پاکستانی شہری معظم خان نے یوکرین کے مختلف مقامات سے 2,500 ہندوستانی طلبہ کو پڑوسی ممالک کی سرحدوں تک پہنچایا

ہمارا خون کا رشتہ ہے سرحدوں کا نہیں
ہمارے خون میں گنگا بھی چِناب بھی ہے

پاکستانی شہری معظم خان نے یوکرین کے مختلف مقامات سے
2,500 ہندوستانی طلبہ کو پڑوسی ممالک کی سرحدوں تک پہنچایا

نئی دہلی:10۔مارچ(سحرنیوز/سوشل میڈیا ڈیسک)

انسان بھلے ہی انسانوں ہی کی جانب سے سرحدوں کی شکل میں کھینچی گئیں لکیروں اور ملکوں کے بٹواروں کے بعد اپنے درمیان حائل سرحدوں کی وجہ سے الگ الگ ممالک میں تقسیم ضرور ہوجاتے ہیں۔لیکن پھر بھی دونوں جانب کے لوگوں کو ہجرت کے باؤجود مٹی کی خوشبو ایک دوسرے سے باندھے ہوئے رکھتی ہے۔

اس پر اگر ان دونوں تقسیم شدہ ممالک کے لوگ کسی تیسرے ملک میں مل جاتے ہیں تو انہیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ چند عیار و مکار سیاستدانوں کی عیاری اور مکاری کے ساتھ ساتھ میڈیا کے ایک مخصوص گوشہ کی جانب سے ایک دوسرے کو دشمن ملک کے شہری بنادئیے گئے ہیں!!۔

وہاں خوشی،غم اور پریشانیوں و مشکلات کے مواقع پر صرف انسانیت کا رشتہ ان لوگوں کو باندھے ہوئے رکھتا ہے۔اور ایسے حالات میں وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے انسانیت کا پرچم بلند کرتے ہیں۔اور اس وقت ان کے ذہنوں میں نہ ملکوں کے درمیان موجود سرحدوں کا تصور ہوتا ہے اور نہ ہی مذاہب کی بندش!!

ایک ایسے ہی پاکستانی شہری معظم خان کا ان دنوں میڈیا اور سوشل میڈیا پر خوب چرچا ہے اور ان کی جم کر ستائش کی جارہی ہے۔کہ انہوں نے یوکرین پر روس کے حملہ کے بعد یوکرین کے مختلف شہروں میں پھنسے ہوئے پریشان حال و بے یار و مدد گار 2،500 سے زائد ہندوستانی طلبہ کو یوکرین کے شہروں سے نکال کر اس کے پڑوسی ممالک رومانیہ،سلوواکیہ،ہنگری اور پولینڈ کی سرحدوں تک پہنچایا جہاں سے یہ ہندوستانی طلبہ مرکزی حکومت کے آپریشن گنگا کے تحت بحفاظت ہندوستان پہنچ گئے۔ 

https://www.facebook.com/DrunkJournalist/posts/3137283013209590

میڈیا رپورٹس کے مطابق یوکرین میں ایک پاکستانی بس ٹور منیجر معظم خان نے اب تک 2،500 ہندوستانی شہریوں جن میں بڑی تعداد طلبہ کی ہے کو جنگ زدہ یوکرین سے بحفاظت نکال کر یوکرین کے پڑوسی ممالک ہنگری،پولینڈ،سلوواکیہ یا رومانیہ کی سرحدوں تک پہنچانے میں مدد کی ہے جو روس کے حملے سے متاثرہ ملک میں پھنسے ہوئے تھے۔

اسلام آباد کے قریب تربیلا چھاؤنی کے علاقہ سے تعلق رکھنے والے معظم خان 11 سال قبل یوکرین روانہ ہوئے تھے اور وہیں ترنوپل میں سکونت اختیار کرلی۔معظم خان نے یوکرین میں سِول انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی لیکن پھر اپنا پیشہ بدل لیا اور ٹور اینڈ ٹراویلس کا کاروبار شروع کیا۔معظم خان کے بڑے بھائی نے بھی یوکرین میں ہی رہائش اختیار کرتے ہوئے یوکرینی خاتون سے شادی کی ہے۔

"ریڈیف ڈاٹ کام” کی رپورٹ کے مطابق جب ٹیم ایس او ایس انڈیا کے بانی نتیش سنگھ نے یوکرین سے پھنسے ہوئے ہندوستانی طلباء کو نکالنے کا کام شروع کیا تو انہیں اندازہ نہیں تھا کہ انہیں واپس کیسے لایا جائے۔وہ صرف اتنا جانتے تھے کہ ہندوستانی طلباء کو ہنگری، پولینڈ، سلوواکیہ یا رومانیہ کی سرحدوں تک پہنچنے کو یقینی بنانے کے لیے انہیں بڑی تعداد میں بسوں اور کاروں کی ضرورت ہوگی۔

