حیدرآباد کا ایک ایسا قابل فخر غیرمسلم خاندان،جو گزشتہ 20 سال سے مساجد کو خود افطاری لے کر پہنچتا ہے

جن چراغوں کو ہواؤں کا خوف نہیں
اُن چراغوں کو ہواؤں سے بچایا جائے

حیدرآباد کا ایک ایسا قابل فخر غیرمسلم خاندان
جو گزشتہ 20 سال سے مساجد کو خود افطاری لے کر پہنچتا ہے
خاندان کے سربراہ دیانند جی کے دو سال قبل انتقال اور وصیت پر یہ سلسلہ ہنوز جاری
مسجدمحمدیہ کاروان میں خواتین سمیت افراد خاندان کو تہنیت

حیدرآباد:12۔اپریل(سحرنیوزڈاٹ کام)

گزشتہ چند سال سے ملک کی مختلف ریاستوں میں زعفرانی جھنڈ کی جانب سے بالخصوص مسلمانوں کے خلاف ایک منظم مہم چلائی جارہی ہے۔سیکولرفورسیس اورکھلے ذہن کے برادران وطن کی جانب سے چندغیرجانبدارمیڈیا اورسوشل میڈیا پر مرکزی اور ریاستی حکومتوں،وزارت داخلہ، ملک کی عدلیہ،قانون اور پولیس کی خاموشی پر سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ کیوں ان طاقتوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جارہی ہے؟جو اس ملک کے شہریوں کے درمیان نفرت کا زہر پھیلارہے ہیں۔اور کھلے عام کیوں مسلمانوں کو نسل کشی کی اور مسلم بہوؤں اور بیٹیوں کی عصمت ریزی کی دھمکیاں دے رہے ہیں؟اور ان دھمکیوں کے ویڈیوز سوشل میڈیا پر کون اور کیوں وائرل کررہا ہے؟

جبکہ معمولی سوشل میڈیا پوسٹس اور واٹس ایپ اسٹاٹس کو تک ملک مخالف سرگرمیوں کا نام دے کر بشمول خواتین کئی اقلیتی طبقہ کے نوجوانوں کو جیلوں میں ٹھونسا گیا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔

دوسری جانب ایک منظم منصوبہ کے ساتھ سوشل میڈیا پر مذہبی منافرت اور جھوٹاپروپگنڈہ،مسخ شدہ تاریخ کو وائرل کرکے برادران وطن کو خوفزدہ کرتے ہوئے انہیں اسلام اور مسلمانوں سے بدظن کرتے ہوئے آپس میں تقسیم کرنے کی ناپاک کوشش کی جارہی ہے۔

بالخصوص تین ماہ سے ریاست کرناٹک کو چند بھگوا شدت پسندوں کی جانب سے نفرت کی ایک لیبارٹری کی طرح تیار کردیا گیا ہے۔جہاں حجاب پر پابندی کے بعد ان کے حوصلے مزید بلند ہوگئے اور اس کے بعد حلال گوشت،منادر کے قریب تہواروں پرمسلم دکانداروں پر پابندی،مسلم پھل فروشوں کے بائیکاٹ کے بعد مسلم آٹورکشاؤں کے بائیکاٹ کی مہم تک چلائی جارہی ہے۔

دو دن قبل ہی کرناٹک کے دھارواڑ میں مندر کے قریب ایک بزرگ غریب بیوپاری نبی صاحب کی ٹھیلہ بنڈی کو تباہ و برباد کرتے ہوئے 8،000 روپئے مالیتی تربوزوں کو سڑک پر پھینک دیا گیا اور توڑ پھوڑ کی گئی۔

اس مذہبی منافرت کے برہنہ رقص کا سلسلہ جاری تھا کہ اتوار کے دن ملک بھر میں رام نومی منائی گئی۔رام نومی کے دؤران ملک کی چار ریاستوں گجرات،مدھیہ پردیش،مغربی بنگال اور جھارکھنڈ میں فرقہ وارانہ تشدد برپا کیاگیا تین مقامات پر کرفیو نافذ کرنا پڑا۔مدھیہ پردیش کے کھرگون میں مسجد کے سامنے شوبھا یاترا روک کر اشتعال انگیز گیت بجائے گئے اور جم کر شور شرابہ کیا گیا۔

اس کے باؤجود نہ شرپسندوں کو روکا جارہا ہے،نہ گرفتاریاں ہورہی ہیں اور نہ ہی کوئی کارروائی کی جارہی ہے نہ انہیں جیل بھیجا جارہا ہے تاکہ یہ تمام واقعات رک جائیں۔افسوس تو اس بات کا بھی ہے کہ یہ سب عوام کی محافظ پولیس کی موجودگی میں کیا جارہا ہے۔ایسے نفرت انگیز ماحول سے کسی کو بھی مایوس یا خوفزدہ ہونے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے بقول ساحر لدھیانوی؎

ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
ظلم کی بات ہی کیا ظلم کی اوقات ہی کیا

کیونکہ آج بھی اس ملک کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ امن پسند ہے۔ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کا احترام کرتا ہے،خود چین و سکون سے رہنا چاہتا ہے اور ساتھ ہی دیگر اقوام کو بھی چین سے جینے کے حق کا طرفدار ہے۔

