یوکرین سے واپس میڈیکل کی طالبہ مدیحہ انم تانڈور پہنچ گئیں،صدرنشین بلدیہ اور دیگر کی ملاقات، روس کے حملوں کا آنکھوں دیکھا حال سنایا

گھر سے نکلے تھے حوصلہ کرکے
لؤٹ آئے خدا  خدا  کرکے

یوکرین سے واپس میڈیکل کی طالبہ مدیحہ انم تانڈور پہنچ گئیں
صدرنشین بلدیہ اور دیگر کی ملاقات والدین اور خود طالبہ نے لی راحت کی سانس
میڈیا کو یوکرین پر روس کے حملوں کا آنکھوں دیکھا حال سنایا

وقارآبا/تانڈور: 5۔فروری(سحرنیوزڈاٹ کام)

ہر وقت ایک ایک انجانہ سا خوف رہتا تھا کہ ہم زندہ بچیں گے یا پھر روس کی گولہ باری و شل باری کی زد میں آجائیں گے؟

ایک طرف یہ حوصلہ تھا کہ ان جنگی حالات میں کسی بھی طرح یوکرین کے پڑوسی ملک سلوواکیہ پہنچنا ہے۔ایک طرف خوف اور دوسری جانب حوصلہ اور امید! بالآخر انڈین ایمبسی اور حکومت تلنگانہ کے مدد ہندوستان پہنچ گئے۔یہ احساسات23 مدیحہ انم کے ہیں جو کہ یوکرین پر روس کے حملہ کے بعد وہاں دیگر طلبہ کے ساتھ جنگ زدہ یوکرین میں پھنس گئی تھیں۔

مدیحہ انم ان 189 ہندوستانی اور سات تلنگانہ ریاست کے طلبہ میں شامل ہیں جو کسی طرح جنگ زدہ یوکرین سے بحفاظت پڑوسی ملک سلوواکیہ میں داخل ہوگئے تھے۔جہاں 2 مارچ کو مرکزی وزیرقانون وانصاف مسٹر کرن رجیجو نے سلوواکیہ میں ان طلبہ سے ملاقات کے بعد اسی رات انہیں سلوواکیہ سے ہندوستان روانہ کردیا تھا۔

اس طرح 3 مارچ کی دوپہر براہ دہلی مدیحہ آنم ریاست کے دیگر 6؍طلبہ کے ساتھ حیدرآباد پہنچ گئیں۔اور پھر حیدرآباد میں دودن قیام کے بعد مدیحہ انم آج اپنے مکان واقع تانڈور پہنچ گئیں۔

مدیحہ انم کے بحفاظت گھر پہنچنے کی اطلاع پر صدرنشین بلدیہ تاٹی کونڈا سواپنا پریمل،سابق صدر تانڈور ٹاؤن ٹی آرایس عبدالرؤف،رکن بلدیہ عبدالرزاق اور دیگر نے ان کے مکان پہنچ کر ملاقات کرتے ہوئے مدیحہ انم کے یوکرین سے بحفاظت گھر لوٹ آنے پر خوشی کا اظہار کیا اور ان سے مکمل تفصیلات حاصل کرتے ہوئے ان کی ہمت اور حوصلہ کی سراہنا کی۔اور تیقن دیا کہ مستقبل تمام مدد کی جائے گی۔

اس موقع پر مدیحہ انم کے والدین محمد فیاض علی(ریاض علی)،والدہ عابدہ پروین،ماموں سید کمال اطہر،سیداجمل احمد،سیدمسعود احمد اور دیگر رشتہ داربھی موجود تھے۔

مدیحہ آنم ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کی غرض سے جون 2019 میں یوکرین روانہ ہوئی تھیں اور وہ یوکرین کی ایوانوفرانسکلی یونیورسٹی میں میڈیکل کے چوتھے سال میں زیرتعلیم تھیں۔مدیحہ آنم جنوری 2021 میں یوکرین سے اپنے گھر آئی تھیں بعدازاں وہ جون 2021 میں یوکرین واپس چلی گئیں۔جبکہ مدیحہ آنم یکم مارچ کو ہندوستان واپس ہونے والی تھیں ان کی فلائٹ کی ٹکٹ بھی بک ہوگئی تھی تاہم اس سے قبل 24 فروری کو روس نے یوکرین پر حملہ کردیا۔

