گجرات ماڈل کے نام پر ووٹ لے کر سب کے ہاتھ میں بھیک کا کٹورا دے دیا گیا
بی جے پی قائدین دوسروں کے بچوں کو ہمارے بچے کہہ کر لاڈ کرنے میں ماہر
بی جے پی ملک اور ریاست کے لیے منحوس،سوشل میڈیا کا جھوٹ بھانامتی کا عمل
ملک کے لیے کانگریس اور بی جے پی کا متبادل ضروری،وزیراعلیٰ تلنگانہ چندراشیکھرراؤ کی پریس کانفرنس
حیدرآباد: 01۔فروری(سحرنیوزڈاٹ کام)
وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھر راؤ نے الزام عائد کیا ہے کہ 2014 کے عام انتخابات میں ملک کے سامنے گجرات ماڈل کا ڈھنڈورہ پیٹ کر بی جے پی نے ووٹ حاصل کرتے ہوئے ملک کے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔لیکن اب عوام کے ہاتھوں میں بھیک مانگنے کا کٹورا تھما دیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہے گجرات ماڈل؟ صرف ہوائی قلعے تعمیر کیے گئے اور غریبوں کو مکمل نظرانداز کرنا اور انہیں بے بس کرنے کا نام ہی گجرات ماڈل ہے۔

پارلیمنٹ میں مرکزی بجٹ پیش کیے جانے کے بعد وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ آج شام پرگتی بھون میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔جس میں ریاستی وزیرداخلہ جناب محمدمحمود علی،ریاستی وزیر فینانس و صحت ٹی۔ہریش راؤ، وزرا ستیہ وتی راتھوڑ، تلسانی سرینواس یادواور دیگر شریک تھے۔
مرکزی بجٹ پر شدید برہم وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤنے کہا کہ اس بجٹ میں عام بھارتیوں کے لیے کچھ بھی فائدہ مند نہیں ہے۔وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ نے اس پریس کانفرنس سے اپنے خطاب میں طنزیہ طور پر کہا کہ کانگریس نے 70 سال تک اس ملک کے لیے کچھ نہیں کیا۔اس کے بعد یہ سپاہی نریندرمودی آئے جیسے کہ انہوں نے گجرات میں کوئی کارنامہ انجام دیا تھا۔چند تصاویر کو چور سوشل میڈیا کے ذریعہ پھیلاکر،سوشل میڈیا جھوٹ پر مبنی پروپگنڈہ کرکے اقتدار حاصل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ مودی اور بی جے پی کی سوچ کیا ہے وہ آج ظاہر ہوگئی ہے۔
وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ نے کہا کہ اس بجٹ میں کوئی خاص بات نہیں ہے جس میں کسانوں اور غریبوں کی پریشانیوں کا بالکل خیال نہیں رکھا گیا ہے۔انہوں نے ریمارک کیا کہ اس بجٹ کے بعد واضح ہوگیا ہے کہ حکومت کے پاس دماغ موجود نہیں ہے۔
وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے کہا کہ کوویڈ کی دوسری لہر کے دؤران اس حکومت نے عوام اور مزدوروں کا مکمل نظر انداز کردیا تھا۔مقدس گنگاندی میں تیرتی ہزاروں لاشیں آج بھی اس کی گواہ ہیں۔لاکھوں مہاجر مزدوروں اور عوام کے لیے ٹرانسپورٹ اور ٹرین ٹکٹوں کا نظم تک نہیں کیا گیا جنہوں نے پیدل سفر کیا اس دؤران کئی معصوم افراد پیدل چل کر ہلاک ہوگئے۔
پریس کانفرنس سے اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج پیش کیے گئے مرکزی بجٹ میں شعبہ زراعت اور کسانوں کو مکمل طور پر نظرانداز کردیا گیا۔ایس سی،ایس،ایس ٹی اور دیگر طبقات کو بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچایا گیا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم مودی نے کسانوں سے معافی تو مانگی مگر بجٹ میں انہیں کچھ نہیں دیا گیا۔اسی طرح غریب طبقات کو بھی سوائے صفر کے کچھ بھی نہیں دیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ یوریا پر 12،708 کروڑ کی سبسڈی گھٹائی گئی ہے،وہیں دیگر جراثیم کش ادویات پر 22،190 کروڑ روپئے کی سبسڈی میں کمی کی گئی ہے۔اسی طرح قومی ضامن روزگار اسکیم سے 25 ہزار کروڑ کی رقم کم کردی گئی ہے جس سے احساس ہوتا ہے کہ وزیراعظم مودی کو دیہی عوام سے کتنی محبت ہے؟وزیراعلیٰ نے یہ کہتے ہوئے سوال کیا کہ حکومت آخر کس کے لیے ہے جبکہ ملک میں 40 کروڑ ایس سی اور ایس ٹیز کی آبادی موجود ہے تو ان کے لیے بجٹ میں صرف 12 ہزار کروڑ روپئے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ جو کہ اپنے منفرد لب و لہجہ اور برمحل،برجستہ الفاظ کے استعمال میں ماہر مانے جانے جاتے ہیں نے اس پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی سے کچھ کہنا دیوار سے باتیں کرنے کے مماثل ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے ملک کو ایک دلندر اور نحوست کی طرح گھیرلیا ہے۔اس سے زیادہ نحوست ریاست تلنگانہ میں بھی پیدا ہوگئی ہے!جنہیں اکھاڑکر پھینکنا لازمی ہے۔
