کشمیر فائلز کے ڈائرکٹر وویک اگنی ہوتری کے خلاف بھوپال کے دو پولیس اسٹیشنوں میں شکایت

فلم کشمیر فائلز کے ڈائرکٹر وویک اگنی ہوتری کے خلاف
بھوپال کے دو پولیس اسٹیشنوں میں الگ الگ شکایت درج
بھوپالی کا مطلب ہم جنس پرست ہونا کہنے کا شاخسانہ

بھوپال:27۔مارچ (سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

ان دنوں سرخیوں میں موجود فلم "دی کشمیر فائلز”کے رائٹر و ڈائرکٹر وویک اگنی ہوتری کے خلاف مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال کے دو الگ الگ پولیس اسٹیشنوں میں شکایت درج کروائی گئی ہے۔

یاد رہے کہ فلم دی کشمیر فائلز کے رائٹر و ڈائرکٹر وویک اگنی ہوتری کے انٹرویو کا ایک ویڈیو کلپ 25 مارچ کو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا۔جس کے بعد سے وہ اپنے ایک تبصرے پر تنقیدوں کی زد میں ہیں۔

اس انٹرویو میں وویک اگنی ہوتری نے کہا تھا کہ”میں بھوپال میں بڑا ہوا ہوں،لیکن میں بھوپالی نہیں ہوں،کیونکہ بھوپالی ہونے کا ایک خاص مفہوم ہے۔(میں کبھی آپ کو اکیلے میں سمجھاؤں گا)۔”کسی بھی بھوپالی سے پوچھ لیں،کیوں کہ بھوپالی ہونے کا عام مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ نوابی شوق والا ”ہم جنس پرست HomoSexual# ہے”۔

یاد رہے کہ وویک اگنی ہوتری مدھیہ پردیش ہی کے گوالیار میں پیدا ہوئے ہیں۔ان کے اس ریمارک کے بعد بھوپال میں اور سوشل میڈیا پر تنقید کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

میڈیا اطلاعات کے مطابق بھوپال پولیس نے بتایا کہ وویک اگنی ہوتری کے اس ریمارک کے خلاف ہفتہ کے دن کشمیر فائلز کے ڈائریکٹر وویک اگنی ہوتری کے خلاف دو مختلف پولیس اسٹیشنوں میں دو شکایات درج کی گئی ہیں۔جن میں مبینہ طور پر یہ انہوں نے کہا تھا کہ” بھوپالی ہم جنس پرست ہیں”۔

وویک اگنی ہوتری کے خلاف الگ الگ درج کروائی گئیں شکایتوں میں سے ایک انور پٹھان نے ایریاتھانے میں درج کروائی ہے۔جبکہ دوسری شکایت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان نے شاہجہان آباد پولیس اسٹیشن میں درج کروائی ہے۔

میڈیا اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ایڈیشنل کمشنر آف پولیس سچن اتلکر نے بتایا کہ پولیس ان دونوں شکایات پر قانونی رائے لے رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ فلم ڈائریکٹر وویک اگنی ہوتری کے خلاف دو پولیس اسٹیشنوں کو دو شکایتیں موصول ہوئی ہیں۔

دی فری پریس جنرل کی خبر کے مطابق ڈی سی پی نے مزید کہا کہ شکایت کنندگان نے الزام عائد کیا ہے کہ فلم ساز وویک اگنی ہوتری نے بھوپالیوں کی شبیہ کو داغدار کیا۔

ان شکایتوں میں کہا گیا ہے کہ یہ بھوپال شہر کے کئی نامور اور مشہور شخصیات کی توہین ہے۔جنہوں نے اپنے نام کے ساتھ فخریہ طور پر بھوپالی استعمال کیا ہے۔

جس میں سابق صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر شنکر دیال شرما،برکت اللہ بھوپالی،کیف بھوپالی،اسد بھوپالی،ساحر بھوپالی اور اور دیگر مشہور شخصیات شامل ہیں۔جنہوں نے بڑے فخر سے دعویٰ کیا تھا کہ وہ بھوپالی ہیں۔اب دیکھنا ہوگا کہ بھوپالیوں کی اس طرز پر توہین کے بعد درج کروائی گئیں شکایتوں پر بھوپال پولیس فلم کشمیر فائلز کے رائٹر و ڈائرکٹر وویک اگنی ہوتری کے خلاف کیا کارروائی کرتی ہے؟ 

********

"وویک اگنی ہوتری کے ریمارک پرمشتمل ویڈیوز اورمکمل تفصیلات پرمشتمل رپورٹ سحر نیوز ڈاٹ کام کی اس لنک کو کلک کرکے پڑھی جاسکتی ہے۔”

بھوپالی ہونے کا عام مفہوم ” ہم جنس پرست” ہوتا ہے، اس لیے میں خود کو بھوپالی نہیں کہتا!کشمیر فائلز کے ڈائرکٹر وویک اگنی ہوتری کا متنازعہ بیان