جنگ زدہ یوکرین سے واپس ہوئیں مدیحہ انم نے آج میڈیا سے بات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ 24 فروری کو جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا تھا تب روس کا پہلا نشانہ ان کی یونیورسٹی کے ہاسٹل کے قریب موجود ایرپورٹ تھا۔جس کے بعد وہ اور دیگر طلبہ بھی خوف زدہ ہوگئے تھے کہ شاید روسی فوج کا اگلا نشانہ ان کا ہاسٹل ہوگا!اس کے بعد یونیورسٹی کے انتظامیہ نے اعلان کردیا کہ تمام طلبہ فوری طور پر اپنے اپنے ممالک کو روانہ ہوجائیں۔

مدیحہ انم نے بتایا کہ اس کے فوری بعد وہاں موجود 18 طلبہ نے ان کے پاس موجود رقم کے ساتھ پڑوسی ملک کی سرحد پر پہنچنے کا ارادہ کرلیا۔

انہوں نے بتایا کہ ان روسی حملوں کے دؤران یوکرین میں ہر پندرہ منٹ میں حملہ کی سائرن بجائی جاتی تھی جس کے فوری وہ سب دوڑ کر بنکروں میں پناہ لیتے تھے اور اسی خوفزدہ حالت میں پانچ تا 6 گھنٹے گزارنے پڑتے تھے۔

مدیحہ انم نے بتایا کہ ایسے حالات کے دؤران پڑوسی ملک سلوواکیہ تک پہنچنے کے لئے کئی تکالیف و مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔اور ایک گاڑی کرایہ پر حاصل کی گئی۔

مدیحہ انم نے بتایا کہ جو راستہ عام دنوں میں 5 تا 6 گھنٹوں میں طئے ہوتا تھا جنگ کے حالات کے باعث سلوواکیہ کی سرحد تک پہنچنے کے لئے انہیں 12 گھنٹوں کا انتہائی صبر آزما اور مختلف اندیشوں کے درمیان یہ سفر کرنا پڑا۔تاہم سلوواکیہ کی سرحد سے پانچ کلومیٹر دور ہی طلبہ کو گاڑی سے اتار دیا گیا تھا اس کے بعد شدید سردی اور برفباری کے دؤران پیدل چل کر وہ سلوواکیہ میں داخل ہونے میں وہ کامیاب ہوگئے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ سرحد عبور کرنے کے بعد بھی انہیں ہندوستان روانہ کرنے کے لیے انڈین ایمبسی کی جانب سے کوئی واضح اطلاع نہیں دی گئی۔بعدازاں حکومت تلنگانہ کی جانب سے دباؤ کے بعد یہ ممکن ہوپایا۔

اُس وقت تک 200 ہندوستانی طلبہ نے کئی گھنٹے سلوواکیہ میں گزارے۔جہاں درجہ حرارت منفی 5 ڈگری سیلسیس تھا اور کھانے کے لیے غذا نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر انصاف و قانون کرن رجیجو اور رکن پارلیمان چیوڑلہ ڈاکٹر جی۔رنجیت ریڈی کی خصوصی دلچسپی کے باعث اسپائس جیٹ کے خصوصی طیارہ سے سلوواکیہ سے ان کا ملک واپس ہونا ممکن ہوپایا۔

مدیحہ انم نے انہیں بحفاظت یوکرین سے ملک لانے کے لیے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مرکزی اور ریاستی حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ انہیں اور دیگر طلبہ کی باقی تعلیم ملک اور ریاست میں مکمل کی جاسکے۔ساتھ ہی یوکرین میں ہنوز پھنسے ہوئے ہندوستانی طلبہ و شہریوں کو بھی فوری طور پر بحفاظر ملک واپس لانے کے اقدامات کیے جائیں۔