شتروگھن سنہا آسنسول لوک سبھا حلقہ سے کامیاب، تین سال بعد گونجے گی "خاموش” کی گرجدار آواز، ضمنی انتخابات کے نتائج میں بی جے پی کا پتہ صاف

شتروگھن سنہا آسنسول لوک سبھا حلقہ سے کامیاب
تین سال کے وقفہ کے بعد گونجے گی "خاموش” کی گرجدار آواز!
کانگریس دو اور آر جے ڈی ایک اسمبلی نشست پر کامیاب،بی جے پی کا پتہ صاف

نئی دہلی:16۔اپریل(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

آج ملک کی چار ریاستوں مغربی بنگال،مہاراشٹرا،بہار اور چھتیس گڑھ کےضمنی انتخابات کے نتائج کا اعلان ہواہے جو کہ 12 اپریل کو منعقد ہوئے تھے۔ان میں ایک لوک سبھا نشست اور تین اسمبلی نشستوں کے نتائج شامل میں۔ 

فلموں میں اپنی منفرد اداکاری اور اقدار پر مبنی سیاستداں کے طور پر مشہور شتروگھن سنہا بالآخر آج مغربی بنگال کے حلقہ لوک سبھا آسنسول کے ضمنی انتخابات کے نتائج میں مغربی بنگال میں برسر اقتدار ممتابنرجی کی ترنمول کانگریس(ٹی ایم سی )کے ٹکٹ پر مقابلہ کرتے ہوئے تاریخی فتح حاصل کرتے ہوئے اپنے مخالفین کو اپنے منفرد اور مشہور فلمی ڈائیلاگ”خاموش” کے ذریعہ خاموش کردیا۔

76 سالہ بہاری بابو کے طور پر اپنی شناخت رکھنے والے شتروگھن سنہا اب تین سال کے وقفہ کے بعد دوبارہ لوک سبھا میں اپنی گرجدار آواز اور فلسفیانہ باتوں کے ساتھ نظر آئیں گے۔شتروگھن سنہا 2009 سے 2014 تک اور 2014 سے 2019 تک بہار کی پٹنہ صاحب لوک سبھا حلقہ سے منتخب ہوئے تھے۔بعدازاں وہ 1996 تا 2002 اور پھر 2002 سے 2008 تک راجیہ سبھا کے رکن رہ چکے ہیں۔اس وقت وہ بی جے پی میں شامل تھے۔

شتروگھن سنہا نے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی کابینہ میں 22 جولائی 2002 تا 29 جنوری 2003 بحیثیت مرکزی وزیر آف ہیلتھ اینڈ فیملی ویلفیئر کی وزارت سنبھالی تھی۔شتروگھن سنہا 30 جنوری 2003 سے 22 مئی 2004 تک شپنگ منسٹر رہے۔2014 میں انہوں نے اپنی بائیوگرافی شائع کی جس کا نام تھا Anything But Khamosh (کچھ بھی مگر خاموش)۔شتروگھن سنہا نے 6 اپریل 2019 کو کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔بعدازاں وہ گزشتہ ماہ مارچ میں چیف منسٹر مغربی بنگال ممتابنرجی کی ترنمول کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔اپنی کامیابی کے بعد ایک ٹوئٹ کے ذریعہ شتروگھن سنہا نے حلقہ اسمبلی آسنسول کے تمام رائے دہندگان کا شکریہ اداکیا ہے۔

 

شترو گھن سنہا نے ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر مغربی بنگال کے آسنسول حلقہ لوک سبھا کے ضمنی انتخابات میں مقابلہ کیاتھا جس کے لیے 12 اپریل کو رائے دہی ہوئی تھی اور آج نتائج کا اعلان ہوا۔ٹی ایم سی امیدوار شتروگھن سنہا کو 6,46,661 ووٹ حاصل ہوئے۔جبکہ ان کے حریف بی جے پی امیدوا  اگنی مترا پال کو3,50,015 ووٹ حاصل ہوئے۔

ترنمول کانگریس سربراہ و چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے حلقہ لوک سبھا آسنسول اور حلقہ اسمبلی بالی گنج کے رائے دہندوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔جہاں سے ترنمول کانگریس کے امیدوار شتروگھن سنہا اور بابل سپریو کامیاب ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ 2019 کے انتخابات میں آسنسول سے بی جے پی امیدوار بابل سپریو کامیاب ہوئے تھے۔تاہم بابل سپریو گزشتہ سال بی جے پی سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور ترنمول کانگریس(ٹی ایم سی)میں شامل ہوگئے تھے۔اور آسنسول کی لوک سبھا سے نشست بابل سپریو کے استعفیٰ کے باعث آسنسول کی مخلوعہ لوک سبھا نشست پر انتخابات کروائے گئے تھے۔

وہیں ترنمول کانگریس کے ہی امیدوار بابل سپریو نے مغربی بنگال کے اسمبلی حلقہ بالی گنج کی نشست کے ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کی۔انہوں نے اپنے بی جے پی حریف امیدوارکو 20 ہزار ووٹوں کی اکثریت سے ہرادیا۔

دوسری جانب ان ضمنی انتخابات میں کانگریس نے نے بھی بہتر مظاہرہ کیا ہے۔مہاراشٹرا کے کولہاپور(شمال) حلقہ اسمبلی سے کانگریسی امیدوار جئے شری جادھو نے اپنے بی جے پی حریف ستیہ جیت کدم کو 18.000 ووٹوں کی اکثریت سے شکست دی ہے۔جبکہ چھتیس گڑھ کے حلقہ اسمبلی کھائراگڑھ سے کانگریسی امیدوار یشودا ورما نے بی جے پی امیدوار رول کومل کو 20,000 ووٹوں سے شکست دی ہے۔اس طرح 90 رکنی چھتیس گڑھ ریاستی اسمبلی میں اب کانگریس کی تعداد 71 ہوگئی ہے۔

اسی طرح بہار میں وچاہن اسمبلی نشست سے لالو پرساد یادو کی پارٹی راشٹریہ جنتادل(آر جے ڈی) کے امیدوار امرپاسوان نے بی جے پی امیدوار بے بی کماری کو 36,653 ووٹوں کی اکثریت سے شکست دی۔امر پاسوان  کو یہاں 82,562 ووٹ ملے جبکہ بی جے پی امیدوار بے بی کماری کو 45,909 ووٹ حاصل ہوئے۔اس طرح آج ملک کی چار ریاستوں مغربی بنگال،مہاراشٹرا، بہار اور چھتیس گڑھ کے ضمنی انتخابات کے نتائج کے بعد بی جے پی کو شدید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