” جینے کے لیے سوچا ہی نہیں درد سنبھالنے ہوں گے!! "
لاک ڈاؤن میں بیٹے کو واپس لانے کے لیے اسکوٹی پر
تلنگانہ سے 1،400 کلومیٹر کا فاصلہ طئے کرنے والی حوصلہ مند خاتون کا
وہی بیٹا اب روس کی سرحد پر یوکرین میں پھنس گیا،ماں پریشان
حیدرآباد/نظام آباد: 04۔مارچ (سحرنیوزڈاٹ کام)
قارئین کو یاد ہوگا کہ ریاست تلنگانہ سے تعلق رکھنے والی ایک برقعہ پوش مسلم خاتون نے کورونا وبا کی پہلی لہر کے دؤران دو سال قبل مکمل اور سخت لاک ڈاؤن کے دؤران پڑوسی ریاست آندھراپردیش کے نیلور میں پھنسے ہوئے اپنے بیٹے کو لانے کے لیے تنہا اسکوٹی پر جملہ 1,400 کلومیٹر کا فاصلہ طئے کرتے ہوئے حوصلہ مندی اور ماں ہونے کا فرض نبھایا تھا اور اپنے بیٹے کو واپس اپنے گھر لاکر ہی سکون کی سانس لی تھی۔
اس باہمت خاتون کا نام رضیہ بیگم ہے کہ جو کہ نظام آباد ضلع کے بودھن کے ایک سرکاری اسکول میں ہیڈ مسٹریس ہیں۔اس وقت رضیہ بیگم نے میڈیا کو بتایا تھا کہ”ایک عورت کے لیے چھوٹی سی دو پہیہ گاڑی پر یہ ایک انتہائی صبر آزما مشکل سفر تھا۔لیکن اپنے بیٹے کو واپس لانے کے عزم نے میرے تمام خوف کو مات دے دی تھی۔میں نے روٹیاں باندھ لیں جو کہ سفر میں میرے کام آئیں اور میں نے سفر جاری رکھا۔انہوں نے کہا تھا کہ مکمل لاک ڈاؤن کے باعث راتوں میں ٹریفک کی نقل و حرکت اور سڑکوں پر عوام نہ ہونے کا منظر انتہائی خوفناک تھا۔لیکن مجھے مجھ سے زیادہ میرے بیٹے کی فکر تھی۔
دراصل رضیہ بیگم کے فرزند نظام الدین 12 مارچ 2020 کو اپنے ایک دوست کو چھوڑنے کی غرض سے آندھرا پردیش کے نیلور ضلع کے رحمت آباد گئے ہوئے تھے اسی دؤران مرکزی حکومت کی جانب سے کورونا وبا کے باعث ملک میں مکمل لاک ڈاؤن کے نفاذ کا اعلان کردیا گیا اور رضیہ بیگم کے فرزند رحمت آباد میں ہی پھنس گئے تھے۔

رضیہ بیگم باقاعدہ پولیس کی اجازت حاصل کرتے ہوئے 6 اپریل 2020 کی صبح بودھن سے اسکوٹی پر نیلور کے لیے روانہ ہوئی تھیں اور دوسرے دن 7 اپریل کی دوپہر نیلور پہنچی تھیں۔اسی شام رضیہ بیگم اپنے بیٹے نظام الدین کو لے کر اسکوٹی کے ذریعہ نیلور سے بودھن کے لیے روانہ ہوگئیں اور 8 اپریل کی دوپہر بحفاظت اپنے مکان بودھن پہنچی تھیں۔
اب انہی رضیہ بیگم کے وہی 19 سالہ فرزند نظام الدین (امان) یوکرین پر روس کے حملہ کے بعد سے جنگ زدہ علاقہ میں دیگر ہندوستانی طلبہ کے ساتھ پھنس گئے ہیں جن کے لیے رضیہ بیگم پریشان اور فکر مند ہیں اور اپنے فرزند نظام الدین کی بحفاظت واپسی کے لیے دعائیں کر رہی ہیں۔
رضیہ بیگم نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے فرزند نظام الدین (امان) اور ان کے ساتھی طلبہ وہاں جاری جنگ کے دؤران میزائل اور شل باری سے بچنے کی غرض سے بنکروں میں قیام کیے ہوئے ہیں اور ان سے فون پر بات ہورہی ہے۔ماں رضیہ بیگم نے بتایا کہ ان کے فرزند نظام الدین انہیں فون پر یقین دلا رہے ہیں کہ وہ وہاں محفوظ ہیں۔تاہم مجھے میرے بیٹے کی شدید فکر لاحق ہے۔
