارت کے سرٹیفکیٹ میں جعلسازی کی۔
معزز سپریم کورٹ کی جسٹس ایل این راؤ،بی آر گوائی اور اے ایس بوپنا پر مشتمل تین رکنی بنچ ایک رٹ درخواست کی سماعت کر رہی تھی۔بنچ نے قبل ازیں الہ آباد ہائی کورٹ کی طرف سے اعظم خان کی ضمانت کی درخواست کو نمٹانے میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا۔
سماج وادی پارٹی کے مضبوط ستون کی اہمیت رکھنے والے اعظم خان 2020 سے سیتا پورجیل میں قید ہیں۔عدالت نے منگل کو اس معاملہ میں اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔اتر پردیش حکومت نے عدالت کو بتایا تھا کہ اس معاملے کے تفتیش کاروں کو دھمکیاں دی گئی ہیں۔پولیس نے کہا کہ جب اعظم خان کی گواہی ریکارڈ کی گئی تھی تب بھی انہیں مبینہ طور پر دھمکیاں دی گئی تھیں۔
سینئرقائد اعظم خان کو ضمانت دئیے جانے کے بعد ان کے فرزندورکن اسمبلی عبداللہ اعظم خان نے اپنے ٹوئٹ میں”سپریم کورٹ زندہ آباد” لکھا ہے۔
جس پر اعظم خان کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے عدالت کو بتایا کہ اعظم خان گزشتہ دو سال سے جیل میں ہیں اور اس طرح ان کی جانب سے کسی کو دھمکی دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
جاریہ ماہ کے آغاز میں سپریم کورٹ کی سخت سرزنش کے بعد الہ آباد ہائی کورٹ نے اعظم خان کو زمین پر قبضے کے معاملے میں ضمانت دے دی۔سپریم کورٹ نے قبل ازیں زمین پر قبضہ کیس میں اعظم خان کی درخواست ضمانت پر فیصلہ کرنے میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ "یہ انصاف کے ساتھ کھلواڑ ہے”۔

سابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادو کی زیرقیادت سماج وادی پارٹی کا ایک نمایاں مسلم چہرہ اور پارٹی کے مضبوط لیڈروں میں سے ایک اعظم خان کے خلاف اترپردیش میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کے خلاف کئی مقدمات درج کیے گئے تھےجن کی تعداد 100 سے زائد بتائی گئی ہے۔
اعظم خان رام پور سے 2019 کے لوک سبھا انتخابات اور جیل سے 2022 کے ریاستی انتخابات جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔سابق وزیر مملکت،سابق رکن لوک سبھا اور موجودہ رکن اسمبلی اعظم خان کو 89 مختلف مقدامات میں سے 88 مقدمات میں ضمانت مل گئی لیکن ان کے خلاف نئے مقدمات درج کیے جاتے رہے۔
سابق وزیراعلیٰ اترپردیش و بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے 12 مئی کو متواتر کیے گئے اپنے تین ٹوئٹس میں لکھا تھا کہ” یوپی حکومت کی جانب سے اپنے مخالفین پرمسلسل نفرت انگیز اوردہشت گردانہ کارروائیاں کرنے اورسینئر ایم ایل اے محمداعظم خان کو تقریباً ڈھائی سال تک جیل میں رکھنے کا معاملہ خبروں میں ہے،جو کہ لوگوں کی نظر میں انصاف کا گلا گھونٹنے والا نہیں تو اور کیا ہے؟
اسی طرح سابق وزیراعلیٰ ملائم سنگھ یادو کے چھوٹے بھائی و سیاستداں "شیوپال سنگھ یادو”نے اپنے ایک ٹوئٹ میں آج سینئر قائد اعظم خان کو سپریم کورٹ کی جانب سے ضمانت منظور کیے جانے پر لکھا ہے کہ”
ستیہ میوا جیتے۔
انصاف کا طویل انتظار آج پورا ہوا۔
اعظم خان صاحب کو سپریم کورٹ نے عبوری ضمانت دے دی۔
انہیں نظام کے صریح جبر سے انصاف ملا ہے۔
ہندوستان کا عدالتی نظام امید کی کرن ہے۔
سلام "

