بھوپالی ہونے کا عام مفہوم ” ہم جنس پرست” ہوتا ہے، اس لیے میں خود کو بھوپالی نہیں کہتا!کشمیر فائلز کے ڈائرکٹر وویک اگنی ہوتری کا متنازعہ بیان

بھوپالی ہونے کا عام مفہوم "ہم جنس پرست” ہوتا ہے
اس لیے میں کبھی خود کو بھوپالی نہیں کہتا
کشمیر فائلز کے ڈائرکٹر وویک اگنی ہوتری کے انٹرویو کا ویڈیو ہوا وائرل 
 ڈگ وجئے سنگھ نے کہا آپ جہاں بھی رہیں صحبت کا اثر تو ہوتا ہی ہے!

بھوپال: 26۔مارچ(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

کشمیری پنڈتوں کی وادی کشمیر سے نقل مقامی اور ان کے قتل کے موضوع پر بنائی گئی فلم” دی کشمیر فائلز” TheKashmirFiles# ” کو 11 مارچ کو ملک کے سینما گھروں میں ریلیز کیا گیا تھا۔جس کے بعد سے ملک بھر میں ہنگامہ مچا ہوا ہے۔اب اس فلم کے رائٹر و ڈائرکٹر وویک اگنی ہوتری بھوپال والوں کو”ہم جنس پرست Homosexuals# ” قرار دیتے ہوئے شدید تنقیدوں کا شکار ہوگئے ہیں۔

فلم دی کشمیر فائلز کے رائٹر و ڈائرکٹر وویک اگنی ہوتری اب ایک اور تنازعہ میں پھنس گئے ہیں۔وویک اگنی ہوتری کے انٹرویو کا ایک ویڈیو کلپ وائرل ہوا ہے۔جس کے بعد سے وہ اپنے ایک تبصرے پر تنقیدوں کی زد میں ہیں۔

اس انٹرویو میں وویک اگنی ہوتری نے کہا کہ” میں بھوپال میں بڑا ہوا ہوں،لیکن میں بھوپالی نہیں ہوں،کیونکہ بھوپالی ہونے کا ایک خاص مفہوم ہے۔(میں کبھی آپ کو اکیلے میں سمجھاؤں گا)۔”کسی بھی بھوپالی سے پوچھ لیں،کیوں کہ بھوپالی ہونے کا عام مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ نوابی شوق والا”ہم جنس پرست HomoSexual# ہے”۔

وویک اگنی ہوتری 21 ڈسمبر 1973 کو مدھیہ پردیش کے گوالیار میں پیدا ہوئے ہیں۔فلم دی کشمیرفائلز کی اداکارہ پلوی جوشی ان کی اہلیہ ہیں۔

( وویک اگنی ہوتری کے اس بیان والا ویڈیو یہاں پیش ہے )

فلم دی کشمیرفائلز کے رائٹر و ڈائرکٹر کےاس بیان پر سینئر کانگریسی قائد و سابق چیف منسٹر مدھیہ پردیش ڈگ وجئے سنگھ نے اس بیان پرمشتمل ویڈیو کو ری۔ٹوئٹ کرتے ہوئے اپنے مصدقہ ٹوئٹر ہینڈل پرلکھا ہے کہ”وویک اگنی ہوتری جی،یہ آپ کا اپنا ذاتی تجربہ ہوسکتا ہے۔یہ تجربہ عام بھوپال کے باشندوں کا نہیں ہے،میں 77 سال سے بھوپال اور بھوپالیوں کے ساتھ رابطے میں ہوں۔لیکن مجھے ایسا تجربہ کبھی نہیں ہوا۔

اس ٹوئٹ میں وویک اگنی ہوتری کو ٹیاگ کرتے ہوئے ڈگ وجئے سنگھ نے طنز کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”آپ جہاں بھی رہیں،صحبت کا اثر تو ہوتا ہی ہے”۔!!  