وزیراعلیٰ نے برہمی ظاہر کرتے ہوئے ریمارک کیا کہ "بی جے پی قائدین انتہائی بے شرمی کے ساتھ دوسروں کے بچوں کو اپنے بچے کہہ لاڈ کرنے میں ماہر ہیں”۔
انہوں نے کہا کہ کھیت باڑی پر انکم ٹیکس کے لزوم کو برخاست کرنے کی بارہا اپیل کی گئی لیکن اسے نظر انداز کردیا گیا۔اس پریس کانفرنس میں وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے زور دیکر کہا کہ بی جے پی سے سوال کیا جاتا رہے گا،انہوں نے اعلان کیا کہ چند دن بعد وہ دہلی کا دؤرہ کریں گے موجودہ حالات کو تبدیل کرنے کے لیے جو کچھ کرنا پڑے وہ اس کے لیے کوشش کریں گے،ملک کی معاشی ترقی، عوام کی طرز زندگی کی تبدیلی کے لیے وہ اپنی جان کی فکر بھی نہیں کریں گے اور اس کے لیے جو کچھ کرنا ہوگا وہ کریں گے ہر ایک سیاسی جماعت سے بات کریں گے،جو ساتھ چلنے تیار ہوں ان کو ساتھ لیں گے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں اتنے قدرتی وسائل موجود ہیں کہ جن کے استعمال سے ملک امریکہ سے زیادہ ترقی کرسکتا ہے۔
ساتھ ہی وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ کوئی تھرڈ فرنٹ نہیں ہوگا مقصد سب کا ایک ہی ہوگا کہ ملک ترقی کرے اورعوام خوشحال رہیں۔
وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ نے اس احساس کا اظہار بھی کیاکہ موجودہ دستور میں چند تبدیلیوں کی ضرورت ہے پنڈت جواہر لال نہرو ،کانگریس سے لے کر بئ جے پی تک نے غلطیاں کی ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ آئندہ ماہ ہونے والے پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج جو بھی آئیں یہ تو طئے ہے کہ بی جے پی کی طاقت مقبولیت کم ہوگی اور ساتھ ہی اس کا گھمنڈ بھی ٹوٹے گا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں بی جے پی کی حیثیت صفر ہے اترپردیش میں اس کی طاقت کم ہوگی جبکہ دیگر تین ریاستیں چھوتی ہیں جبن کے نتائج کا کوئی خاص اثر نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام نے کانگریس اور بی جے پی دونوں کو آزمالیا اب ضرورت ہے ان دونوں کے متبادل کی!اس کے بعد کیا نتائج ہوں گے یہ پورا ملک دیکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے بہتر مستقبل کے لیے اب جدوجہد لازمی ہوگئی ہے۔اور کس طریقہ سے اس جدوجہد کا آغاز کیاجائے یہ طئے کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ جلد ہی حیدرآباد میں ملک کے تمام ریاٹائرڈ آئی اے ایس،آئی پی ایس، آئی ایف ایس عہدیداروں کا ایک اجلاس منعقد کیا جائے گا ساتھ ہی وزیراعلیٰ نے واضح طور پر کہا کہ اس کا مقصد نچلی درجہ کی سیاست کرنا یا وزیراعظم بننا ہرگز نہیں ہے صرف ملک کے بہتر مستقبل کے لیے وہ سوچ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات باعث شرم ہے کہ ملک میں اتنے قدرتی وسائل اور عوامی ذرائع رہنے کے باوجود 75 سال بعد بھی ملک کی معیشت 40 لاکھ کروڑ سے آگے نہیں بڑھ پائی ہے۔انہوں نے کہا کہ جو کچھ حکومت کہہ رہی وہ سب جھوٹ اور گول مال ہے اور جھوٹے اعداد وشمار کے ساتھ ملک کو بیوقوف بنایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب عوام جاگ جاتی ہے تو وہ خود رہنماؤں کو راستہ دکھاتی ہے۔
اپنے مخصوص انداز میں وزیراعلیٰ کے سی آر نے کہا کہ انتہائی بے شرمی کے ساتھ جھوٹے پروپگنڈے کیے جارہے ہیں جیسے کسی خالی ٹین کے ڈبے میں پتھر ڈال کر آوازیں پیدا کی جاتی ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ گزشتہ 8 سال کے دؤران صرف مذہبی منافرت پیدا کی گئی،عوام سے عوام کو لڑوایا گیا اور بے شرمی کے ساتھ جھوٹ پھیلایا گیا۔
وزیراعلیٰ کے سی آر نے وزیراعظم نریندر مودی کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کو جھوٹ کا اڈہ بنادیا گیا ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ بنگال میں انتخابات ہوں تو دارھی بڑھا کر رابندر ناتھ ٹیگور بن جانا؟ تمل ناڈو میں انتخابات ہوں تو لنگی پہن لینا؟ انہوں نے استفسار کیا کہ یہ کیا کام کرنے کا طریقہ ہوا؟ کیا کپڑے بدلنے پر ملک میں برقی پیدا ہوجاتی؟
