لکھیم پوری کھیری معاملہ : سپریم کورٹ نے مرکزی وزیر کے فرزندآشیش مشرا کی ضمانت منسوخ کردی

لکھیم پوری کھیری معاملہ:
سپریم کورٹ نے مرکزی وزیر کے فرزند آشیش مشرا کی ضمانت منسوخ کردی

نئی دہلی: 18۔اپریل (سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

سپریم کورٹ نے آج اترپردیش کےلکھیم پور کھیری میں اپنی گاڑی کے ذریعہ کسانوں کو رؤندے جانے کے واقعہ کے اہم ملزم و مرکزی مملکتی وزیر داخلہ اجئے مشرا ٹینی کے فرزند آشیش مشرا مونو کو الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی ضمانت کو منسوخ کرتے ہوئے۔معزز چیف جسٹس این وی رمنا،جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس ہیما کوہلی پرمشتمل سہءرکنی  بنچ نے اشیش مشرا کو ایک ہفتہ کے اندر خودسپردگی کا حکم دیا ہے۔ساتھ ہی ملک کی اعلیٰ عدالت نے اس معاملہ کو دوبارہ الہ آباد ہائی کورٹ میں سونپ دیا تاکہ اس پر دوبارہ غور کیا جاسکے کہ آیا اشیش مشرا کو متاثرین کے اہل خانہ کی سماعت اور اعتراض کے بعد ضمانت دی جانی چاہیے یا نہیں؟۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال 3 اکتوبر کو احتجاج کے بعد واپس ہورہے احتجاجی کسانوں پر مرکزی وزیر مملکتی وزیرداخلہ کے بیٹے اشیش مشرا نے عقب سے اپنی ایس یو وی گاڑی سے رؤند دیا تھا جس کے باعث 8 افراد کی موت ہوئی تھی جن میں چار کسان اور ایک صحافی شامل تھے اور درجنوں کسان شدید زخمی ہوگئے تھے۔اس بربریت کے بعد ہونے والے تشدد میں بی جے پی کے دو کارکن اور گاڑی کا ڈرائیور ہلاک ہوگئے تھے۔کسان تنظیموں اور اپوزیشن جماعتوں کے شدید احتجاج کے بعدلکھیم پور کھیری میں گاڑی کے ذریعہ کسانوں کو رؤند دینے اور فائرنگ کرنے کے الزامات کاسامنا کر رہے مرکزی مملکتی وزیر داخلہ اجئے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا عرف مونو کو بالآخر 9 اکتوبر کی رات اترپردیش پولیس نے 11 گھنٹوں کی تفتیش کے بعد باقاعدہ گرفتاری کا اعلان کیا تھا۔

چند وکلا کی جانب سے معزز چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا کو لکھے گئے خط کے بعد 17 نومبر 2021 کوسپریم کورٹ نے اس معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس راکیش کمار جین کو اترپردیش حکومت کی جانب سےتشکیل دی گئی ایس آئی ٹی کی جانچ کی نگرانی کے لیے مقرر کیا تھا۔

تحقیقات اور چارج شیٹ کے بعد الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے 10 فروری 2022 کو آشیش مشرا کو ضمانت دیتے ہوئے کہا تھاکہ اگرچہ آشیش مشرا پر اپنی گاڑی کے ڈرائیور کومظاہرین پر گاڑی چڑھادینےکےلیے اُکسانے کا الزام ہے۔لیکن ڈرائیور اور دو ساتھی مظاہرین کے ہاتھوں مبینہ طور پر واقعہ کے بعد ہونے والے تشدد میں ہلاک ہوگئے۔عدالت نےاستدلال پیش کیا کہ ہزاروں مظاہرین کی موجودگی کو دیکھتے ہوئے ڈرائیور نے خود کو بچانے کے لیے گاڑی کی رفتار تیز کردی ہوگی؟۔

اس کے بعد چند متاثرین کے رشتہ دار سپریم کورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے کہا کہ جب آشیش مشرا کی ضمانت کی درخواست پر ہائی کورٹ نے سماعت کی تو ان کی بات نہیں سنی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ سماعت کے دوران تکنیکی مسائل تھے۔جو عملی طور پر پیدا کیے گئے تھے۔درخواست گزاروں نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اگرچہ انہوں نے دوبارہ درخواست دی لیکن انہیں اپنا کیس پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔

"اس پورے واقعہ کی مکمل تفصیلات اس ویڈیو میں دیکھی جاسکتی ہیں۔(بشکریہ: ہندوستان ٹائمز/ٹوئٹر) "