رضیہ بیگم کے فرزند نظام الدین مشرقی یوکرین کے شہر "سومی” میں ایم بی بی ایس کے پہلے سال کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔اور”سومی” روس کی سرحد کے قریب واقع ہے جہاں زیادہ تر ہندوستانی طلبہ "سومی اسٹیٹ میڈیکل یونیورسٹی” میں زیرتعلیم ہیں۔
اپنے فرزند کے لیے پریشان رضیہ بیگم نے وزیراعظم نریندر مودی،چیف منسٹر تلنگانہ کے چندراشیکھر راؤ اور ریاستی وزیر داخلہ محمدمحمود علی سے اپیل کی ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے دؤران وہاں پھنسے ہوئے ان کے فرزند نظام الدین اور دیگر ہندوستانی طلباء کو بحفاظت ملک واپس لانے کے اقدامات کریں۔
ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ میں ایک حیدرآباد کی طالبہ شیوانگی کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ شمال مشرقی یوکرین کے سومی شہر میں جنگ کے باعث 707 سے زیادہ ہندوستانی طلباء پھنسے ہوئے ہیں(ایک اور اطلاع میں یہ تعداد 500 بتائی جارہی ہے)۔
جن میں چند طلبہ کا تعلق تلنگانہ اور حیدرآباد سے بھی ہے۔اگرچہ یہ شہر روس کی سرحد سے صرف 48 کلومیٹر دور ہے۔لیکن پریشان حال طلبہ یوکرین میں ہندوستانی سفارت خانے سے اپنے انخلاء کے منصوبے کے بارے میں اطلاع کا انتظار کررہے ہیں۔
ٹائمز آف انڈیانے سومی میں پھنسے ہوئے ان ہندوستانی طلبہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ سب سے زیادہ عملی چیز انہیں روس کے ذریعہ سے واپس لانا ہے۔اگر روس کی طرف سے بمباری روک دی جاتی ہے اور انہیں روس سے اپنے وطن واپس جانے کی اجازت دی جاتی ہے تو اس سے وہاں پھنسے ہوئےسینکڑوں طلباء کو راحت ملے گی۔ان طلبہ کا یوکرین کی مغربی سرحد پر جانا ناممکن ہے کیونکہ اس کا فاصلہ 1,300 کلومیٹر سے زیادہ ہے۔
ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق جہاں یوکرین میں ہندوستانی سفارتخانہ مختلف ممالک کی سرحدوں سے دارالحکومت کیف،کھارکیو اور دیگر مقامات سے طلباء کو نکالنے کے لیے ایڈوائزری جاری کررہا ہے۔وہیں سومی میں موجود طلبہ کے لیے کوئی خاص ایڈوائزری جاری نہیں کی گئی ہے!!۔
جہاں صورتحال دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی ہے۔اور طلبہ خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ٹائمز آف انڈیا نے سومی اسٹیٹ یونیورسٹی کے میڈیکل کے چوتھے سال کے طالب علم شیخ ابرار کے ایک ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ”آپ مغربی جانب سے نکل رہے ہیں شہر سومی بند ہے۔جہاں ریلوے ٹریک کو نقصان پہنچا ہے۔سڑکیں محفوظ نہیں ہیں۔روسی فوجی گاڑیوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں سفارت خانہ ہماری مدد کرے۔براہ کرم روس کی سرحد کو کھولنے کے لیے کہو اور ہماری حفاظت کے لیے ہمیں باضابطہ طور پر ہماری جگہ سے روسی سرحد تک لے جایا جائے”
” یوکرین کے سومی میں پھنسے ہوئے طالب علم شیخ ابرار کا ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے ”

