مضبوط ہندوستان کے لیے بدلاؤ ضروری
دستور کے تحفظ اور ظلم سے لڑنا ہمارا مقصد،نوجوانوں اور ملک کا ماحول بچانا ہے
نچلی سطح کی سیاست اور بدلا لینے کا نام ہندوتوا نہیں ہے: ادھوٹھاکرے
چیف منسٹر تلنگانہ و مہاراشٹرا کی مشترکہ پریس کانفرنس
ممبئی: 20۔فروری(سحرنیوزڈاٹ کام)
چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے آج مہاراشٹرا کو دؤرہ کرتے ہوئےممبئ میں چیف منسٹر مہاراشٹرا ادھو ٹھاکرے سے ان کی رہائش گاہ ورشا میں ان سے ملاقات کی۔
چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ کے دؤرہ ممبئی کے دؤران ان کی دختر ورکن قانون ساز کونسل و سابق رکن پارلیمان حلقہ نظام آبادکے۔کویتا،مشہورفلم اداکار پرکاش راج،رکن پارلیمان چیوڑلہ ڈاکٹرجی۔رنجیت ریڈی،رکن پارلیمان سنتوش کمار اور دیگر شامل ہیں۔
چیف منسٹر مہاراشٹرا و شیوسینا چیف ادھو ٹھاکرے نے ان تمام کا شاندار خیرمقدم کیا اور ان کے لیے ایک پرتکلف ظہرانہ بھی ترتیب دیا تھا۔اس موقع پر شیوسینا کے فائر برانڈ رکن راجیہ سبھا سنجے راوت اور ادھو ٹھاکرے کے فرزند آدتیہ ٹھاکرے بھی موجود تھے۔

بعدازاں ان دونوں چیف منسٹرس نے ممبئی میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آج کی ملاقات کو انتہائی کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ادھو ٹھاکرے کے ساتھ آج ان کی ملاقات بہت ہی بہتر رہی اور کئی معاملات پر دونوں میں اتفاق پایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں علاقائی پارٹیوں پرمشتمل ایک سیاسی محاذ کی شدید ضرورت ہے اور اس کے لیے ملک کی مختلف ریاستوں کی علاقائی جماعتیں اس سلسلہ میں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں گی اور آگے چل کر سب مل کر کام کرنا طئے کیا ہے۔
چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے کہا کہ اس سلسلہ میں ملک کے دیگر ہمخیال سیاسی قائدین اور پارٹی سربراہوں سے ان کی بات چل رہی ہے اور ادھو ٹھاکرے بھی اپنی جانب سے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ اس پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چند دنوں میں حیدرآباد یا کسی اور مقام پر تمام ہمخیال پارٹیوں اور ان کے سربراہوں کا ایک اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں آگے کا لائحہ عمل طئے کیا جائے گا۔انہوں نے چیف منسٹر ادھو ٹھاکرے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ” ہم دونوں بھائی لگتے ہیں” کیونکہ ریاست تلنگانہ اور مہاراشٹرا کے درمیان ایک ہزار کلومیٹر طویل سرحدیں ہیں۔اور مہاراشٹرا حکومت کے تعاون سے ہی ریاست تلنگانہ میں کالیشورم پراجکٹ کی تعمیر ممکن ہوپائی ہے۔جس سے ریاست تلنگانہ کی قسمت کھل گئی ہے اور یہ بہت فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔
” چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ ممبئی میں ادھو ٹھاکرے کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے”
چیف منسٹر تلنگانہ نے کہا کہ تلنگانہ اور مہاراشٹرا کو مختلف معاملات میں مل جل کر کام کرنا ہوتا ہے اور ہر معاملہ میں دونوں ریاستیں ایک دوسرے سے بہترین تعاون کرتی آئی ہیں ان امور پر بھی آج خوشگوار بات چیت ہوئی ہے اور دوستی نبھانی ہے۔ساتھ ہی ملک کے سیاسی حالات پر بھی بات ہوئی۔انہوں نے کہا کہ آج جس حساب سے ملک چل رہا ہے اس میں بلاؤ آنا چاہئے،کیونکہ آزادی کے 75 سال بعد لازمی طورپر جو ترقی ہونی تھی وہ نہیں ہوئی ہے۔
چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے کہا کہ ہم لوگ ایک بات پر متفق ہوگئے کہ ملک میں بڑے پیمانے پر تبدیلی ہونی چاہئے۔ملک کے نوجوانوں کو اور ملک کے ماحول کو خراب نہیں کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ پیار محبت کے ساتھ ہندوستان کو مضبوط بنانا ہے یہی ہم دونوں چاہتے ہیں۔اور اس معاملہ کو آگے بڑھانے کے لیے تمام ہمخیال علاقائی جماعتوں سے بات چیت کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اس کام کی آج چھترپتی شیواجی مہاراج اور بالا صاحب ٹھاکرے کے مہاراشٹرا سے آغاز ہوا ہے جو کہ نیک فال ہے۔اور اس کے بہت ہی اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔
اس موقع پر چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے اپنے ہم منصب ادھو ٹھاکرے کو اپنی جانب سے اور تلنگانہ کے عوام کی جانب سے دؤرہ حیدرآباد کی دعوت بھی دی۔آخر میں کے۔چندراشیکھرراؤ نے کہا کہ مہاراشٹرا سے جو پیار انہیں ملا ہے اسے وہ اپنے ساتھ لے جارہے ہیں اور ایسا ہی پیار انہیں لؤٹانے کی کوشش بھی کریں گے۔
صحافیوں کے سوال پر چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے کہا کہ آج ہم دونوں کی بات چیت سے ایک نئی شروعات ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی جیوتشی کرنے کی ضرورت نہیں ہے ہم ملک کے تمام ہمخیال قائدین سے کھل کر بات کریں گے اور جلد سے جلد طئے کریں گے کہ شروعات کیسے کی جائے۔
ایک صحافی کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے کہا کہ مرکزی حکومت مرکزی ایجنسیوں کا بری طرح استعمال کررہی ہے اس میں کوئی شک ہی نہیں ہے جو کہ نہیں ہونا چاہئے اور ہم اس کی مذمت کرتے ہیں مرکزی حکومت سے مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ وہ اس سلسلہ کو بند کردے اگر نہیں بدلیں گے وہ خود آگے چل کر اسے بھگتیں گے!!ایسی کئی چیزیں دیکھ چکے ہیں۔
اس پریس کانفرنس سے زیادہ تر مراٹھی اور ہندی میں خطاب کرتے ہوئے مہاراشٹرا کے چیف منسٹر ادھو ٹھاکرے نے اپنے ہم منصب کے چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھر راؤ کی جانب سے بی جے پی مخالف محاذ بنانے کی کوششوں کی حمایت کا یقین دلایا۔انہوں نے کہا کہ ملک کی وفاقیت کو نقصان پہنچانے اور ہندو توا کے نام پر نچلی درجہ کی سیاست ہندوتوا نہیں ہے”۔
یاد رہے کہ ادھو ٹھاکرے،ان کے والد بالا صاحب ٹھاکرے اور ان کی پارٹی شیوسینا کبھی سخت ہندوتواوادی،مخالف مسلم اور بی جے پی کے دیرینہ حلیف مانے جاتے تھے 2019 میں بی جے پی کو ڈنک مارکر کانگریس،این سی پی کی تائید سے مہاراشٹرا کے اقتدار پر قبضہ کیا تھا جس کے بعد ان کی شبیہ ملک بھر بہتر مانی جاتی ہے۔اس وقت سے ادھو ٹھاکرے بی جے پی کے راڈار پر ہیں۔
لیکن ریاست اور ملک میں انہوں نے اپنی بہترین کارکردگی اور فرقہ وارانہ ماحول کو بہتر بنایا ہے نے آج پریس کانفرنس میں ریمارک کیا کہ” ہمارا ہندوتوا ایسا نہیں ہے بدلا لینے والا! انہوں نے کہا کہ ملک میں جو صورتحال چل رہی ہے اور جس طرح سے نچلی سطح کی سیاست ہو رہی ہے وہ ہندوتوا نہیں ہے۔
مسٹر ٹھاکرے نے اعلان کیا جن کی پارٹی نے دہائیوں سے دائیں بازو کی سیاست میں بی جے پی کے ساتھ مشترکہ بنیاد پائی تھی۔ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ہندوتوا تشدد یا انتقام کا نام نہیں ہے۔اگرحالات اسی طرح جاری رہے تو ملک کا مستقبل کیا ہوگا”؟ شیوسینا لیڈر نے مزید کہا کہ ان پر بی جے پی نے کانگریس اور شرد پوار کی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی جیسی سیکولر جماعتوں کے ساتھ اقتدار میں حصہ لینے کے لیے اپنی نظریاتی وابستگی کو کمزور کرنے کا الزام لگایا ہے۔ادھو ٹھاکرے نے کئی مرتبہ بی جے پی پر تنقید بھی کی۔وفاقیت کے متعلق اپوزیشن کی تشویش کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ” جو ماحول ریاستوں اور مرکز کے درمیان ہونا چاہیے تھا،وہ آج نظر نہیں آ رہا ہے۔اور یہ سیاست نہیں چلے گی،اس لیے ہم نے ایک نئی شروعات کی ہے۔”
” چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ بزرگ رہنما،این سی پی سپریمو،سابق چیف منسٹر مہاراشٹرا و سابق مرکزی وزیر شردپوار سے ملاقات کے بعد میڈیا نمائندوں نے بات کرتے ہوئے "