حیدرآباد جسے گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ کہا جاتا ہے وہ تہذیب آج بھی زندہ ہے۔بھلے ہی کوئی یہاں بھی مذہبی منافرت پیدا کرنے کی کوشش کرلے۔کیونکہ حیدرآباد ایک شہر ہی نہیں بلکہ ایک ملک ہے جہاں دیگر مختلف ممالک کے علاوہ ملک کی مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے خاندان امن و سکون کے ساتھ اپنے اپنے کاروبار اور ملازمتوں میں مصروف ہیں۔یہی چیز سارے ملک میں حیدرآباد کی سب سے بڑی پہچان ہے۔

آج آپ کو حیدرآباد کے ایک ایسے قابل فخر غیرمسلم خاندان سے واقف کرواتے ہیں جو کہ گزشتہ 20 سال سے بلا ناغہ ماہِ رمضان میں کاروان علاقہ کی تمام مساجد تک خود بہ نفس نفیس پہنچ کر روزہ داروں کے لیے افطاری پہنچاتا ہے۔

اس مالدار خاندان کے پاس کئی ملازم موجود ہیں لیکن ان کی انسانیت دوستی اور دیگر مذہب کے ماننے والوں کے ساتھ ان کی محبت دیکھیں کہ افطار سے عین قبل اس خاندان کے لوگ بشمول خواتین کار کے ذریعہ مساجد تک پہنچتے ہیں اور کار میں ہی اپنی چپلیں چھوڑکر پیتل کے تھالوں میں سجائے گئے پھلوں اور کھجوروں کو اپنے سر پر رکھ کر مساجد میں پہنچادیتے ہیں۔  

حیدرآبادکے کاروان علاقہ کے سرپرست آنجہانی دیانندجی کا یہ مہذب خاندان گنگاجمنی تہذیب کی ایک اعلیٰ اورعمدہ مثال ہے۔بتایا گیا ہے کہ اس خاندان کے لوگ خود بھی ماہ رمضان میں روزہ رکھتے ہیں۔

گزشتہ 20 سال سے یہ خاندان انتہائی عقیدت کے ساتھ رمضان المبارک میں مساجد میں افطاری کا اہتمام کرتا آرہا ہے۔دو سال قبل اس خاندان کے سرپرست دیانند جی کا انتقال ہوگیا تاہم افطاری پہنچانے کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔دیانند جی کےبعد ان کی اہلیہ محترمہ کستوری اور ان کے فرزندان سنکوری دیپک،سنکوری شیوا کمار دیانندجی کی وصیت کے مطابق پابندی کے ساتھ ہر سال رمضان المبارک کے روزوں کا اہتمام کرتے ہیں اور مساجد میں افطاری پہنچاتے ہیں۔

کل 11 اپریل کو افطار کے موقع پر آنجہانی دیانند جی کی اہلیہ محترمہ کستوری اور ان کے فرزندان سنکوری دیپک،سنکوری شیوا کمار اپنے ساتھ افطاری لے کر عقیدت و احترام کے ساتھ"مسجدمحمدیہ تعلیم”عملہ پور کاروان پہنچے اور روزہ داروں کے ساتھ خود انہوں نے بھی افطار کیا۔

اس موقع پر ان تمام افراد خاندان کا خیرمقدم کرتے ہوئے خادم المسجد جناب عثمان بن محمد الہاجری،مولانا شفیق عالم خان جامعی امیر شہری جمعیت اہلحدیث حیدرآباد وسکندراباد،محمد اقبال خالو اور دیگر مصلیان مسجد نے دیانند جی کے ان افرادخاندان کا استقبال کیا۔اور ان کے اس جذبہ وکشادہ دلی کی سراہنا کرتے ہوئے شال پوشی کے ذریعہ انہیں تہنیت پیش کی گئی۔اور ان کے حق میں نیک ہدایت اور ان کی خوشحالی کے لیے دعا کی گئی۔

اس موقع پر آنجہانی دیانند جی کے اس خاندان نے کہا کہ ماہ رمضان میں ہر سال مساجد کو افطاری پہنچانے اور روزوں کا اہتمام کرنے کا سلسلہ ان کے خاندان میں بدستور جاری رہے گا۔

واقعی آنجہانی دیانند جی کا یہ خاندان لائق صد ستائش ہے۔اور یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس ملک اور اس ملک کی صدیوں قدیم گنگا جمنی تہذیب کو سنبھال کر رکھا ہے۔اور یہی وہ لوگ ہیں جو لق دق صحرا میں ہوا کے خوشبودار جھونکے اور محبت کے چشمے ہیں۔

ساتھ ہی یہ خاندان ان چند مٹھی بھر فرقہ پرست طاقتوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہیں جو محض اقتدار کے لیے لوگوں کو مذہب اور ذات کے خانوں میں تقسیم کرنے میں لگے ہوئے ہیں!لیکن اس ملک میں جب تک اس قسم کا بھائی چارہ،آپسی میل ملاپ اور ایک دوسرے کے مذاہب کے احترام کا جذبہ موجودہے یہ شرپسند طاقتیں ہمیشہ ناکام ہی رہیں گی۔!!