 

یاد رہے کہ انوپم کھیر،متھن چکرورتی اور پلوی جوشی کی اداکاری والی اس فلم دی کشمیرفائلز کی نمائش کے بعد سے الزام عائد کیے جارہے ہیں اس فلم کی وجہ سے ملک میں مسلمانوں سے شدید نفرت میں مزید اضافہ ہوا ہے!!۔اور سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز اس بات کے گواہ ہیں جس میں مسلمانوں کی نسل کشی کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔تو کہیں مسلمانوں کی لڑکیوں سے شادی کے ذریعہ ہندوؤں کی تعداد میں اضافہ کا عہد کیا جارہا ہے۔

فلم کشمیر فائلز کی ریلیز کے بعد بی جے پی کے ارکان پارلیمان کے ایک اجلاس میں وزیراعظم نریندرمودی نے کہا تھا کہ اتنے دنوں تک اس سچ کو”چند جماعتیں ” چھپارہی تھیں۔اور اس فلم کو اظہار رائے کی آزادی سے تعبیر کیا تھا۔وہیں بی جے پی کی ریاستی حکومتیں،وزرا، ہر چھوٹے بڑے قائدین اور کارکنان بڑے پیمانے پر اس فلم کی تشہیر اور تعریف میں مصروف ہیں۔

یہی وجہ رہی کہ کل دہلی اسمبلی میں چیف منسٹر دہلی اروند کیجریوال نے بی جے پی کے ارکان اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس فلم کے پوسٹرس چسپاں کرتے ہوئے پھررہے ہیں کچھ تو شرم کرو۔اپنے بچوں کو کیا جواب دو گے کہ فلم کے پوسٹرس چسپاں کرنے کا کام کرتے ہو!!

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اپنی ریلیز کے دو ہفتوں میں ہی فلم دی کشمیر فائلز نے اب تک 207 کروڑ روپئے کا بزنس کیا ہے۔اس فلم کا مجموعی بجٹ 15 کروڑ روپئے بتایا جارہا ہے۔اس فلم سے پیدا شدہ تنازعہ کے بعد فلم کے رائٹر و ڈائئرکٹر وویک اگنی ہوتری راتوں رات شہرت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔جنہیں پہلے ایک ناکام فلمساز اور رائٹر مانا جاتا تھا!!اس پر مرکزی حکومت کی جانب سے وویک اگنی ہوتری کو وائی Y سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔

جبکہ خود کشمیری پنڈتوں اور تاریخ دانوں کی بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ اس فلم میں واقعات کا صرف ایک پہلو دکھاتے ہوئے ہندوستانی/کشمیری مسلمانوں کو ویلن اور دہشت گردوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے!!۔

کیونکہ 1989-1990 کے درمیان جموں وکشمیر میں شورش کے دؤران 89 کشمیری پنڈتوں کا قتل ہوا تھا۔جسے فلم دی کشمیر فائلز میں 4،000کشمیری پنڈتوں کی نسل کشی”کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔جبکہ اس دؤران 1،680 دیگر مذاہب کے لوگوں کا بھی قتل ہوا تھا جن میں مسلمان،سکھ اور بودھ برادری کے لوگ بھی شامل تھے!۔

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ 1989-1990 میں پیش آئے کشمیری پنڈتوں کے قتل اور نقل مقامی کے واقعات کے وقت مرکز میں خود بی جے پی کے بشمول اٹل بہاری واجپائی اور لال کرشن اڈوانی جیسے بی جے پی قائدین سمیت 86 ارکان پارلیمان کی تائید سے جنتادل کے وی پی سنگھ وزیراعظم تھے۔جبکہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے منظور نظر جگموہن جموں و کشمیر کے گورنر تھے۔جنہوں نے اس وقت فوج کے ذریعہ دہشت گردوں کو کچلنے اورکشمیری پنڈتوں اورمسلمانوں،سکھوں اور بودھ برادری کے کشمیریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے کشمیری پنڈتوں کو فوری کشمیر سے بھاگ جانے کا مشورہ دیا تھا!۔

