دہلی کے جہانگیر پوری میں سپریم کورٹ کے حکم کے بعد بھی انہدامی کارروائی! نہ مسجد کا گیٹ بچا نہ گپتا کی دکان!!

لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
تم ترس نہیں کھاتے بستیاں اُجاڑنے میں

سپریم کورٹ کے حکم کے بعد بھی جہانگیرپوری میں انہدامی کارروائی
نہ مسجد کا گیٹ بچا اور نہ گپتا کی دکان!!،صدرمجلس بیرسٹراویسی کا دؤرہ

نئی دہلی: 20۔اپریل(سحرنیوزڈاٹ کام/خصوصی رپورٹ)

ملک میں گزشتہ چند سال سے بی جے پی اقتداروالی ریاستوں میں ایک نیا حربہ استعمال کیا جارہا ہے کہ جہاں کہیں تشدد یا فساد ہوگا وہاں
لوگوں کو قانونی نوٹس دے کر املاک کے نقصان کی پابجائی کی جائے گی۔یا تو معاوضہ وصول کیا جائے،یا ان کی جائدادیں ضبط کی جائیں گی یا پھر ان کی جائدادوں کوبلڈوزرس کی مدد سے زمین دوز کردیا جائے گا۔

جس کا اولین تجربہ اترپردیش میں این آرسی مخالف تحریک کے دوران یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے کیا۔پھر 10 اپریل کو رام نومی کی شوبھا یاترا کے دؤران جلوس پر پتھراؤ کے الزام کے بعد دوسرے ہی دن یعنی 11 اپریل کومدھیہ پردیش کے کھرگون میں تالاب مسجد کے قریب غریب مسلمانوں کے کئی مکانات اور دکانات پر بلڈوزرس چلاکر انہیں زمین دوز کردیا گیا جس کے خلاف جمعیتہ علما ہند سپریم کورٹ سے رجوع ہوئی ہے۔

بغیر کسی ثبوت کے مسلمانوں کو مجرم مان کر ان کی املاک پر دھاوہ بولنا اور ان کے مکانات کو مسمارکرنا پھراس پر وزیراعظم نریندرمودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کی مکمل خاموشی کچھ نہ کچھ پیغام ضرور دیتی ہے!

16 اپریل کو دہلی کے جہانگیرپوری میں ہنومان جینتی کے جلوس جس میں بندوقوں کے ساتھ فائرنگ بھی کی گئی اور پولیس کے پہرہ میں تلواریں لہراتے ہوئے نفرت انگیز نعرےبھی لگائے گئے۔

اس جلوس پر پتھراؤ کے الزامات کےبعد نئی دہلی میونسپل کارپوریشن(این ایم ڈی سی)کی جانب سے آج 20 اپریل کو دہلی کے جہانگیر پوری میں 400 پولیس ملازمین کی موجودگی میں وہاں موجود مکانات کوغیرقانونی اورمقبوضہ قرار دیتے ہوئے انہدامی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔

اس انہدامی کارروائی کے خلاف سینئر وکلاء دشینت دیو،کپل سبل،پی وی سریندر ناتھ اورپرشانت بھوشن نے معزز چیف جسٹس این وی رمنا کے سامنے اس معاملہ کو پیش کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ فساد زدہ جہانگیرپوری میں انہدام کی مہم مکمل طور پر غیر قانونی ہے اور کسی کو کوئی نوٹس نہیں دیا گیا۔جس پر معزز چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا نے موجودہ املاک کو اس معاملہ کی اگلی سماعت تک جوں کا توں برقرار رکھنے کا حکم دیا۔

جمعیتہ علما ہند کی اس درخواست کی سماعت کل 21 اپریل کو صبح ساڑھے دس بجے دن معزز جسٹس ناگیشورراؤ اور معززجسٹس بی آر گوائی کی دو رکنی بنچ کرے گی۔

سپریم کورٹ کے اس حکم کے بعد بھی جہانگیر پوری میں دوگھنٹوں تک انہدامی کارروائی جاری رکھی گئی۔45-10 بجے دن سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ انہدامی کارروائی روک دی جائے۔جس کے فوری بعد تمام نیوز چینلس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ خبر وائرل ہوگئی لیکن اس انہدامی کارروائی کو ہنوز جاری رکھا گیا۔بہانہ یہ بنایا گیا کہ ہمیں آرڈر کی کاپی موصول نہیں ہوئی ہے!اس طرح آپریشن بلڈوزر جاری رکھا گیا۔

سپریم کورٹ کےاس حکم کے تقریباً ایک گھنٹہ بعد سینئر وکیل دشینت دیو نے دوبارہ اس معاملہ کا ذکر کرتے ہوئے چیف جسٹس آف انڈیا سے شکایت کی کہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد بھی انہدامی کارروائی نہیں روکی گئی ہے تومعزز چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو ہدایت دی کہ وہ فوری شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن کے میئر،کمشنر اور دہلی پولیس کمشنر کو سپریم کورٹ کے اس حکم سے واقف کروائیں۔اس وقت تک جو ہونا تھا وہ ہوگیا۔

سوشل میڈیا پر کئی ایسے دلسوز ویڈیوز وائرل ہوئے ہیں کہ انہدامی کارروائی کے دؤران املاک سے محروم غریب طبقہ اپنی بے بسی پر آنسو بہارہا تھا۔اس موقع کی ایک تصویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے کہ دکان کو انہدام کیے جانے کے بعد ایک کمسن لڑکا چلر رقم اور بچا کچا سامان سمیٹ رہا ہے۔

