کشمیر فائلز نہیں ڈیولپمنٹ فائلز کی ضرورت ہے
سوشل میڈیا پر زہریلا پروپگنڈہ،نوجوانوں کومشتعل کیا جارہا ہے
شیواجی مہاراج رہتے تو خودکشی کرلیتے،ہم ان کے مخالف نہیں
چیف منسٹر تلنگانہ چندراشیکھرراؤ کے بی جے پی پر دوبارہ شدید حملے
حیدرآباد: 21۔مارچ(سحرنیوزڈاٹ کام)
چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے ملک میں جاری فلم ” دی کشمیر فائلز "کے متعلق ریمارک کیا ہے کہ ملک کو کشمیر فائلز کی نہیں بلکہ مختلف شعبہ میں ترقی کی فائلز کی ضرورت ہے۔
چیف منسٹر آج ٹی آر ایس پارٹی کے وزراء،ارکان اسمبلی اور ریاستی قائدین کے ساتھ منعقدہ ایک اجلاس کے بعد پرگتی بھون میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔
گزشتہ چند ماہ سے مرکز کی بی جے پی حکومت اور وزیراعظم نریندر مودی کو وقفہ وقفہ سے اپنی شدید تنقید کا نشانہ بنانے،تمل ناڈو،کیرالا،مہاراشٹرا اور چھتیس گڑھ کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ساتھ ملک کی مختلف ریاستوں کے غیر بی جے پی اپوزیشن جماعتوں اور کمیونسٹ پارٹی قائدین سے ملاقات کرنے میں مصروف چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے آج بھی مرکز کی بی جے پی حکومت اور وزیراعظم نریندر مودی اپنی تنقید کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ شدید تنقید کی۔
حال ہی میں کشمیری پنڈتوں کے موضوع پر ریلیز کی گئی متنازعہ فلم دی کشمیرفائلز کو مکمل طورپر مسترد کرتے ہوئے چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے اس فلم پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔انہوں نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ ملک کے موجودہ حالات کے متعلق غور کریں۔
چیف منسٹر نے کہا کہ وہ دو دنوں سے دیکھ رہے ہیں کہ سوشل میڈیا پر زہریلا پروپگنڈہ کیا جارہا ہے۔جو کہ انتہائی اشتعال انگیز اور ناقابل اعتبارمواد پرمشتمل ہے۔چیف منسٹرکے۔چندراشیکھرراؤنےکہا کہ کشمیرفائلزکے بجائے ملک کو آبپاشی فائلز،صنعتی فائلز،اکنامی فائلز کی ضرورت ہے۔چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے کہا کہ ان سب کے بجائے کشمیرفائلز لائی گئی ہے جس سے کسی کو کچھ بھی حاصل ہونے والا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ خود کشمیری پنڈت فلم کشمیرفائلز کے خلاف شدید برہمی ظاہر کررہے ہیں اور یہ تمام ویڈیوز ان کے پاس محفوظ ہیں۔چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے زرو دیکر کہا کہ اس طرح ملک کی تقسیم،عوام کے درمیان اختلافات کو ہوا دے انہیں مذاہب میں تقسیم کرنا ٹھیک نہیں ہے۔چیف منسٹر نے کہا تلنگانہ کے سماج کے لیے یہ ناقابل ہضم ہے۔چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے اس پریس کانفرنس میں کہا کہ برسوں تک علحدہ ریاست تلنگانہ کے لیے تمام نے مل کر پرامن جدوجہد کی اور ریاست حاصل کی لیکن اس وقت سوائے مشترکہ جدوجہد کے ہندو احتجاج، مسلم احتجاج یا عیسائی احتجاج نہیں کیے گئے اور نہ ہی اس کی اپیل کی گئی۔

چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں تعطیل دے کر کشمیرفائلز دیکھنے کی ترغیب دی جارہی ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ اس ملک کو کس طرف لے جایا جارہا ہے؟ اور یہ کونسی تقسیم کی سیاست کی جارہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس طرح ملک کے اچھے ماحول کو برباد کیا جارہا ہے۔
اس پریس کانفرنس میں چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے کہا کہ ملک سے پانچ لاکھ کروڑ کا سافٹ ویئر دیگر ممالک کو درآمد کیا جاتا ہے ایسے اس طرح کی تقسیم کی سیاست سے کئی مشکلات پیدا ہوں گی۔
مرکزی حکومت کی جانب سے 2020 میں اچانک نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن کا حوالہ دیتے ہوئے چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے کہاکہ کوروناوبا کے دؤران مرکزی حکومت مکمل طورپر ناکام ہوگئی تھی اور کروڑہاعوام کو ہزاروں کلومیٹر پیدل چلانے کا ریکارڈ بی جے پی کو حاصل ہے یہاں تک کہ پریشان حال عوام کو اپنے اپنے گاؤں جانے کے لیے ٹرینوں کی سہولت تک فراہم نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کورونا سے مرنے والے سینکڑوں ہزاروں افراد کی نعشیں گنگا میں تیرتی ہوئی پائی گئیں یہ ریکارڈ بھی بی جے پی کے پاس ہے۔چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے زور دے کر کہا کہ ان حقائق کو کبھی بھی نہیں چھپایا جاسکتا!!