بعدازاں یہی جگموہن 1990 میں بی جے پی کی جانب سے راجیہ سبھا بھیجے گئے تھے۔1999،1998،1996کے انتخابات میں وہ نئی دہلی کی لوک سبھا نشست سے بی جے پی کے ٹکٹ پر مقابلہ کرتے ہوئے کامیاب ہوئے تھے۔اس طرح جگموہن تین مرتبہ بی جے پی کے رکن لوک سبھا اور ایک مرتبہ رکن راجیہ سبھا رہے۔اور انہوں نے مرکزی وزارت بھی حاصل کی تھی۔اس سے قبل وہ کانگریس دؤر حکومت میں دہلی اور گوا کے لیفٹننٹ گورنر بھی رہ چکےتھے۔جن کا 4 مئی 2021 کو 93 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔

سابق گورنر جموں و کشمیر جگموہن۔

فلم دی کشمیرفائلز کے رائٹر و ڈائرکٹر وویک اگنی ہوتری نے کل جمعہ کو وزیراعلیٰ مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان کے ساتھ بھوپال میں اسمارٹ سٹی کا دؤرہ کیا۔جہاں انہوں نے ایک پودہ لگایا۔لیکن اس موقع پر انہوں نے اس سوال کو ٹال دیا کہ وہ بھوپالیوں کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟۔اس موقع پر بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری کیلاش وجے ورگیہ نے بھی اس سوال کو یہ کہتے ہوئے ٹال دیا کہ وہ اندور سے ہیں اور یہ سوال وویک اگنی ہوتری سے بھی یہی پوچھا جانا چاہئے۔

وویک اگنی ہوتری نے ٹوئٹر پر اپنے دؤرہ بھوپال کی تصاویر ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”آج بھوپال میں شاندار وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کے ساتھ OnePlantAday# (روزآنہ ایک پودہ لگانا) مشن کے تحت ہم نے کشمیر کی نسل کشی میں مرنے والوں اور متاثرین کی یاد میں درخت لگائے۔میں چیف منسٹر کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ میری تجویز پر انہوں نے پودوں کے نام ’شیوا‘، ’شاردا‘ اور ’شیاما‘ (شیاما پرساد مکھرجی) رکھنے پر اتفاق کیا۔

ساتھ ہی وویک اگنی ہوتری نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ i_ambuddha@ فاؤنڈیشن اور kp_global@ ایک نسل کشی میوزیم قائم کرنے کی کوشش کررہے تھے۔اور میری درخواست پر آج چیف منسٹر مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان نے اس کے لیے فوری طور پر اراضی منظور کرنے اور ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کا بڑا اعلان کردیا۔اور اس نسل کشی میوزیم کے قیام کے لیے مکمل مالی امداد ہم اور عوام فراہم کریں گے۔یہ انسانیت کی علامت ہوگی”۔ 

کل جمعہ کے دن ہی فلم اداکار اکشے کمار نے بھوپال میں ہی منعقدہ ایک تقریب سے اپنے خطاب میں فلم کشمیر فائلز اور اس کے رائٹر ڈاکٹر وویک اگنی ہوتری کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ”وویک جی نے فلم کشمیر فائلز بناکر ہمارے ملک کے ایک بہت بڑے دردناک سچ کو سامنے رکھا ہے۔

اکشے کمار نے مزید کہا کہ فلم کشمیرفائلز ایک ایسی لہر بن کر آئی ہے جس نے ہم سب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔یہ اور بات کہ اس فلم نے میری فلم کو بھی ڈبودیا”۔(ان کا اشارہ اپنی فلم "بچن پانڈے” کی جانب تھا۔جو کہ فلم کشمیرفائلز کے ساتھ ہی ریلیز کی گئی تھی۔تاہم اس فلم نے 50 کروڑ کا ہی بزنس کیا ہے۔وہیں اکشے کمار پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ ان سینما تھیٹرز سے اپنی فلم بچن پانڈے ہٹالیں تاکہ ان سینما گھروں میں بھی فلم کشمیر فائلز کی نمائش کی جائے۔!!جبکہ فلم کشمیر فائلز ملک کے 600 سینماتھیٹرس میں دکھائی جارہی ہے۔

"اداکار اکشے کمار فلم کشمیرفائلز کی تعریف کرتے ہوئے (ویڈیو) یہاں دیکھا جاسکتا ہے "

https://twitter.com/SushantKaushal_/status/1507402139538440194

 

TheKashmirFiles#
VivekAgnihotri#
Bhopal#
HomoSexual#