تانڈور کی دو عیدگاہوں میں ہزاروں فرزندانِ توحید نے تزک و احتشام کے ساتھ نمازعیدالفطر ادا کی، ایم ایل سی اور ایم ایل اے کی مبارکباد

ہر اِک درد کی شدت چھپائی گئی
عید تو عید ہے آخر منائی گئی

تانڈور کی عیدگاہوں میں ہزاروں فرزندانِ توحید نے
تزک و احتشام کے ساتھ نماز عیدالفطر ادا کی
ایم ایل سی،ایم ایل اےاور دیگر قائدین نے مبارکباد دی

وقارآباد/تانڈور:03-مئی(سحرنیوزڈاٹ کام)

سال 2020-2021 میں کورونا وبا کی پہلی،دوسری اور تیسری لہر اور اس کے قہرکے دؤران حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن،پھر کوویڈ قواعد کے لزوم کے باعث عیدگاہوں اور مساجد میں نمازوں اور عیدین کی نمازوں کی ادائیگی کی اجازت نہ دئیے جانے کے باعث ضلع وقارآباد کے شہر کے تانڈورمسلمانوں نے بھی پنچگانہ نمازوں،تراویح اور عیدالفطر کی دو نمازیں اورعیدالاضحیٰ کی ایک نماز اپنے اپنے مکانات میں ادا کی تھی۔

جس کے باعث تانڈور میں دس ایکڑ اراضی پر اور حیدرآباد روڈ پر موجود تین ایکڑ اراضی پر موجود عیدگاہیں سنسان نظر آئے تھے۔جبکہ مساجد میں بھی ویرانی چھائی ہوئی تھی۔پہلی مرتبہ مسلمانوں نے اپنی چشمِ گناہ گار سے ایسے دل شکن نظارے دیکھے تھے۔

اس سلسلہ میں اس وقت جب ایک بزرگ سے پوچھا گیا کہ ان کی حیات میں ایسا موقع کبھی آیا تھا؟ تو ان کا جواب تھا کہ ان کی تین نسلیں جوان اور صاحب اؤلادہوگئیں لیکن آج تک ایسا کبھی نہیں ہوا کہ عام دنوں میں مساجد میں نماز پنچگانہ کی ادائیگی،ماہِ رمضان میں تراویح اور عیدالفطر کے دن عیدگاہ میں نمازیں نہ پڑھی گئی ہوں۔

تھوڑا سا تاریخ پرنظر ڈال لی جائے تو پتہ چلتا ہیکہ 1899ء میں اس وقت نظام دؤرحکومت میں ضلع گلبرگہ(کرناٹک) کا حصہ رہے تانڈور میں بھی ملک میں انگریز دؤر حکمرانی کے دؤران ہانگ کانگ سے پھیلنے والی طاعون (پلیگ) جیسی مہلک وباءکے دؤران بھی مساجد میں نماز پنچگانہ اور عیدگاہ میں نماز عید کی ادائیگی پر ایسی کوئی پابندی عائد نہیں تھی۔مورخین بھی بتاتے ہیں کہ حیدرآباد کی تاریخی مکہ مسجد کی تعمیر کے 400 سالہ تاریخ میں کبھی بھی اجتماعی عبادات پر پابندی عائد نہیں تھی۔تاہم کورونا وبا کی روک تھام کے لیےانسانی فاصلہ قائم رکھنے کیلئے حکومتوں کو لازمی ہوگیا تھا کہ وہ تمام مذاہب کی عبادت گاہوں میں عبادات پر پابندی عائد کردے۔

اب جبکہ اس سال 2022 میں ملک اور ریاست میں کورونا وبا کی شدت نہیں ہے۔لیکن گزشتہ تین ماہ سے مذہبی منافرت اور فرقہ پرستی کا وائرس بے قابو ہوگیا ہے!!

ریاست کرناٹک میں مسلم طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی،راجستھان میں تشدداور فساد،کبھی دھرم سنسد کے ذریعہ 20 لاکھ مسلمانوں کی نسل کشی کی دھمکیاں،تو بالخصوص ماہ رمضان کےآغازسے ہی حلال گوشت پر پابندی،چھوٹے مسلم بیوپاریوں کے بائیکاٹ،ان پر حملے،مساجدکے لاؤڈ اسپیکرس سے اذاں پر پابندی کی مہم،مساجد کے سامنے ہنومان چالیسیہ پڑھنے اور پھر 10 اپریل کورام نومی اور 16 اپریل کو ہنومان جینتی کی شوبھایاتراؤں کے دؤران مساجد کے روبرو اشتعال انگیز نعروں،پھر پتھراؤ،کھلے عام پولیس کی موجودگی میں تلواروں اور بندوقوں کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف شدید قابل اعتراض نعروں اور دھمکیوں،مسجد کے سامنے پولیس کی سیکیورٹی میں بجرنگ منی