انہوں نے بسوں کے لیے ٹور آپریٹرز کو تلاش کرنے کی پوری کوشش کی لیکن کوئی نہیں مل سکا۔اسی تلاش کے دؤران وہ یوکرین میں آباد معظم خان سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔معظم خان نے یوکرین سے ہنگری اور سلوواکیہ جو کہ 5 گھنٹے کا سفر ہے۔یوکرین سے رومانیہ 3 گھنٹے اور پولینڈ جو کہ ڈھائی گھنٹے کا سفر درکار ہے تک ہندوستانی طلبہ کو منتقل کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یوکرین میں دیگر ممالک کے شہریوں کے لیے ان مشکل اوقات کے دوران،جب دوسرے ڈرائیوروں نے اپنے کرایوں کو 250 ڈالر فی کیس وصول کررہے تھے لیکن معظم خان کی بس سروس نے ہندوستانی طالب علموں سے صرف عام دنوں کی طرح 20 تا 25 ڈالر فی کس وصول کیا۔وہیں معظم خان نے جن طلبہ کے پاس پیسے نہیں ہوتے تھے تو ان سے کرایہ بھی وصول نہیں کرتے تھے۔

دوسری جانب یوکرین کے ٹرنوپل سے Rediff.com سے بات کرتے ہوئے معظم خان نے کہا کہ”جب میں نے ہندوستانی طلبہ کی پہلی کھیپ کو بحفاظت منتقل کیا تو مجھے اندازہ نہیں تھا کہ بحران اتنا شدید ہوگا۔تاہم جلد ہی مجھے معلوم ہوا کہ میرا موبائل نمبر یوکرین میں موجود بہت سے ہندوستانی واٹس ایپ گروپس میں وائرل ہو چکا ہے۔جس کے بعد مجھے آدھی رات کو بھی یوکرین سے انہیں نکالنے کے لیے لگاتار فون کالز آنے لگے تھے۔اور میں نے اب تک 2500 ہندوستانی طلبہ کو یوکرین سے نکال کر پولینڈ،سلوواکیہ، ہنگری اور رومانیہ کی سرحدوں تک پہنچایا ہے۔”

معظم خان نے بتایا کہ روس۔یوکرین جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی میرے بہت سے ہندوستانیوں سے دوستی رہی ہے۔ان 11 سالوں کے دؤران انہوں نے ٹرنوپل نیشنل میڈیکل یونیورسٹی میں بہت سے دوست بنائے ہیں۔ان میں سے کئی دوست اپنی تعلیم مکمل کرکے ہندوستان واپس ہوچکے ہیں لیکن وہ اب بھی مجھ سے رابطہ میں ہیں اور ہم اچھے دوست ہیں۔

معظم خان نے ریڈف ڈاٹ کام کو بتایا کہ ہندوستانی زبان کے مشترکہ رابطہ کی وجہ سے ان کے ساتھ راحت محسوس کرتے ہیں اور اس لیے ان کے درمیان فوری طور پر رابطہ قائم ہوجاتا ہے۔

معظم خان نے مزید کہا کہ یوکرین میں کسی بھی غیر ملکی کے لیے بات چیت کرنا سب سے مشکل کام ہے۔یہاں کے لوگ صرف یوکرین زبان بولتے ہیں یا چند افراد روسی بولتے ہیں اور انگریزی بہت کم بولی جاتی ہے۔اس ماحول میں میں اردو بولتا ہوں اور زیادہ تر ہندوستانی طلبہ ہندی زبان بولتے ہیں۔چونکہ اردو اور ہندی زبان تقریباً ایک جیسی ہیں تو یہ زبانیں میں فوری طورپر جوڑ دیتی ہیں۔

جنگ زدہ یوکرین میں پریشان ہندوستانی طلبہ کی مدد کرنے والے معظم خان نے ریڈیف ڈاٹ کام کو بتایا کہ اب تو وہ گنتی بھی بھول چکے ہیں کہ کتنی بار انہوں نے اپنی بسوں کے ذریعہ ہندوستانی طلبہ کو ان ممالک کی سرحدات تک پہنچایا ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے پاس گنتی کرنے کے لیے وقت نہیں تھا۔میرے ذہن میں سب سے اہم اور واحد چیز یہی تھی کہ ان طلبہ کا فوری انخلا عمل میں لایا جائے۔انہوں نے کہا اگر بسیں دستیاب نہیں ہوتیں تو وہ پرائیویٹ کاروں یا ٹیکسیوں کا بندوبست کرتے تھے۔

پاکستانی شہری معظم خان نے انسانیت کا پرچم بلند کرتے ہوئے کہا کہ”زندگیوں کی حفاظت میرے ذہن میں اولین ترجیح تھی۔اور خوش قسمتی سےروسیوں نے کبھی بھی ان علاقوں پر بمباری نہیں کی جہاں میں نے گاڑی چلائی تھی۔”

