ایک 65 سالہ دیہی خاتون نے اپنی لال ساڑی کی مدد سے خوفناک ٹرین حادثہ کو ٹال دیا
ٹرین ڈرائیور،مسافرین اور محکمہ ریلوے نے خاتون کا شکریہ ادا کیا
سوشل میڈیا پر اس حاضر دماغی کی جم کر سراہنا کی جارہی ہے
لکھنئو: 03۔اپریل
(سحر نیوز ڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)
اترپردیش کے ایٹہ ضلع کی ایک دیہاتی خاتون کی حاضردماغی کے باعث کئی قیمتی انسانی جانیں بچ گئیں جس نے جمعرات کو ضلع ہیڈکوارٹر سے 20 کلومیٹر دور کُسبہ ریلوے اسٹیشن کے قریب ٹوٹی ہوئی ٹرین کی پٹری دیکھ کرفوری اپنے بدن پر موجود لال رنگ کی ساڑی اتار کر ٹرین کی پٹری کی دونوں جانب باندھ دی تاکہ آنے والی کوئی ٹرین حادثہ کا شکار نہ ہو اور مسافرین کی جان بچ جائے۔
اور ہوا بھی یہی اس خاتون کی اس حاضر دماغی اور انسانی جذبہ کے باعث اس ٹوٹی ہوئی پٹری پر دؤڑتے ہوئے آنے والی ایک ٹرین کے ڈرائیور نے دُور سے پٹری پر باندھی گئی لال رنگ کی ساڑی کو دیکھ کرخطرہ محسوس کرتے ہوئے فوری ٹرین کو روک دیا۔اور جب وہ ٹرین سے اتر کر جائے مقام پر پہنچے تو وہ خاتون وہیں بیٹھی ہوئی تھی۔جس نے انہیں واقف کروایا کہ یہاں ٹرین کی پٹری ٹوٹی ہوئی ہے اسی لیے اس نے اپنے بدن پر موجود لال رنگ کی ساڑی باندھی ہے۔
یہ منظر دیکھ کر ٹرین ڈرائیورز اور ان کے ساتھ ٹرین سے اتر کر جائے مقام پر پہنچنے والے مسافرین کے ٹوٹی ہوئی پٹری کو دیکھ کر رؤنگھٹے کھڑے ہوگئے کہ اگر اس خاتون نے اس چوکسی اور حاضر دماغی کا مظاہرہ نہ کیا ہوتا تو ٹرین اور اس میں سوارسینکڑوں مسافرین کا کیا حال ہوتا! اس خاتون کا شکریہ ادا کرنے کے لیے ان تمام کے پاس الفاظ موجود نہیں تھے۔
تفصیلات کے مطابق ایٹہ Etah ضلع کے اواگڑھ بلاک کی ساکن اوم وتی 65 سالہ روز اپنے کھیتوں کوریلوے ٹریک کےقریب سے ہوتے ہوئے پہنچتی ہیں۔ہمیشہ کی طرح وہ ریل کی پٹریوں کے قریب سے گزر رہی تھیں کہ اوم وتی نے ریلوے ٹریک(پٹریوں) میں ایک بڑا شگاف دیکھا۔اس خاتون نے کسی کو اس کی اطلاع دینی چاہی لیکن ایسا کوئی ذریعہ ان کے پاس موجود نہیں تھا اور نہ ہی وہ موبائل فون استعمال کرتی ہیں۔
اوم وتی کو کسی بھی طرح اس ٹریک پر آنے والی ٹرینوں کو حادثہ سے بچانا تھا۔اس 65 سالہ خاتون نے بنا کچھ سوچے سمجھے فوری اپنے بدن پر موجود لال رنگ کی ساڑی اتاری اور ریل کی پٹریوں سے تھوڑے فاصلہ پر موجود ایک درخت سے لکڑیاں توڑیں اور اپنی ساڑی کو ان لکڑیوں کی مدد سے ٹرین کی پٹریوں کی دونوں جانب پر رکاوٹ اورخطرہ کے نشان کے طور پر باندھ دیا۔اور پھر اوم وتی ٹرین کے آنے تک وہیں بیٹھی رہیں۔
اس کے تھوڑی ہی دیر بعد ایٹہ سے ٹنڈلا جارہی ایک مسافر ٹرین اس پٹری پر اپنی رفتار کے ساتھ دؤڑتی ہوئی آرہی تھی لیکن ڈرائیور نے پٹری پر لال رنگ کی ساڑی دیکھی اور بروقت ٹرین کو روک دیا۔جب ٹرین ڈرائیور اس لال رنگ کی ساڑی کے قریب پہنچے اور وہاں اوم وتی کو پایا اور ان سے ریل کی پٹری پر ساڑی باندھنے کی وجہ پوچھی تو اس خاتون نے انہیں بتایا کہ اس مقام پر پٹری میں شگاف پڑگیا ہے اور اسی نے ٹرین کو حادثہ سے روکنے کے لیے یہ کام کیا ہے۔
اس وقت تک ٹرین کے چند مسافر،ٹرین کے گارڈ اور وہاں اطراف میں موجود دیہی افراد جائے مقام پر پہنچ گئے اور اس منظر دیکھ کران کے ہوش اڑگئے۔ان کے پاس اس ضعیف65 سالہ خاتون اوم وتی کے اس اقدام کی تعریف کرنے کے لیے ان کے پاس الفاظ موجود نہیں تھے۔بعدازاں ٹرین کے ڈرائیور نے اپنے سینئرز کو اس سارے واقعہ کی اطلاع دی جنہوں نے موقع پر پہنچ کر پٹریوں کی مرمت کروائی۔بعد ازاں ایک گھنٹہ بعد ٹرین اپنی منزل کی سمت رواں ہوگئی۔
ٹرین کے ڈرائیور نے اوم وتی کے اس اقدام کی زبردست سرہنا کی۔اور اس کی حاضر دماغی وہمت کی ستائش کرتے ہوئے انہیں 100 روپے کا انعام دیا۔بعدازاں اوم وتی نے کہا کہ انہوں نے اپنی ساڑی اتاری اور اسے یہ سوچ کر پٹریوں پر باندھ دیا کہ شاید اس سے دور سے ہی ڈرائیور کوخطرے کا پتہ چل جائے۔کیونکہ سرخ رنگ خطرے کی علامت ہے۔اوم وتی نے یہ بھی کہا کہ ان کی جانب سے رقم قبول کرنے سے انکار کے باؤجود ٹرین ڈرائیور نے انہیں 100 روپے کا انعام دیا۔
ٹوئٹر پر اترپردیش پولیس کے ایک عہدیدار مسٹر سچن کوشک SACHIN KAUSHIK@ نے بھی گاؤں کی اس خاتون اوم وتی کے جذبے کو سلام پیش کرتے ہوئے پورے واقعہ پر مشتمل ویڈیوز اور تصاویر کو ٹوئٹر پر شیئر کیا ہے۔ٹوئٹر صارفین کی بڑی تعداد اس دیہی خاتون کی حاضردماغی اور انسانی جذبے کی جم کر ستائش کررہے ہیں۔

