پٹرولیم اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کا عذاب جاری
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر80 پیسے کا اضافہ
آج بارہ دنوں کے دؤران دسویں مرتبہ جملہ 7.20 روپئے کا اضافہ
نئی دہلی: 02۔اپریل (سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کی آگ کاسلسلہ بدستور جاری ہے۔آج ہفتہ 2 اپریل کو بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 80 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔اس گزشتہ 12 دنوں کے دؤران دسویں مرتبہ اضافہ کیا گیا ہے۔اس طرض ان دس دنوں کے دؤران ملک میں قسطوں میں گاڑی مالکین پر جملہ 7 روپئے 20 پیسے کا اضافہ عمل میں لایا گیا ہے۔جبکہ کل ہی کمرشیل پکوان گیس کی قیمت میں 250 روپئے فی سیلنڈر کا اضافہ کیا گیا تھا۔
22 مارچ کو ملک کی پانچ ریاستوں اترپردیش،منی پور،گوا، پنجاب اور اتراکھنڈ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر رائے دہندوں کی ناراضگی سے بچنے کے لیے ساڑھے چار ماہ کے طویل وقفہ کے خاتمے کے بعد قیمتوں میں اضافہ کا آغاز کیا گیا تھا۔آج ہفتہ کے دن پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 80 پیسے فی لیٹر کا اضافہ ہونے کیے جانے کے ساتھ ہی ہندوستان میں تیل مزید مہنگا ہونے والا ہے۔نومبر سے چار ماہ تک قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہ ہونے کے بعد 12 دنوں میں ملک میں یہ دسویں اضافہ ہے۔حکومت اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ قیمتوں میں اضافہ کا تعلق روس۔یوکرین کی جنگ سے ہے جس کی وجہ سے روس کے خلاف متعدد پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
جبکہ وزیراعظم نریندر مودی نےگزشتہ ماہ لوک سبھا میں کانگریس دؤر حکومت میں قیمتوں میں اضافہ پر ملک کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کا مضحکہ اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ پنڈت نہروں نے اس زمانے میں لال قلعہ سے تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ”کبھی کبھی کوریا Korea# میں ہونے والی لڑائی بھی ہمیں متاثر کرتی ہے!”۔"اس کے چلتے اشیاء کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔اور یہ قیمتیں ہمارے قابو سے بھی باہر ہوجاتی ہیں”۔
اسی خطاب میں وزیراعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ ملک کے سامنے ملک کا وزیر اعظم ہاتھ اوپر کردیتا ہے۔”۔نریندر مودی نے اپنے خطاب میں اگر،اگر پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ”جواہر لال نہرو آگے کہتے ہیں کہ امریکہ میں بھی اگر کچھ ہوجاتا ہے تو اس کا اثر بھی اشیاء کی قیمتوں پر پڑھتا ہے”۔ (چار منٹ کا ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے۔بشکریہ: این ڈی ٹی وی)
ملک کی اپوزیشن جماعتیں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ پر حکومت کو نشانہ بنا رہی ہیں۔یاد رہے کہ پٹرولیم کمپنیوں کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 80 پیسے کے اضافہ کے بعد ذرائع حمل و نقل کے باعث جہاں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فرق ہوتا ہے وہیں تمام اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی ذرائع حمل و نقل کی وجہ سے اضافہ ہونا لازمی ہے۔
آج اضافہ شدہ قیمتوں کے بعد دہلی میں پٹرول کی قیمت 102.61 فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 93.87 فی لیٹر فروخت ہوگا۔ملک کی معاشی راجدھانی مانی جانے والی ممبئی میں پٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمتوں میں 85 پیسے کا اضافہ ہوا ہے۔جہاں پٹرول 117.57 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 101.79 روپے فی لیٹر فروخت ہوگا۔اسی طرح چنئی میں پٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 108.21 اور108.21 (76 پیسے کا اضافہ) اور کولکاتا میں پٹرول کی قیمت 112.19 (84 پیسے کا اضافہ) اور ڈیزل کی قیمت 97.02 ہے (80 پیسے کا اضافہ) ہوگی۔جبکہ حیدرآباد میں پٹرول کی قیمت فی لیٹر 116.33 روپئے اور ڈیزل کی قیمت فی لیٹر 102.45 روپئے ہوگئی ہے۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سطح پرخام تیل کی قیمتوں میں تیزی کی وجہ سے ملک میں پٹرول،ڈیزل اور پکوان گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ کا سلسلہ جاری رہے گا!۔3 نومبر 2021 کو مرکزی حکومت نے ملک میں پٹرول پر 5 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 10 روپے فی لیٹر ایکسائز ڈیوٹی کم کی تھی۔
پٹرولیم اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف کانگریس نے ملک بھر میں احتجاج کا آغاز کیا ہے۔
قیمتوں میں اضافہ کے خلاف جمعرات کو دہلی میں کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ کے احتجاج کی قیادت کرنے کے فوراً بعد راہل گاندھی نے ٹوئٹر پر ایک بار پھر وزیراعظم نریندرمودی کو نشانہ بنایا تھا۔انہوں نے اپنے انگریزی اورہندی میں کیے گئے ٹوئٹ میں افغانستان،پاکستان،سری لنکا،بنگلہ دیش،بھوٹان،نیپال اور دیگر ممالک میں موجودہ ایندھن کی قیمتیں درج کرتے ہوئے لکھا تھاکہ”سوال نہ پوچھو فقیر سے،کیمرے پر بانٹے گیان،”۔”جملوں سے بھرا تھیلا لے کر لوٹے ہندوستان”۔ MehangaiMuktBharat# "
انہوں نے مزید لکھا ہندوستان نے جمعرات کو دس دنوں میں ایندھن کی قیمتوں میں نویں مرتبہ اضافہ دیکھا ہے۔