ریڈیف ٖڈاٹ کام کے نمائندہ سید فردوس اشرف Syed Firdaus Ashraf@ کی جانب سے یہ پوچھے جانے پر کہ” کیا ایک پاکستانی ہونے کے ناتے وہ دونوں ممالک کے درمیان حائل رکاوٹوں کو دیکھتے ہوئے ہندوستانیوں کی مدد کرنے میں کوئی عار محسوس کرتے ہیں؟ تومعظم خان نے کہا کہ”آپ نے ہندوستانی خواتین کرکٹ ٹیم کی ایک پاکستانی کھلاڑی کے بچے کے ساتھ کھیلتے ہوئے حالیہ ویڈیو ضرور دیکھی ہوگی۔یہی انسانیت اور محبت ہے۔انہوں نے کہا دونوں ملکوں کے لوگ ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں۔دشمنی ساری سیاست ہے”۔

( ویمنز ورلڈ کپ کے میچ میں 6 مارچ کو ہندوستانی ٹیم نے پاکستان کو شکست دی تھی۔لیکن میدان کے باہر ہندوستانی خاتون کھلاڑی بسمہ معروف کے نومولود سے پیار کرتے ہوئے مداحوں کے دل جیتنے میں کامیاب ہوگئیں۔بسمہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کپتان ہیں اور حال ہی میں انہوں نے ایک لڑکی کو جنم دیا ہے۔(یہ خوبصورت اور دلکش ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے)

معظم خان نے مزید کہا کہ” ہم بحیثیت انسان ہر وقت انسانی لمس چاہتے ہیں،جو ہمیں پیار اور صرف پیار دیتا ہے۔ میں نے ہمیشہ اپنے ہندوستانی طلبہ کو گلے لگایا ہے جنہوں نے یوکرین چھوڑ دیا۔ایسے حالات میں ایک دوسرے سے گلے ملنا بڑا کام کرتا ہے۔براہ کرم دوسرے انسانوں کے ساتھ ایسا کریں جو جنگ جیسی صورتحال میں پریشانی کا شکار ہیں۔”

اگرچہ معظم خان نے 2,500 ہندوستانیوں کو یوکرین سے نکال کربحفاظت ہندوستان پہنچنے میں مدد کی ہے تاہم وہ یوکرین چھوڑنا نہیں چاہتے کیونکہ ان کا آدھا خاندان یوکرین کے شہر سُمی(سومی) میں پھنسا ہوا ہے۔جہاں تقریباً 700 ہندوستانی طلباء اب بھی انخلاء کے منتظر ہیں۔

معظم خان نے بتایا کہ میرے بھائی کا خاندان سُمی میں ہے۔وہ اب اس شہر میں پھنس گئے ہیں وہ وہاں سے نہیں نکل سکتے۔میں ان کے لیے ٹرانسپورٹ کا انتظام کر سکتا ہوں لیکن روسیوں نے سڑکوں پر بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں۔ہمیں کوئی اندازہ نہیں ہے کہ کون سا دھماکہ کہاں ہوگا اور انہوں نے باررودی سرنگیں کہاں بچھارکھی ہیں۔؟

معظم خان نے ریڈیف ڈاٹ کام کو بتایا کہ”‘بہت سے مواقع پر میں نے کرایہ کے پیسے نہیں لیے کیونکہ ہندوستانی طلبہ کے پاس نقدرقم ختم ہو گئی تھی”۔انہوں نے کہا کہ ان کے لیے سب سے بڑی نعمت اور دؤلت وہ ہے جو ان طلبہ کے والدین مجھے فون کرکے شکریہ ادا کرتے ہوئے دعائیں دیتے ہیں یا پھر واٹس ایپ پر شکریہ کے پیغامات بھیجتے تھے”۔

یوکرین سے واپس ہونے والے ہندوستانی طالب علم نتیش نے ریڈیف ڈاٹ کام کے نمائندہ سید فردوس اشرف کو بتایا کہ معظم خان ہماری ٹیم کے لیے خدا کی جانب سے بھجوائے گئے تھے۔انہوں نے ہماری بہت مدد کی اور کئی بار ہندوستانی طلبہ سے ایک ڈالر بھی نہیں لیا جن کے پاس ادا کرنے کے لیے پیسے نہیں تھے۔” نامور شاعر بشیر بدر نے ہند۔پاک کے بگڑتے رشتوں پر کبھی کہا تھا کہ؎

فاختہ کی مجبوری یہ بھی کہہ نہیں سکتی
کون سانپ رکھتا ہے اس کے آشیانے میں

******

"نوٹ:اس انسانی جذبہ پرمشتمل رپورٹ کی تیاری میں شکریہ کے ساتھ Rediff.com کےساتھ Blog Siasat pk, اور Facebook,Twitter سے مدد لی گئی ہے۔ ”