مہنگائی کی ایک اور مار! سہنے کے لیے رہیں تیار!!
بڑی مقدارمیں خریدے جانے والے ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 25 روپئے کا اضافہ
خانگی آئیل کمپنیوں کا اپنے پٹرول بنکس پمپس بند کردینے کا منصوبہ!!
نئی دہلی:21۔مارچ(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
روس اور یوکرین کے درمیان 24 فروری سے جاری جنگ کے باعث کروڈ آئیل(خام تیل) کی قیمت فی بیارل 142 ڈالر تک پہنچ گئی ہے ۔جس کےباعث مختلف ممالک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پہلے ہی اضافہ کردیا گیا ہے۔
تاہم ہندوستان کی پانچ ریاستوں میں ہونے والے ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات کے پیش نظر گزشتہ سال 4 نومبر سے ملک میں پٹرول، ڈیزل اور پکوان گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا تھا۔ان انتخابات کے نتائج 10 مارچ کو آچکے ہیں پانچ میں سے چار ریاستوں،گوا، اترپردیش،منی پور اور اتراکھنڈ میں بی جے پی نے اپنا قبضہ برقرار رکھا جبکہ پنجاب سے کانگریس بے دخل ہوگئی اور وہاں عام آدمی پارٹی نے کامیابی حاصل کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔
انتخابی نتائج سے قبل ہی ایسے امکانات ظاہر کیے جارہے تھے کہ ملک میں ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوگا۔جس کے بعد عوام کی بڑی تعداد نے پٹرول اور ڈیزل کا ذخیرہ کرنا شروع کردیا۔وہیں سالانہ بجٹ کی پیشکش کے باعث مرکزی حکومت نے قیمتوں میں اضافہ کے فیصلہ کو روک کر رکھا تھا۔یہی وجہ رہی کہ ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں کوئی اضافہ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
تاہم اب میڈیا اطلاعات کے مطابق زیادہ مقدار Bulk Users (تجارتی ذرائع میں) میں ڈیزل کا استعمال کرنے والوں کے لیے ملک کی آئیل کمپنیوں کی جانب سے ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 25 روپئے کا اضافہ کردیا ہے۔تاہم پٹرول، ڈیزل پمپس پر قیمتیں حسب معمول وہی رہیں گی جو فی الوقت موجود ہیں۔آئیل کمپنیوں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافہ کے باعث یہ فیصلہ لازمی ہوگیا ہے۔
اضافہ شدہ قیمتوں کے بعد ممبئی میں بڑی مقدار میں ڈیزل کی قیمت خرید 122.05 روپئے ہوگئی ہے۔جبکہ رٹیل میں یہ قیمت 94.14 روپئے ہے۔دہلی میں رٹیل ڈیزل کی قیمت 86.67 روپئے فی لیٹر فروخت ہورہی ہے۔وہیں بڑی مقدار میں خریدے جانے پر ڈیزل کی قیمت فی لیٹر 115 روپئے ادا کرنا ہوگا۔
ڈیزل کی اس اضافہ شدہ قیمت کے بعد بڑی تعداد میں صارفین جیسے بس آپریٹرز،مالز پیٹرول بنکوں پر ڈیزل خریدنے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں۔جس کے باعث ان پٹرول بنکس مالکین کو نقصانات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔آیا ابھی یہ واضح نہیں ہوپایا ہے کہ بڑی مقداد Bulk Users میں کن کن کو شمار کیا جائے گا اور اس کے لیے کتنے لیٹرس کی حد مقرر کی جائے گی! کیونکہ لاریوں، بسوں اور دیگر ٹرانسپورٹ سسٹم میں ہی بڑی مقدار میں ڈیزل کی کھپت ہوتی ہے!!
ہندستانی آئیل کمپنیوں کی جانب سے بڑی مقدار میں ڈیزل کی خریدی پر فی لیٹر 25 روپئے کے اضافہ کے اعلان کے بعد رٹیل کمپنیوں کو شدید مشکلات درپیش ہونے کا مکمل امکان ہے اور ساتھ ہی مختلف اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ سے انکار ممکن نہیں ہے موجودہ قیمتوں پر ڈیزل فروخت کرنا ان کے لیے نقصان ثابت ہوگا۔ ایسے میں خانگی آئیل کمپنیاں جیسے جیو۔بی پی، نیارا، شیل، اینرجی، جیسی آئیل کمپنیوں کے نقصانات میں شدید اضافہ کا امکان ہے۔
میڈیا اطلاعات میں بتایا جارہا ہے کہ مذکورہ خانگی آئیل کمپنیاں اس بات پر غور کررہی ہیں کہ ایسے میں ان بڑی مقدار Bulk Users کی قیمت میں ڈیزل خرید کر کم قیمت پر فروخت سے بہتر ہے کہ اپنے پٹرول بنکس ہی بند کردئیے جائیں۔
یاد رہے کہ 2008 میں ریلائنس انڈسٹریز نے ملک میں اپنے تمام 1,432 پٹرول پمپوں کو بند کر دیا تھا جب ان کی فروخت تقریباً صفر رہ گئی تھی کیونکہ یہ پبلک سیکٹر کے مقابلہ کی طرف سے پیش کردہ رعایتی قیمت سے میل نہیں کھا سکتی تھی۔

