اور اب”ہمالیہ ڈرگ کمپنی” نشانہ پر!
حلال سرٹیفکیٹ پر اعتراض،روز ایک نفرت انگیز مہم!!
رام دیو کی پتھانجلی کے لیے حاصل کردہ حلال سرٹیفکیٹ پر خاموشی!
شیموگہ کی ہوٹل میں زعفرانی جھنڈ کی گڑبڑ،حلال گوشت فراہم نہ کرنے کی دھمکی!
سحرنیوزڈاٹ کام: 01۔اپریل(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
ہر روز صبح اُٹھو تو سوشل میڈیا پر ایک نیا تنازعہ،ایک نئی بکواس!مسلمانوں،مسلم کمپنیوں اور کاروباریوں کے خلاف ایک نئی مہم!جی ہاں اگر ایسی مہم میں کوئی گلی کے تھرڈ کلاس لوگ شامل ہوتے تو انجان بنا جاسکتاہےلیکن اس نفرت انگیز مہم میں وہ شخصیتیں بھی شامل ہیں جو کبھی فوج،پولیس،فلم،صحافت اور دیگر اہم اور ذمہ دار پیشوں سے وابستہ رہ چکے ہیں۔پتہ نہیں کہ اپنے دلوں میں اتنی نفرت پال کر اور اس نفرت کو مزید ہوا دے کر وہ کیسے جی لیتے ہیں! اور کیسے سکون سے رہ لیتے ہیں!!
ان کے متعلق مشہور ہے کہ ان کے آقاؤں کی جانب سے باقاعدہ انہیں روز ایک نیا ایشو دے دیا جاتا ہے۔اور وہ مداری کے بندروں کی طرح سوشل میڈیا پر اپناناچ دکھاتے رہتے ہیں۔ریاست کرناٹک میں حجاب کے بعد مندروں کے قریب چھوٹےمسلم بیوپاریوں کو دُکانات لگانے پر پابندی کے بعد اب حلال گوشت کے خلاف نفرت انگیز مہم جاری ہے۔
آج کرناٹک کے شیموگہ کے بھدراوتی کی ہوٹل جنتا میں زعفرانیوں کا ایک”جھنڈ” داخل ہوگیا اور ہوٹل کے مالک سے کہا کہ وہ اپنے گاہکوں کو حلال گوشت فراہم نہ کریں۔ساتھ ہی اس جھنڈ نے ہوٹل میں موجود گاہکوں سے بھی بدتمیزی کی تاہم پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے انہیں اپنی تحویل میں لے لیا۔
اس واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔اور اس ویڈیو کو ٹوئٹ کرتے ہوئے فیاکٹ چیکر آلٹ نیوز کے معاون فاؤنڈر محمدزبیر Mohammad Zubair@نے چیف منسٹر کرناٹک مسٹر بسواراج بومئی،ڈی جی پی کرناٹک،اور ایس پی شیموگہ کو اپنے اس ٹوئٹ میں ٹیاگ کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ”ہیلو!! یہ دیوانگی کب ختم ہوگی؟حکومت اور محکمہ پولیس ان غنڈوں کو لوگوں کو دہشت زدہ کرنے سے روکنے کے لیے کیا کررہی ہے؟”
اسی دؤران ٹوئٹر پرایک نئی مہم شروع کی گئی ہے BoycottHimalaya#"ہمالیہ کا بائیکاٹ” !!
دراصل یہ یہ بائیکاٹ ہمالیہ مہم” ہمالیہ ڈرگ کمپنی” کے خلاف شروع کی گئی ہے جسے 1930 میں”محمد منال”نے بنگلورو میں قائم کی تھی جو کہ انڈین ملٹی نیشنل فارما سیوٹیکل کمپنی کے طور پر آج بھی دنیا بھر میں ایک مشہور اور مستند ڈرگ کمپنی مانی جاتی ہے۔جس کی ادویات اور دیگر اشیا کومقبولیت حاصل ہے۔ہمالیہ ہربل ہیلتھ کیئر کے ساتھ ساتھ اس کے دیگر شعبہ جات بھی ہیں۔جو کہ آیورویدک ادویات بھی تیارکرتی ہے۔
ہمالیہ ڈرگ کمپنی دنیا کے 106 ممالک بشمول امریکہ اور یوروپ میں اپنا کاروبار کرتی ہے۔اس کا ہیڈکوارٹر کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو میں قائم ہے جبکہ اس کے دفاتر ہندوستان کے تمام بڑے شہروں کے علاوہ امریکہ، یوروپ،ساؤتھ آفریقہ،خلیجی اور ایشائی ممالک میں بھی اس کے دفاتر قائم ہیں۔
ٹوئٹر پر جاری اس مہم کے خلاف زیادہ ترسوشل میڈیا صارفین کا الزام ہے کہ اس مہم کا مقصد یہ ہے کہ ہمالیہ ڈرگ کمپنی کے مالک مسلم ہیں! یہی وجہ ہے کہ اس کی جانب سے برسوں قبل حاصل کردہ "حلال سرٹیفکیٹ” کو پیش کرتے ہوئے اس کمپنی کے بائیکاٹ کی مہم چلائی جارہی ہے۔
جبکہ فیاکٹ چیکر آلٹ نیوز کے معاون فاؤنڈر محمدزبیر Mohammad Zubair@نے اہم شخصیتوں کی جانب سے اس "بائیکاٹ ہمالیہ”کے ٹوئٹس کے اسکرین شاٹس شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”کئی سیاست دان اور ری۔ٹوئٹرسBoycottHimalaya# کو ہمالیہ کا حلال سرٹیفکیٹ شیئر کرکے ٹرینڈ کررہے ہیں۔صرف اس لیے کہ ہمالیہ ایک مسلمان کی ملکیت ہے۔”ویسے ہمالیہ کی قیادت والی ٹیم میں 10 میں سے 9 ہندو ہیں۔اور یہ ان کی منافقت اورمسلم دشمنی کا ایک حصہ ہے”
محمدزبیر Mohammad Zubair@نے ” بائیکاٹ ہمالیہ” ٹرینڈ میں حصہ لینے والے فلم اداکار”پریش راول Paresh Rawal@ (جن کا یہ ٹوئٹ اب ڈیلیٹ کردیا گیا ہے) کو اپنے ایک ٹوئٹ میں ٹیاگ کرتے ہوئے یوگا سکھانے والے اور "پتھانجلی کمپنی کے مالک رام دیو” کی جانب سے ان کے سینکڑوں پراڈکٹ کے لیے حاصل کردہ "حلال سرٹیفکیٹ” اور ان تمام پراڈکٹس کی طویل فہرست ٹوئٹ کرتے ہوئے فلم اداکار پریش راول سے سوال کیا ہے کہ کیا آپ ان کا بائیکاٹ کریں گے؟
ساتھ ہی محمد زبیر نے ٹوئٹر پر "مدر ڈیری”، ملکی مسٹ ڈیری پراڈکٹ،نیسٹلے کافی۔ٹی،آئی ٹی سی پراڈکٹ،برٹانیہ کمپنی،ٹفانی فوڈ،اوم انڈسٹری، ایورسٹ مسالحہ کمپنی سمیت دیگر ہندوستانی کمپنیوں کے ” حلال سرٹیفکیٹ” ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان کمپنیوں کا کیا؟