سی پی آئی قائد کامریڈ برنداکرت بھی فوری جہانگیر پوری پہنچ گئیں اور انہدامی کارروائی کو روکنے کے حکم پر مشتمل سپریم کورٹ کا آرڈر دکھاتے ہوئے بلڈوزرس کوروکنے کے لیے بلڈوزر کے سامنے کھڑی ہوگئیں۔انہوں نے پولیس عہدیداروں سے ملاقات کرتے ہوئےسپریم کورٹ کے حکم کے بعد فوری انہدامی کارروائی روک دینے کا مطالبہ کیا۔

https://twitter.com/aliyaqut/status/1516702341038329859

سپریم کورٹ کے حکم کے بعد بھی دہلی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے آج کی گئی انہدامی کارروائی کے دؤران جہانگیرپوری کی جامع مسجد کا گیٹ بھی توڑ دیا گیا۔اسکرول ڈاٹ اِن Scroll_in سے وابستہ خاتون صحافی سپریہ شرما نے اس انہدامی کارروائی کا ویڈیو ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”مسجد کے گیٹ کو توڑےجارہے اس منظر کی ویڈیوانہوں نے سپریم کورٹ کے حکم کے ایک گھنٹہ بعد لی ہے۔

جہانگیر پوری کی اس مسجد کے گیٹ کو منہدم کرنے کے بعد جو ویڈیو وائرل ہوا ہے اس میں بتایا گیا ہے قریب ہی ایک مندر بھی موجود ہے لیکن اس کے خلاف کوئی انہدامی کارروائی نہیں کی گئی!!

https://twitter.com/shaikhshameela/status/1516703030346805251

وہیں اس انہدامی کارروائی کے دؤران گنیش کمار گپتا کے گپتا جوس سنٹر کو بھی منہدم کیا گیا۔انہدامی کارروائی کے دؤران گنیش کمار گپتا نے میڈیا کو بتایا کہ ان کی املاک قانونی ہے جو کہ 1977 سے خود میونسپل کارپوریشن دہلی کی جانب سے مسلمہ ہے۔

راہول گاندھی نے اس انہدامی کارروائی کے خلاف کیے گئے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ”یہ ہندوستان کی آئینی اقدار کا انہدام ہے۔یہ غریبوں اور اقلیتوں کو ریاستی سرپرستی میں نشانہ بنانا ہے۔اس کے بجائے بی جے پی کو اپنے دلوں میں نفرت کو ختم کرنا چاہیے۔

دوسری جانب صدرکل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی نے بھی جہانگیر پوری میں ایک مخصوص طبقہ کے املاک کو منہدم کیے جانے پر شدید تنقید کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

آج شام دیر گئے بیرسٹر اسد الدین اویسی نے جہانگیرپوری کا دؤرہ کرتے ہوئے متاثرین سے ملاقات کی۔پولیس نے انہیں صرف مخصوص مقام تک جانے کی اجازت دی۔صدرکل ہندمجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی نے کہا کہ بی جے پی چن چن کر مسلمانوں کو نشانہ بنارہی ہے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر اسدالدین اویسی نے آج کی انہدامی کارروائی کو ترکمان گیٹ 2022 قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سراسر ظلم ہے۔بنانوٹس اس طرح انہدامی کارروائی کرنا غیرقانونی ہے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے باؤجود توڑا گیا۔بیرسٹر اویسی نے سوال کیا کہ سات سال سے بی جے پی کی حکومت ہے تو اب تک کیوں نہیں توڑا گیا اور کیوں نوٹسیں نہیں دی گئیں؟

صدرکل ہندمجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی نے آج دہلی میں برسراقتدار عام آدمی پارٹی کے وزرا اور قائدین کی جانب سے جہانگیرپوری والوں کو بنگلہ دیشی اور روہنگیائی مسلمان قراردئیے جانے اور انہیں تشدد کے لیے استعمال کرنے کی غرض سے بی جے پی کی جانب سے بسائے جانے کی منطق پر شدید تنقید کی۔انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر دہلی اروند کیجریوال کے مکان پر جب حملہ ہوا تھا تب تو بہت شور شرابہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس انہدامی کارروائی کے ذریعہ لوگوں کی چھت اور روٹی چھین لی گئی۔

فیاکٹ چیکرآلٹ نیوز کے معاون فاؤنڈر محمد زبیر نے جہانگیرپوری میں انہدامی کارروائی کے دؤران آج تک چینل کی انجنا اوم کشیپ کے کئی ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”جمہوریت کا چوتھا ستون بھی اس انہدامی کارروائی کا ایک حصہ ہے”۔”میرا بھارت مہان”۔انجنا اوم کشیپ کے ایک ویڈیو میں یہ بھی سنا جاسکتا ہے کہ یہ ایک تاریخی اقدام ہے۔

ایک اور ویڈیو میں وہاں کے عوام کو مخاطب ہوتے ہوئے کہہ رہی ہیں کہ”مسجد بھی ٹوٹے گی اور جوس سنٹر بھی ٹوٹے گا”۔وہیں انجنا اوم کشیپ کی ایک تصویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جو اس انہدامی کارروائی کے دؤران کسی کو نیک تمناؤں والا اپنا انگوٹھا 👍  دکھارہی ہیں!!۔

وہیں ٹائمز ناؤ کی گروپ ایڈیٹر نویکا کمار نے اس انہدامی کارروائی کے دؤران لافنگ ایموجیز استعمال کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ”بلڈوزر کی مانگ میں ڈرامائی اضافہ۔کیا ہم مینوفیکچرنگ کے لیے ملکی استعداد بڑھا رہے ہیں یا ہمیں درآمدات پر انحصار کرنا پڑے گا؟#صرف پوچھ رہی ہوں. 😛😛😂😂 ۔ان کے اس ٹوئٹ پر شدید تنقید کی جارہی ہے کہ غریبوں کے گھر اجاڑے جارہے ہیں وہ اس کا مضحکہ اڑارہی ہیں۔!