اس پریس کانفرنس میں چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے ایک صحافی کے سوال پر استفسار کیا کہ ملک کی سیاست اور دیگر امور کے ماہر و سیاسی صلاح کار پرشانت کشور کے ساتھ مل کر کام کرنے میں کیا برائی ہے؟ انہوں نے کہا کہ پرشانت کشور ان کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں،کیا وہ غلط ہے یا کوئی ڈھکی چھپی بات ہے؟ چیف منسٹر نے کہا کہ پرشانت کشور ملک کی بہتری کے لیے کام کررہے ہیں اور ان کے ساتھ 8سالہ دوستانہ تعلقات ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پرشانت کشور پیسوں کے عوض کام نہیں کرتے اگر میڈیا کے پاس ایسے کوئی ثبوت و شواہد موجود ہوں تو انہیں دئیے جائیں۔۔چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے کہا کہ پرشانت کشور نے بی جے پی، وائی ایس جگن اور ممتابنرجی کے لیے کام کیے ہیں اور بشمول 12 ریاستوں کے ملک کے لیے کام کیا ہے۔چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے واضح کیا کہ پرشانت کشور کو ملک کی سیاست پر دسترس حاصل ہے اور مرکزی سیاست پر اثرانداز ہونے کی غرض سے انہوں نے انہیں طلب کیا ہے۔چیف منسٹر نے کہا کہ اور اس معاملہ میں بہترین پالیسی اپنائی جائے گی اور وہ صد فیصد نتائج دیں گے کیونکہ وہ کئی ممالک میں کام کا بہتر تجربہ رکھتے ہیں۔
چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے زور دیکر کہا کہ وہ انفورسمنٹ ڈائرکٹر (ای ڈی) کے دھاؤوں سے ڈرنے یا خوفزدہ ہونے والوں میں سے نہیں ہیں انہوں نے کہا گزشتہ تین دن سے یوٹیوب پر پروپگنڈہ چلایا جارہا ہے کہ ان کے پاس انکم ٹیکس اور ای ڈی کے دھاوے ہونے والے ہیں انہوں نے کہا کہ وہ ان سب سے ڈرنے والے نہیں ہیں اگر ڈرنے والے ہوتے تو 15 سال علحدہ ریاست کے لیے تحریک چلاکر کامیاب نہ ہوتے۔
چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے ساتھ ہی اس پریس کانفرنس میں یہ بھی واضح کردیا کہ ریاست تلنگانہ میں قبل ازوقت اسمبلی انتخابات منعقد نہیں ہوں گے اور ایسے کوئی حالات بھی نہیں ہیں۔جیسا کہ اطلاعات پھیلائی جارہی ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹی آر ایس پارٹی نے پہلی مرتبہ 2014 کے انتخابات میں 64 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔بعدازاں 2018 کے قبل ازوقت منعقدہ انتخابات میں پارٹی نے 88 نشستیں حاصل کیں اور آئندہ اسمبلی انتخابات میں 95 تا 105 نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گی۔
چیف منسٹر نے میڈیا سے کہا کہ 25 دن بعد وہ ایک رپورٹ دیں گے جسے دیکھ میڈیا خود چونک جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کل ہی ایک تازہ رپورٹ آئی ہے جس کے تحت 30 حلقہ جات میں سروے کرنے کے بعد نتائج یہ آئے ہیں کہ 29 حلقوں میں ٹی آر ایس کامیابی حاصل کرے گی۔
کل ضلع نظام آباد کے بودھن ٹاؤن میں بی جے پی اور شیوسینا کی جانب سے راتوں رات چھتر پتی شیواجی مہاراج کے مجسمہ کی تنصیب کے بعد پیش آئے ناخوشگوار واقعات پر چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شیواجی مہاراج کا احترام کون نہیں کرتے؟ ہم ان کے مخالف نہیں ہیں،انہوں نے سوال کیا کہ غنڈہ گردی کے ذریعہ بلا اجازت اس طرح مجسمہ نصب کرنے کی ضرورت کیا تھی؟
انہوں نے دوٹوک لہجہ میں کہا کہ مجسمہ کی تنصیب کے باقاعدہ مقامی بلدیہ سے اجازت لیں۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ شیواجی مہاراج کے نام پر سیاست مت کریں۔چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤنے ریمارک کیا کہ اگر آج شیواجی مہاراج رہتے تو خودکشی کرلیتے انہوں نے کہا کہ ان کا اُن کا نام لے سیاست کرنا بند کریں،عوامی مسائل کو حل کریں،ملک میں غریبی عروج پر ہے،جی ڈی پی کی حالت بدتر ہوگئی ہے اور بیروزگاری عروج پر ہے اس پر بات کریں۔

ساتھ ہی چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ اعلان کیا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ریاست تلنگانہ سے دھان کی خریدی تک جدوجہد جاری رہے گی۔انہوں نے کہا کل ریاستی وزرا اور ارکان پارلیمان دہلی کا دؤرہ کرتے ہوئے مرکزی وزیر سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں ایک یادداشت حوالے کریں گے۔چیف منسٹر نے کہا اگر مرکزی حکومت پھر بھی اپنے رویہ پر قائم رہتی ہے تو کسی بھی حد تک جدوجہد کے لیے ہم تیار ہیں۔
ChiefMinister #Telangana #PressMeet#