کی جانب سےمسلمانوں کی بیٹیوں اور بہوؤں کو مکانات سے نکال کرعصمت ریزی کی دھمکی،مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے کھرگون میں بلڈوزروں کے ذریعہ مسلمانوں کے مکانات اور دکانات کو زمین بوس کرنا،پھر دہلی کےجہانگیر پوری میں بھی شوبھایاترا پرپتھراؤ کے الزام کے فوری بعد بلڈوزروں کی مدد سےسینکڑوں مسلمانوں کو بے گھر اور بے روزگار بنانے کے علاوہ ملک کی دیگر ریاستوں میں اور گودی میڈیاکے ذریعہ مسلمانوں کے خلاف روز ایک نفرت انگیز مہم سے ملک کا مسلمان رنجیدہ ضرور ہوا۔لیکن مایوس یا خوفزدہ ہرگز نہیں ہوا۔وہیں اس مذہبی منافرت اور اشتعال انگیزی کے خلاف اس ملک کے کروڑوں برادران وطن ہمارے ساتھ کھڑے تھے جو کہ ہماری اور اس ملک کی اصل طاقت ہیں۔ آج ملک بھر میں ہمیشہ کی طرح مسلمانوں نے اسی تزک و احتشام کے ساتھ عیدالفطر منائی۔

" عیدگاہ تانڈور چنگیز پور روڈ پر نماز عیدالفطر کی ادائیگی کا خوبصورت منظر اور تفصیلی رپورٹ اس ویڈیو میں "

لیکن آنے والا مورخ جب بھی اس دؤر کی تاریخ رقم کرے گا تو یہ ضرور لکھے گا کہ جب اس ملک میں مسلمان شدت کی گرمی کے دؤران بھی 13 گھنٹے بھوکا اور پیاسا روزہ کی حالت میں اس ملک میں امن و چین کی دعائیں مانگ رہا تھا۔اس وقت اس کو نسل کشی کی دھمکیاں دی جارہی تھیں۔اور سرکاری بلڈوزر اس کے آشیانوں کو تباہ و برباد کررہے تھے۔اور اس قوم کے روزہ داروں پر پولیس لاٹھیاں برساتے ہوئے جیلوں میں ٹھونس رہی تھی۔

ساتھ ہی پہلے ہی سے جیل میں قید تین مسلم نوجوانوں پر،ایک دو ہاتھ سےمحروم غریب شخص اور ایک ہسپتال کے آئی سی یو میں شریک نوجوان پر شوبھایاترا پر پتھراؤ کے الزام کے تحت کیس درج کرتے ہوئے ان کے شکستہ مکانات کو پولیس کی طاقت اور بلڈوزروں کے ذریعہ تہس نہس کرتے ہوئے انہیں مزید بدحال بنایا جارہا تھا !! 

ضلع وقارآباد کے تانڈور شہر میں آج 3 مئی بروز منگل چنگیز پورروڈ پرموجود عیدگاہ(جدید) میں 44 ڈگری درجہ حرارت کے دؤران 30 روزوں کی تکمیل،30 روزہ پنچگانہ نمازوں،عبادتوں،ریاضتوں،مشقتوں،ذکرواذکار،زکواۃ،فطرہ،صدقات،خیرات اور دیگرحقوق کی ادائیگی کے بعد رنگ برنگے لباس میں عیدالفطر کے مؤقع پر 40 ہزار سے زائدمسلمان تکبیرات کا ورد کرتے ہوئے عیدگاہ پہنچے۔شدید چلچلاتی ہوئی دھوپ کے درمیان انتہائی خشوع وخضوع اور مکمل نظم وضبط کے ساتھ نماز عیدالفطر ادا کرتے ہوئے خدا کے حضور سر بسجود ہوئے اور رقت انگیز دعائیں کیں۔

تانڈور کے اس عیدگاہ میں صبح 45-8 بجے حافظ و قاری مولانا محمدشکیل احمد،سابق صدراہلست والجماعت وناظم مدرسہ مدینتہ العلوم تانڈور کی امامت میں ہزاروں مسلمانوں نے نماز عید الفطر ادا کی اور انتہائی پرسکون انداز میں خطبہء عیدالفطر کی سماعت کی۔نماز عیدالفطر کے دؤران وسیع و عریض عید گاہ میدان پر انسانی سروں کا سمندر ٹھاٹھیں ماررہا تھا۔اور عیدگاہ میدان اپنی تنگ دامنی کا شکوہ کررہاتھا۔

بعد ازاں حافظ و قاری مولانا محمدشکیل احمد نظمی نے اسلام اورمسلمانوں کی سربلندی کے لیے،اللہ سے ملک میں امن امان اور قومی یکجہتی کی مضبوطی کے لیے،ملک بشمول سارے عالم میں مسلمانوں کی جانوں،مالوں،عزتوں اورعصمتوں کی حفاظت،بیماریوں،مصیبتوں، تنگدستی اور دیگر مسائل سے پریشان حال مسلمانوں کو راحت کی رقت انگیز دعاء کی۔اور مسلمانوں کو تلقین کی کہ وہ ماہ رمضان کے بعد بھی اپنی عبادتوں اور ریاضتوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے مساجد کو آباد رکھیں اور اپنی صفوں میں اتحاد کو مزید مضبوط بنائیں۔

