حجاب معاملہ کا فیصلہ
چیف جسٹس کرناٹک ہائی کورٹ کو جان سے مارنے کی دھمکی
تمل ناڈو سے دو گرفتار،سہء رکنی بنچ کو وائی سیکیوریٹی
بنگلورو: 20۔مارچ(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
کرناٹک کے اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پر کرناٹک حکومت کی جانب سے عائد کی گئی پابندی کو برقرار رکھے جانے کا فیصلہ صادر کرنے والی کرناٹک ہائی کورٹ کی چیف جسٹس ریتو راج اوستھی کی قیادت والی سہء رکنی بنچ جن میں جسٹس کرشنا ایس ڈکشٹ اور محترمہ زیب النساء محی الدین قاضی شامل تھیں کو مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکی کے سلسلہ میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
اس معاملہ میں دو گرفتار شدگان میں سے ایک کوائی رحمت اللہ کو تمل ناڈو کے ترونیلویلی سے گرفتار کیا گیا ہے۔جبکہ دوسرے شخص ایس جمال محمد عثمانی کو تھنجاوور سے حراست میں لیا گیا ہے۔یہ دونوں گرفتاریاں کل ہفتہ کی رات عمل میں آئی ہیں۔میڈیا اطلاعات میں بتایا جارہا ہے کہ دونوں ملزمین کا تعلق تمل ناڈو توحید جماعت (TNTJ) سے ہے۔بتایا گیا ہے کہ اس معاملہ میں کرناٹک اور تمل ناڈو میں ملزمین کے خلاف متعدد شکایات کے بعد یہ گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق اس سلسلہ میں دیگر متعدد افراد کے خلاف بھی کیس درج کیے گئے ہیں۔
میڈیا اطلاعات کے مطابق اس سلسلہ میں بنگلورو کے ودھانا سودھا پولیس اسٹیشن میں ایک شکایت درج کی گئی تھی۔وکلاء اُوماپتھی ایس اور سدھا کٹوا نے بھی اس معاملہ میں رجسٹرار جنرل کو ایک مکتوب روانہ کیا تھا۔جنہیں واٹس ایپ پر ایک ویڈیو موصول ہوئی تھی جس میں مبینہ طور پر ان ججس کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی گئی تھی اور حجاب کے فیصلے کے بعد چیف جسٹس کے قتل کی دھمکی دی گئی تھی۔
انڈیا ٹوڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق اس معاملے میں پولیس کی جانب سے ایف آئی آر درج کرلینے کے بعد کرناٹک حکومت نے حجاب پر فیصلہ صادر کرنے والے کرناٹک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ریتو راج اوستھی اور اس سہء رکنی بنچ کے دیگر دو ججس جسٹس کرشنا ایس ڈکشٹ اور محترمہ زیب النساء محی الدین قاضی کو وائی زمرہ " Y Security ” سیکورٹی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وکلا کی تحریری شکایت کے بعد مجرمانہ دھمکیاں دینے،اکسانے والے بیانات،مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے،امن کوخراب کرنے کے لیے جان بوجھ کر توہین کرنے سمیت دیگر دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
رجسٹرار جنرل کو روانہ کیے گئے اس مکتوب کے ساتھ ویڈیو،مکتوب اور اس کے مواد کی تفصیلات پر بھی فراہم کی گئی ہیں۔مکتوب کے مطابق یہ ویڈیو اور مکتوب تمل زبان میں ہے اور غالباً تمل ناڈو کے مدورائی ضلع کا ہے۔میڈیا ذرائع کے مطابق ویڈیو میں مبینہ طور پر جھارکھنڈکے جج کے مارننگ واک (صبح کی چہل قدمی)کے دوران قتل کا حوالہ دیا گیا ہے،پھر یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ کرناٹک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صبح کے وقت کہاں چہل قدمی کرتے ہیں۔ویڈیو میں نظر آنے والا شخص پھر چیف جسٹس کو کھلم کھلا چیلنج کرتا ہے کہ وہ اس کے خلاف مقدمہ درج کریں۔
یاد رہے کہ کرناٹک ہائی کورٹ نے جنوبی کرناٹک کے چند اضلاع میں لڑکیوں کے حجاب پہن کر اسکولوں اور کالجوں کو آنے پر پیدا کیے گئے تنازعہ کی شدت کو دیکھتے ہوئے 5 فروری کو ایک جی او جاری کرتے ہوئے تعلیمی اداروں میں ڈریس کوڈ کے سختی سے نفاذ کا حکم دیا گیا تھا۔جسے اڑپی کے پی یو کالج کی 6 طالبات کی جانب سے کرناٹک ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا اور عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ انہیں حاصل دستوری اور مذہبی آزادی کے تحت انہیں حجاب پہننے کی اجازت دی جائے۔تاہم کرناٹک ہائی کورٹ کی مذکورہ بالا سہء رکنی بنچ نے یہ کہتے ہوئے حکومت کے احکام کو برقرار رکھا تھا کہ حجاب مذہب کا جز اور لازمی عمل نہیں ہے۔

