گلبرگہ :حجاب اور پردہ اسلام کا لازمی جز، عدالتوں کو کسی بھی مذہب کے عقائد وتعلیمات طئے کرنے کا اختیار نہیں، وحدت اسلامی کے اجلاس سے علما کرام کا خطاب

حجاب اور پردہ اسلام کا لازمی جز
عدالتوں کو کسی بھی مذہب کے عقائد و تعلیمات طئے کرنے کا اختیار نہیں
گلبرگہ میں وحدت اسلامی کے زیر اہتمام” حجاب،قران و حدیث کی روشنی”
کے عنوان پرمنعقدہ اجلاس سے علماءکرام اور دانشوران کا خطاب

گلبرگہ :01۔مارچ (ای میل/سحرنیوزڈاٹ کام)

حجاب جیسی عفیف و باعصمت شئے پر تنازعہ کھڑا کرنے اورتعلیمی اداروں میں حجاب نہ پہننے کے احکام جاری کیے جانے پر علماءکرام و دانشوران ملت نے کرناٹک حکومت کی سخت مذمت کی ہے۔علماءکرام کا کہنا ہے کہ اسلام نے صنف نازک کو قیمتی ہیرے سے بڑھ کر حیثیت دی ہے اور اس کی حفاظت پر بھی زور دیا ہے۔

کرناٹک ہائیکورٹ میں حجاب کے موضوع پر جاری بحث کو بھی علماءکرام و دانشوران ملت نے غیر ضروری قرار دیا۔دانشوران ملت نے سوال کیا کہ کیا عدالت کو کسی بھی مذہب کے لازمی جز طئے کرنے کا اختیار حاصل ہے؟۔ کیا عدالتیں کسی بھی مذہب کی رسومات کو ضروری یاغیر ضروری قرار دینے کی مجاز ہیں؟

قومی تنظیم وحدت اسلامی،شاخ گلبرگہ کی جانب سے اس ضمن میں” حجاب،قران و حدیث کی روشنی”کے موضوع پر  میٹروفنکشن ہال میں ایک اجلاس کا انعقادعمل میں لایا جس سےمختلف نامور علماءکرام اور خاتون عالمہ نے خطاب کیا۔

علماءکرام نے اپنے خطاب میں کہا کہ سورہء نور اور سورہ احزاب سمیت کئی ایک مقامات پر حجاب کے تعلق سے ارشاد باری نازل ہوا ہے۔صحیح مسلم شریف اور صحیح البخاری شریف میں کئی ایک احادیث حجاب کے تعلق سے موجود ہیں۔علماءاکرام نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ وقت اور جغرافیائی تقاضوں کے پیش نظر اسلامی خواتین کے پردے کے طریقوں میں تبدیلیاں آتی رہی ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ گزشتہ بیس برس پہلے خواتین جس طرح کا برقعہ استعمال کرتی تھیں وہ آج ندارد ہے۔

اگر بیس برس سے پہلے کا بھی جائزہ لیا جائے تو اس وقت بھی برقعہ کی شکل دوسری ہوا کرتی تھی تاہم مقصد ایک ہی تھا پورا جسم سر سے لے کر پاؤں تک ڈھانک لینا۔علماءکرام نے اپنے خطابات میں سورہ احزاب کی آیت نمبراٹھاون کا حوالہ دیا۔جس میں حکم دیا گیا ہے ” اے نبیﷺ مومن عورتوں سے کہہ دیجئے جب ہاہر نکلیں تو اپنے چہروں پر جلابی چادر اوڑھ لیا کریں۔علماءکرام نے کہا کہ اللہ تعالی نے سورہ احزاب کی آیت نمبر اٹھاون میں ” جَلابی” کا ذکر کیا ہے۔

صحابی رسول ﷺحضرت عبداللہ ابن عباس(رض)کے بقول جلباب یا جلابی اس چادر کو کہا جاتا ہے جو اوپر سے لےکرنیچے تک پورے جسم کو چھپائے۔لغت عرب میں بھی جلباب یا جلابی اس چادر کو کہا جاتا ہے جو کہ پورے جسم کو چھپالے نہ کہ وہ چادر جسم کے بعض حصوں کو چھپالے۔

علماءکرام نے اپنے خطاب میں سورہ نور کی آیت نمبر اکتیس کا بھی حوالہ دیا۔جس میں رب تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ مومن عورتوں سےکہہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں۔اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں،اور اپنی آرائش یعنی اپنے زیور پہننے کے مقامات کو ظاہر نہ ہونے دیا کریں بجز اس کے کہ جو اس میں کھلا رہتاہوں۔

علماءکرام نے کہا کہ اس آیت مبارکہ کی روشنی سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف ہتھیلیاں اور آنکھ کھلا رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔

علماءکرام نے ابو داؤد کی حدیث نمبر 4104 کا بھی حوالہ دیا۔علماءکرام نے کہا کہ حضرت عائشہ(رض) نے فریا کہ ایک بار حضرت اسماء بنت ابو بکر،آپ ﷺ کے روبرو باریک کپڑا پہن کر آئیں تو آپﷺ نے منہ پھیر لیا اور فرمایا کہ”اسماء جب عورت بالغ ہو جائے تو یہ درست نہیں کہ اس کی کوئی چیز نظر آئیں” پھر آپ ﷺ نے اپنے چہرے اورہتھیلیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ سوائے اس کے۔

دانشوران ملت نے تنظیم وحدتِ اسلامی کے اس اجلاس میں” حجاب،قران و حدیث کی روشنی” کے موضوع پر اپنے خطاب میں کہا کہ ایسے ماحول میں اگر مسلم خواتین اپنے حجاب سے دستبردار ہوتی ہیں تو پھرمستقبل میں اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

اس اجلاس کی صدارت وحدت اسلامی کرناٹک و تلنگانہ کے امیرمحمد الیاس مومن نے کی۔مولانا جاوید عالم قاسمی،مولانا عبد الرحیم سگری، عزیز اللہ سرمست،مفتی توصیف خان،مفتی محمد رکن الدین رحمانی،محترمہ حسنیٰ خیری اور محترمہ نیلوفر جہاں نے خطاب کیا۔اجلاس میں خواتین و مرد حضرات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