صبح 7 بجے سے ہی ہزاروں مسلمانوں کا مجمع رنگ برنگی پوشاکوں میں ملبوس بلاءکسی نسلی اور امیر وغریب کی تفریق کے شہر کے مختلف مقامات اور اطراف و اکناف کے مواضعات سے جوش و خروش کے ساتھ عید گاہ کی سمت رواں دواں تھا۔یہ منظر انتہائی دلنشین اور دیگر اقوام کے لئے لائق دید تھا۔

صدر عیدگاہ وقبرستان کمیٹی تانڈورمحمد یوسف خان کی زیرنگرانی عیدگاہ کمیٹی کی جانب سے بہترین اور قابل ستائش انتظامات کیے گئے تھے۔جبکہ ہر سال کی طرح عید گاہ میں ایس او ایف ایمبولنس سرویس کے مالک محمدنذیراحمد کی جانب سے تمام مصلیوں کیلئے شربت کا انتظام کیا گیا تھا۔

عیدگاہ میدان کے قریب نصب شامیانے میں ایم ایل سی و سابق وزیر ٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہیندرریڈی،رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی،،نائب صدرتلنگانہ پردیش کانگریس رمیش مہاراج،امیر منتظمہ مسلم ویلفیئر اسوسی ایشن تانڈورمحمدخورشیدحسین،نائب امیر عبدالاحدصمدانی ، صدر مجلس اتحادالمسلمین تانڈور عبدالہادی شہری،صدرنشین بلدیہ تاٹی کونڈاسواپنا پریمل،،سابق صدربلدیہ لکشماریڈی،راجوگوڑ،وٹھل نائیک،

پٹلولا نرسملو،صدر ٹاؤن ٹی آرایس ایم اےنعیم افو، نائب صدر تلنگانہ مینارٹی کانگریس،خالدسیف اللہ،سابق رکن بلدیہ سید زبیر لالہ،سی پی آئی قائدین جناردھن ریڈی،وجئے لکشمی پنڈت،ٹی آرایس قائدین روی گوڑ،بنٹارام سدھاکر،سرینواس چاری،گوپال ایڈوکیٹ، وینکٹ ریڈی،رکن بلدیہ راما کرشنا،بال ریڈی اورمختلف سیاسی قائدین نے مسلمانوں سے گلے مل کر انہیں عید کی مبارکباد پیش کی یہاں گنگاجمنی تہذیب کا خوبصورت نظارہ دیکھا گیا۔

بعدازاں عیدگاہ کمیٹی کی جانب سے ان تمام قائدین کی شیرخورمہ سے تواضع کی گئی۔اس موقع پر ایم ایل سی اور ایم ایل اے نےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کے سی آر اور حکومت تلنگانہ مسلمانوں کی فلاح وبہبود میں مصروف ہیں۔انہوں نے تانڈور کے تمام مسائل کے حل کا تیقن دیا۔

جبکہ حیدرآباد پر موجود جدید عیدگاہ میں 30-7 بجے صبح انتہائی خشوع و خضوع اور نظم و ضبط کیساتھ مولانا محمدخلیل الرحمن محمدی کی امامت میں نماز عیدالفطر ادا کی گئی۔مولانا محمدعثمان غنی امیر جمعیت اہلحدیث تانڈور کی جانب سے دئیے گئے خطبہء عید کی سکون اور اطمینان کیساتھ کی سماعت کی۔بعدازاں انہوں نے رقت انگیز دعا فرمائی۔یہاں بھی بڑی تعداد میں فرزندان توحید و دختران ملت نے علحدہ علحدہ گوشہ میں خشوع و خضوع کے ساتھ نماز عیدالفطر ادا کی۔

نماز عیدالفطر کے اختتام کے بعد اس عیدگاہ پر بھی ایم ایل سی ڈاکٹر پی۔مہنیدرریڈی اور ایم ایل اے پائلٹ روہت ریڈی کے علاوہ مذکورہ بالا سیاسی قائدین اورعوامی نمائندوں کے بشمول سابق صدر ٹاؤن ٹی آرایس عبدالرؤف،ریاستی صدر ویلفیئر پارٹی آف انڈیا سید کمال اطہر،مولانا سہیل احمدعمری،ایم اے ستارمجاہدی،(گولکنڈہ)،عبداللہ مجاہدی،عبدالرحمن مجاہدی،رکن ضلع آر ٹی اے محمد جاوید،ایم اے نعیم افو،سابق رکن بلدیہ محمدعرفان، رکن بلدیہ عبدالرزاق، سیدمسعود احمد،شکور خان کے علاوہ دیگر موجود تھے۔

آج نماز عیدالفطرکے مؤقع پر ڈی ایس پی تانڈور لکشمی نارائنا کی راست نگرانی میں پولیس نے تانڈور کی ان دونوں عیدگاہوں اور شہر کے مختلف مقامات پر سخت حفاظتی انتظامات کیے تھے۔جس میں سرکل انسپکٹران پولیس تانڈور اور گوتاپور راجندرریڈی اور رام بابو،سب انسپکٹران پولیس ناگ راج،مہیپال ریڈی،شیکھر کے علاوہ بھاری پولیس جمعیت موجودتھی۔