دہلی کے جہانگیر پوری میں اگلے حکم تک موجودہ موقف برقرار رکھا جائے : سپریم کورٹ

جہانگیر پوری میں اگلے حکم تک موجودہ موقف برقرار رکھا جائے: سپریم کورٹ

نئی دہلی:21۔اپریل(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

دہلی کے جہانگیر پوری میں کل غیر قانونی تعمیرات کے نام پر بلڈوزرس کے ذریعہ شروع کی گئی انہدامی کارروائی پر روک لگاتے ہوئےسپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ اس معاملہ کی آج 21 اپریل کو سماعت تک موجودہ موقف جوں کا توں قائم رکھا جائے۔

اس معاملہ میں آج جمعرات 21 اپریل کو سپریم کورٹ نے شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن کوحکم دیاہے کہ اگلے احکام تک جہانگیر پوری میں کوئی انہدامی کارروائی نہ کی جائے،عمارتوں کا موقف جوں کا توں قائم رکھاجائے اور کل جاری کردہ سپریم کورٹ کے حکم کو بحال رکھا جائے۔جسٹس ایل این راؤ اور بی آر گاوائی پرمشتمل سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے دہلی کے جہانگیرپوری علاقہ میں انہدام کی درخواستوں کی سماعت کا آج آغاز کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملہ میں عہدیداروں کو نوٹس جاری کیے ہیں۔سپریم کورٹ نے کہا کہ”شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن کے میئر کو کل سپریم کورٹ کے فیصلہ سے آگاہ کرنے کے بعد ہونے والی تمام انہدامات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے گا۔”

اب اس معاملہ کی سماعت دو ہفتے بعد ہوگی۔

جہانگیرپوری میں ہفتہ 16 اپریل کو ہنومان جینتی کے جلوس کے دؤران دو فرقوں کے درمیان تشدد پھوٹ پڑا تھا۔بی جے پی کی حکمرانی والی شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے تجاوزات کے خلاف مہم کے ایک حصے کے طور پر کل چہارشنبہ کی صبح ایک مسجد کے گیٹ سمیت اس کے قریبی کئی کنکریٹ سے تعمیر اور عارضی ڈھانچے بلڈوزرس کے ذریعہ گرائے گئے تھے۔

سپریم کورٹ نے انہدام کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے دائر درخواست کا نوٹس لینے کے بعد کل اس انہدامی کارروائی کو روکنے کی ہدایت دی تھی تاہم اس کے باوجود یہ انہدامی کارروائی جاری رکھی گئی تھی کہ عہدیداروں کو سپریم کورٹ کا آرڈر نہیں ملا جس کے بعد سپریم کورٹ کو دوبارہ مداخلت کرنی پڑی تھی۔

جمعیتہ علماء ہند کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے سینئر وکیل کپل سبل نے کہا کہ اس انہدامی کارروائی کے دؤران صرف ایک طبقہ کی املاک مسمار کی گئی ہے۔انہوں نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ہندوستان بھر میں جائدادوں کی مسماری کی جارہی ہے۔اورمسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے خاص طور پر رام نومی کے دنوں میں یہ چیزیں ہوئی ہیں۔اور صرف ایک طبقہ کے مکانات گرائے گئے۔

جس پر معزز سپریم کورٹ نے پوچھا کہ” کل ہندوؤں کی کوئی جائیداد نہیں گرائی؟”تو سینئر وکیل کپل سبل نے ملک کی اعلیٰ عدالت کو بتایا کہ ایک وزیر نے ریمارکس کیے ہیں کہ اگرمسلمان ایسے حملے کرتے ہیں تو انہیں انصاف کی امید نہیں رکھنی چاہئے۔ان لوگوں کے گھروں کو مسمار کر دیا گیا جو واقعہ کے موقع پر علاقے میں بھی موجود نہیں تھے۔

درخواست گزاروں کے ایک اور سینئروکیل دشنیت دیو نے دہلی میں غیر مجاز قبضوں و تجاویزات پرمشتمل دہلی اسپیشل ایکٹ و قوانین پڑھتے ہوئے معزز سپریم کورٹ کو بتایا کہ دہلی میں 50 لاکھ نفوس پر مشتمل 1،731 غیر مجاز کالونیاں موجود ہیں لیکن قبضہ جات کے نام پر صرف ایک مخصوص طبقہ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

سینئر وکیل دشینت دیو نے کہا کہ راتوں رات احکامات کے بعد بلڈوزرس چلانا شروع کردیا گیا۔پھر سپریم کورٹ موجودہ موقف کو بحال رکھنے کا حکم دیتی ہے۔انہوں نے معزز سپریم کورٹ کو بتایا کہ یہ مسئلہ اس ملک کے سماجی تانے بانے کو متاثر کرتا ہے۔اگر اسے نہ روکا گیا تو نہ قانون کی حکمرانی رہے گی اور نہ جمہوریت باقی رہے گی۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ دہلی بی جے پی کے سربراہ نے خط لکھا اور انہدام شروع ہوگیا۔جبکہ میونسپل کارپوریشن کا قانون کہتا ہے کہ انہدام سے قبل نوٹس دئیے جانے کی ضرورت ہے۔

جہانگیر پوری کے درخواست گزاروں کے سینئر وکیل دشینت دیو نے معزز جسٹس ایل این راؤ اور بی آر گاوائی پرمشتمل سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ کو بتایا کہ یہ ملک کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے۔

سپریم کورٹ نے پوچھا کہ "یہ صرف ایک علاقے سے متعلق ہے۔قومی اہمیت کیا ہے؟ "

دشینت ڈیو نے کہا کہ یہ ہر فساد سے متاثرہ علاقے میں ہے۔1984 یا 2002 میں ایسا کچھ نہیں تھا۔اب اچانک کیوں؟دہلی میں تجاوزات سے متعلق قانون ہے۔یہ معاملہ غیرمعمولی طور پر اہم ہے۔معاشرے کے ایک خاص طبقے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔اور یہ وہ وارننگ ہے جو ہمارے آئین سازوں نے ہمیں دی تھی۔