پھل فروش مسلم نوجوان کا شیوراتری مباک کا بیانر بھی ناپسند!!
طویل بحث کے بعد ایک شخص نے دیا بیانر نکالنے کا حکم
تلنگانہ کے کریم نگر میں واقعہ،سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل
حیدرآباد/کریم نگر: 02۔مارچ
(سحرنیوزڈاٹ کام)
گزشتہ چند سال سے ملک میں مذہبی منافرت اور تفرقہ پروری عروج پر ہے۔ایک خاص طبقہ کو مختلف بہانوں سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔جبکہ صدیوں سے ملک کی گنگاجمنی تہذیب اور آپسی بھائی چارہ ساری دنیا میں مشہور ہے کہ یہاں کثیر المذاہب اورمختلف کلچر کے لوگ ایک ساتھ مل جل کر بھائی چارہ کے ساتھ رہتے اور بستے ہیں۔
اس معاملہ میں ریاست تلنگانہ سارے ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی،گنگا جمنی تہذیب کے لیے سارے ملک اور دنیا میں آج بھی مشہور ہے۔ریاست تلنگانہ اور حکومت کی شبیہ ایک سیکولر کی حیثیت سے مشہور اور مثالی مانی جاتی ہے۔علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد سوائے چند واقعات کہ ریاست فرقہ وارانہ نفرت سے دور ہے۔ریاست میں آج بھی ہندو اورمسلمان شیر و شکر کی طرح رہتے ہیں۔ایک دوسرے کی عیدین اور تہواروں کو مل جل کر مناتے ہیں اور صدیوں قدیم تہذیب کے ساتھ ایک دوسرے کے مذاہب کا احترام کرتے ہیں۔ساتھ ہی مشکل حالات میں ایک دوسرے کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے بھی ہوجاتے ہیں۔
اس کی مثال ہم کورونا وبا کے دؤران دونوں جانب کے لوگوں کو ایک دوسرے کی مدد کرنے کے ہزاروں مناظر دیکھ چکے ہیں اور ایسے واقعات کو پڑھ بھی چکے ہیں کہ کورونا وبا کے دؤران بلامذہبی تفریق مستحقین کے گھروں تک راشن پہنچایا گیا ان کی مالی مدد بھی کی گئی۔ جبکہ کورونا وبا کی دوسری لہر کے کئی دؤران ریاست کے کئی اضلاع میں مسلم تنظیموں نے کورونا سے مرنے والے برادران وطن کی آخری رسومات کی ادائیگی میں مکمل مدد کی۔
لیکن چند سال سے دیکھا جارہا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں بھی مذہب کے نام پر سوشل میڈیا کے ذریعہ جھوٹے اور بے بنیاد ویڈیوز/فوٹوز اور پوسٹس وائرل کرکے ہندو۔مسلم تفرقہ پیدا کرنے کی ناپاک سازشیں شروع ہوگئی ہیں!!۔ضرورت شدید ہے کہ بالخصوص دونوں جانب کے عوام اس نفرتی اور ناپاک سیاسی کھیل سے دور رہیں۔کیونکہ حیدرآباد اور ریاست کی بنیاد ہی سیکولرازم ہے۔ساتھ ہی حکومت تلنگانہ اور محکمہ پولیس کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے مذہبی جنونیوں اور فرقہ پرستی کو ہوا دینے والوں کو سختی کے نپٹیں چاہے وہ کسی جانب کے بھی ہوں۔تاکہ ریاست کا ماحول پرسکون رہے اور ریاست کی نیک نامی متاثر نہ ہو۔
گزشتہ رات سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوا ہے۔جو کہ تلنگانہ کے ضلع کریم نگر کا ہے۔انسٹاگرام اور فیس بک پیج پر اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پرمتحرک Drunk Journalist@ نے پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”تلنگانہ میں مسلمان پھل فروش کو ہیپی شیوراتری” فلیکسی ہٹانے پر مجبور کیا گیا۔کیونکہ اس نے ہندو جذبات کو مجروح کیا تھا۔پتہ نہیں ہندو تہوار کی مبارکباد سے بھی کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔اس کے بعد ایک مسلمان کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔سنئے بہادرمسلمان پھل فروش کو جو کہہ رہا ہے کہ”میں یہ جانتا ہوں اور آپ جانتے ہیں کہ یہ ایک سیکولر ملک ہے۔کچھ احمقوں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی۔”
اس ویڈیو کی تفصیلات خود اس ویڈیو میں موجود ہیں۔کہ ایک نوجوان جن کے نام کا انکشاف نہیں ہوا ہے اپنی موٹرسیکل پر بیٹھ کرایک ٹھیلہ بنڈی راں جو کہ”شیوراتری اسپیشل” کی فلیکسی لگائے ہوئے ہیں سے بحث کرنے میں مصروف ہے۔وہاں موجود چند افراد مداخلت کرتے ہوئے اس شخص کو وہاں سے روانہ کردیتے ہیں جو کہ اصرار کررہا ہے کہ مسلمان ہوکر کیوں یہ فلیکسی لگائی ہے؟فوری نکال دے!
اس واقعہ کے بعد ویڈیو لینے والے شخص اس پھل فروش مسلم نوجوان سے تفصیلات پوچھتے ہیں کہ واقعہ کیا ہوا تھا؟جس پر وہ بتاتے ہیں کہ ان کا نام سید اسلم ہے جو کہ نظام آباد ضلع کے ساکن ہیں اور کریم نگر کی عدالت کے علاقہ میں گزشتہ سات سال سے ٹھیلہ بنڈی پر پھلوں کا بیوپار کرتے ہیں۔اور جنہوں نے ان سے بحث کی ان کا مطالبہ تھا کہ میں وہ فلیکسی نکال دوں، جبکہ انہیں خوشی ہونا چاہئے تھا کہ میں مسلمان ہوکر برادران وطن کو شیوراتری کی مبارکباد دے رہا ہوں اور یہ ملک ایک سیکولر ملک ہے۔انسٹاگرام اور فیس بک صارفین اس ویڈیو پر کمنٹ کرتے ہوئے اس واقعہ کی مذمت کررہے ہیں۔