سوشل میڈیا پر شدید تنقید کرتے ہوئے اپنے منفرد لب و لہجہ میں سوشل میڈیا کو بھانامتی کا عمل قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ہر طرف جھوٹ پھیلایا جارہا ہے انہوں نے اعلان کیا کہ اس سوشل میڈیا کا پردہ جلد ہی فاش کیا جائے گا،غیر قانونی حرکتوں میں ملوث تمام چہروں کو باہر لایا جائے گا۔
انہوں نے کہ اس بھانامتی کے عمل اور جھوٹ پھیلانے کو صحافت کہنا غلط ہوگا۔انہوں نے سوال کیا کہ حکومت کی جانب سے اتنی ساری فلاحی اسکیمات پر عمل آوری اور ریاست کی تیزرفتار ترقی کے دؤران بھی اس بھانامتی کے سوشل میڈیا کے ذریعہ جھوٹ پھیلانے پر ہم خاموش ہی رہیں؟
وزیراعلیٰ کے سی آر نے انکشاف کیا کہ انہوں نے مہاراشٹرا کے وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے سے بھی کل ہی بات کی ہے اور ان سے ملاقات کے لیے وہ دو چار دن میں ممبئی جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے لیے وہ کہیں بھی جائیں گے اور کسی سے بھی ملاقات کرنے تیار ہیں کیونکہ وہ اس ملک کے ایک سپاہی ہیں اور ملک کے بہتر مستقبل کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ نے اس طویل پریس کانفرنس کے دؤران کہا کہ اترپردیش میں بی جے پی مخالف رحجان پایا جاتا ہے۔جو مقبولیت اسے پہلے حاصل تھی اب نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی مقبولیت کا گراف تیزی کے ساتھ گررہا ہے۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پانچ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کو 2024 کے عام انتخابات کا سیمی فائنل قرار دینا مکمل غلط ہے لیکن یہ طئے ہے کہ ان کے نتائج 2024 کے عام انتخابات میں بی جے پی کے زوال کی بنیاد ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں سیاسی تبدیلی لازمی ہے اور وہ اس میں اپنا رول ادا کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاہم وہ ذمہ داری کیا اور کیسے ہوگی کہنا قبل ازوقت ہوگا۔اور اس تبدیلی کے لیے ہر وہ اقدام کیا جائے گا جو کہ عوام اور ملک کے مفاد میں بہتر ہوگا۔
وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ نے اس پریس کانفرنس میں کہا کہ تلنگانہ کے ساتھ ساتھ یہاں کی اراضیات کی قیمتوں میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے دیگر شہروں کے لوگ حیدرآباد میں فلیٹس اور مکانات خرید رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے بحیثیت وزیراعلیٰ کوئی جلد بازی یا من مانی نہیں کی،اطمینان کے ساتھ ریاست کی ترقی کو یقینی بنایا۔
وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے انکشاف کیا کہ ملک میں تلنگانہ وہ واحد ریاست ہے جہاں کلیانہ لکشمی اور شادی مبارک جیسی سرکاری اسکیمات کے ذریعہ دس لاکھ لڑکیوں کی شادیاں ہوئی ہیں۔
اس پریس کانفرنس میں وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ نے کہا کہ تلنگانہ میں بی جے پی کا کوئی وجود نہیں ہے 2018 کے اسمبلی انتخابات میں اس کےتمام امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوئی ہیں۔اور اس کی طاقت میں مزید کمی واقع ہوگی۔انہوں نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں ٹی آر ایس پارٹی 95 تا 105 اسمبلی نشستوں پر شاندار کامیابی حاصل کرے گی۔
ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ ریاست میں قبل از وقت انتخابات نہیں ہوں گے کیونکہ انہیں 103 ارکان اسمبلی کی تائید حاصل ہے۔انہوں نے طنزیہ لہجہ میں کہا کہ چند بیوقوف ایسی افواہیں پھیلارہے ہیں کہ ریاست میں قبل ازوقت ریاستی اسمبلی کے انتخابات ہوں گے جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے اور طئے شدہ شیڈول کے مطابق ہی انتخابات منعقد ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ 6 ماہ قبل ہی پارٹی کے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا جائے گا۔
TelanganaCM #KChandrashekarrao #PressConf#

