تلنگانہ کو ایک اور بنگال بنایا جارہا ہے، "نظام” بدلنا ضروری، اقتدار پر آئے تو اقلیتوں کا دیا جارہا ریزرویشن ختم کیا جائے گا، ریاست مقروض: مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ

تلنگانہ کو ایک اور بنگال بنایا جارہا ہے،” نظام ” بدلنا ضروری
اقتدار میں آئے تو اقلیتوں کو دیا جارہا "ریزرویشن”ختم کیا جائے گا
ریاست مقروض،گاڑی کا اسٹیئرنگ اویسی کے ہاتھ میں
حیدرآباد میں جلسہ عام سے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کا خطاب

حیدرآباد: 14۔مئی(سحرنیوزڈاٹ کام)

مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ نے ریاست تلنگانہ کو ایک اور بنگال بنایا جارہاہے۔انہوں نے الزام عائد کیا وزیراعلیٰ کی نااہلی کے باعث ریاست تلنگانہ مقروض ہوگئی ہے۔اور وزیراعلیٰ اب مزید قرض کا مطالبہ کررہے ہیں۔امیت شاہ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اپنی 57 سالہ سیاسی زندگی میں اتنی نکمی اور رشوت خور حکومت کبھی نہیں دیکھی۔

مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ نے اپنےخطاب میں دعویٰ کیا کہ گزشتہ 8 سال کے دؤران مرکز کی مودی حکومت نےریاست تلنگانہ کو”2 لاکھ 52 ہزار 282 کروڑ روپئے دئیے ہیں۔

ساتھ ہی مرکزی وزیرداخلہ نے ریاست کی تمام اسکیمات پر اپنا دعویٰ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرکز کی ساری اسکیمات بشمول ہریتا ہارم، ڈبل بیڈروم مکانات کو وزیراعلیٰ اپنا نام دے رہے ہیں۔امیت شاہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مودی حکومت کی جانب سے شروع کی گئی سماگرا شکشا ابھیان اسکیم کو بھی منابڈی منا اوورو کا نام دیا گیا ہے۔مرکزی حکومت کے کروڑہا روپئے کے فنڈس کا غلط استعمال کیا جارہا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ آج شام حیدرآباد کے تکو گوڑہ میں صدر تلنگانہ بی جے پی بنڈی سنجے کمار کی دوسرے مرحلہ کی پرجا سنگرام یاترا کی اختتامی تقریب کے موقع پر منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے سی آر کو اپنی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

اپنے خطاب میں وزیرداخلہ امیت شاہ نے کہا کہ ایس سی اور ایس ٹی طبقات کے تحفظات میں کٹوتی کرکے اقلیتوں کوتحفظات کی فراہمی کے باعث ایس سی اور ایس ٹی طبقات کو نقصان پہنچ رہاہے۔اس لیے بی جے پی تلنگانہ میں اقتدار پر آئے گی تو تلنگانہ میں اقلیتوں کو دئیے جارہے تحفظات Reservation کوختم کردیا جائے گا۔

امیت شاہ نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ میں بی جے پی کارکنوں کا قتل کیا جارہا ہے اور وزیراعلیٰ چندراشیکھرراؤ تلنگانہ کو بنگال بنانا چاہتے ہیں اور اس کے لیے انہیں روکنا ہوگا۔

اس جلسہ کی خصوصیت یہ رہی کہ امیت شاہ کے خطاب سے قبل صدر تلنگانہ بی جے پی بنڈی سنجے کمار نے”رو رو کر عوام سے اپیل کی کہ کانگریس کو موقع دیا گیا،تلگودیشم کو موقع دیا گیا،ٹی آرایس کو موقع دیا گیا صرف ایک بار تلنگانہ میں بی جے پی کو موقع دیں۔انتہائی گلوگیر آواز میں ریاستی صدر بی جے پی بنڈی سنجے کمار نے کہا کہ پارٹی کارکن دن رات محنت کررہے ہیں،ان کے خلاف ناقابل ضمانت کیس درج کیے جارہے ہیں،انہیں جیلوں کو بھیجا جارہا ہے” پلیز، پلیز، پلیز ایک بار بی جے پی کو موقع دیں”

مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے اپنے خطاب میں کہاکہ تلنگانہ میں”نظام”بدلنا ہے۔کیونکہ حکومت”رضاکاروں کی گود میں بیٹھی ہوئی ہے”اور وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ کے اقتدار کے ساتھ مجلس کو بھی اکھاڑ کر پھینکنا ضروری ہے۔امیت شاہ نے ٹی آر ایس پارٹی کےمختلف انتخابی وعدوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ بیروزگاروں کو ملازمتیں نہیں دی گئیں،بیروزگاری بھتہ نہیں دیا گیا،تین ایکڑ اراضی نہیں دی گئی۔انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں چار اسپیشالٹی ہسپتال بنانا تھا وہ بھی نہیں بنے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ مجلس کے خوف سے وزیراعلیٰ کے سی آر نے جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کی مخالفت کی تھی اور ہر سال یوم آزادی حیدرآباد منانے سے خوفزدہ ہیں جبکہ سردارپٹیل کی وجہ سے ریاست اور حیدرآباد اس ملک کا حصہ ہیں۔ساتھ ہی مرکزی وزیر داخلہ نے یہ ریمارک بھی کیا کہ”ٹی آر ایس کی گاڑی کا اسٹیئرنگ اویسی کے ہاتھ میں ہے” 

امیت شاہ نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ میں خاندانی سیاست چل رہی ہے وزیراعلیٰ نے اپنے بیٹے اور بیٹی کو اختیارات سونپ دئیے ہیں۔اور ریاست میں اربوں کھربوں روپیوں کی بدعنوانیاں ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے سی آر فارم ہاؤز میں بیٹھ کر ریاست میں قبل ازوقت اسمبلی انتخابات کے انعقاد کا منصوبہ بنارہے ہیں اور انتخابات جب بھی ہوں اس کے لیے بی جے پی پوری طرح تیار بیٹھی ہے اور ٹی آر ایس کی شکست دیوار پر لکھی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت آئی تو تلنگانہ صرف بی جے پی کی نوجوانوں کو روزگار دے سکتی ہے۔

مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ نے اپنے خطاب میں الزام عائد کیا کہ حیدرآباد میں سائنس سٹی کے قیام کے لیے 25 ایکڑ اراضی طلب کی گئی تو نہیں دی گئی،جبکہ ورنگل میں سینک اسکول کے قیام کے لیے بھی اراضی نہیں دی گئی۔انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ تلنگانہ میں بی جے پی اقتدار پر آئی تو دھان کی اقل ترین قیمت طئے کی جائے گی،کسانوں سے دھان بھی حکومت خریدے گی۔