مسلم خواتین کی نیلامی والے”بُلّی بائی ایپ "کا اصل ماسٹر مائنڈ نیرج بشنوئی آسام سے گرفتار، گرفتار شدگان کی جملہ تعداد چارہوگئی

مسلم خواتین کی نیلامی والے” بُلّی بائی ایپ” کااصل ماسٹر مائنڈ
نیرج بشنوئی آسام کے جورہاٹ سے گرفتار،دہلی منتقل
گرفتار شدہ چاروں ملزمین انجینئرنگ کے طلبہ

دہلی/ممبئی: 06۔جنوری
(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

یکم جنوری کو انتہائی فحش اور نازیبا لفظ پرمشتمل” بُلی بائی ایپ” Bulli Bai App ” کے ذریعہ ملک کی زائداز 113 با اثر،عزت دار اور اپنے اپنے پیشہ میں ماہرمسلم خواتین بشمول صحافی و جہد کار لڑکیوں کی تصاویر اپ لوڈ کرکے” ڈیل آف دی ڈے”کے آفر کے ساتھ ان کی نیلامی شروع کی گئی تھی۔

جس کے فوری بعد ویسٹ زون سائبر کرائم پولیس اسٹیشن،ممبئی نے اس بلی ایپ اور اس کو پروموٹ کرنے والے گٹ ہب اور نامعلوم خاطیوں کے خلاف مختلف دفعات کے تحت3 جنوری کو بنگلورو سے وشال کمارجھا نامی 21 سالہ نوجوان کو،21سالہ میانک راوت اور شویتا سنگھ 19 سالہ کو اتراکھنڈ سے گرفتار کرکے انہیں ممبئی کی باندرا عدالت میں پیش کرتے ہوئے پولیس ریمانڈ حاصل کرلیا۔

بنگلورو سے گرفتار وشال کمار جھا کو 3 جنوری کو ممبئی پولیس باندرا کی عدالت میں پیش کرنے لے جاتے ہوئے۔

اس سلسلہ میں دہلی ویمن کمیشن کی شکایت کے بعد دہلی پولیس نے بھی ایک کیس درج کرتے ہوئے آج آسام سے نیرج بشنوئی 21سالہ کو گرفتار کرتے ہوئے دہلی منتقل کیا ہے۔

کے پی ایس ملہوترا، ڈپٹی کمشنر آف پولیس، انٹلیجنس فیوژن اور اسٹریٹجک آپریشنز (IFSO) )یونٹ نے میڈیا کو دعویٰ کیا ہے کہ آسام سے گرفتار شدہ نیرج بشنوئی گٹ ہب پر ‘بُلّی بائی ایپ کا اصل سازشی،تخلیق کار اور اس ایپ کا مرکزی ٹوئٹر اکاؤنٹ ہولڈر ہے۔

دہلی پولیس ذرائع نے بتایا کہ 21 سالہ نیرج بشنوئی بھوپال کے ایک انسٹیٹیوٹ میں انجینئرنگ کے دوسرے سال کا طالب علم ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اسے آسام کے جورہاٹ میں اس کے آبائی شہر سے گرفتار کیا گیا اور اسے آج شام دہلی لایا گیا ہے۔

یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ اس معاملہ میں اتراکھنڈ سے گرفتار شویتا سنگھ کو ممبئی پولیس نے بلی بائی ایپ کی اصل سرغنہ بتایا تھا اور اسے بنگلورو سے گرفتار وشال کمار جھا کی نشاندہی کے بعد میانک راوت کے ساتھ گرفتار کیا تھا۔اب دہلی پولیس آسام سے نیرج بشنوئی کو گرفتار کرکے اس کو اصل ماسٹر مائنڈ بتارہی ہے!! ممبئی اور دہلی پولیس کیا آپسی تال میل کے ذریعہ ان خاطیوں کے زریعہ اس معاملہ کے اصل ذہنوں تک پہنچ پائیں گے یا پھر اس معاملہ کو بھی سرد خانہ میں ڈال دیا جائے گا؟؟

اس طرح مسلم خاتون صحافیوں،جہد کاروں اور طالبات کو اس بُلّی بائی ایپ کے ذریعہ نیلام کرنے والے معاملہ میں اب تک جملہ چار گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔قابل غور بات یہ ہے کہ ان تمام کو ان ریاستوں سے پولیس نے گرفتار کیا ہے جہاں بی جے پی کی حکومتیں ہیں!! اور یہ چاروں ہی انجینئرنگ کے طلبہ ہیں۔

اتراکھنڈ سے گرفتار شویتا سنگھ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ چند سال قبل اس کی ماں کینسر کے عارضہ سے انتقال کرگئی جبکہ گزشتہ سال اس کے باپ کی کوویڈ سے موت ہوگئی یہ تین بہنیں ہیں۔

جبکہ میانک راوت دہلی یونیورسٹی کا طالب علم ہے اس کے والد پردیپ سنگھ انڈین آرمی ہیں اور جموں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

بہار کا ساکن وشال کمار جھا بنگلور میں رہ کرتعلیم حاصل کررہا ہے۔پولیس کے مطابق ان چاروں میں ربط و ضبط تھا اور یہی بلی بائی ایپ کے ذریعہ مسلم خواتین کی نیلامی میں ملوث ہیں۔

دہلی اور ممبئی پولیس کے لیے لازمی ہوگیا ہے کہ وہ اس بات کا پتہ لگائیں کہ ان چاروں مہروں کا اصل گرو کون ہے؟ کیونکہ صرف ان چار نوجوانوں کی جانب سے اس طرح کا ایپ تیار کرنا اور مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں مشتعل کرنا ممکن نہیں ہے!

اسی دؤران انڈین ایکسپریس کے صحافی mahendermanral@ نے آج شام ٹوئٹر پر نیرج بشنوآسام سے گرفتار شدہ نیرج بشنوئی نے ممبئی سائبر کرائم کی جانب سے تین گرفتاریوں کے بعد ایک نیا ٹوئٹر اکاؤنٹ giyu44@ بناتے ہوئے کل 5 جنوری کو ٹوئٹ کیا تھا کہ”ممبئی پولیس تم نے غلط لوگوں کو گرفتار کیا ہے اور بلی بائی ایپ کا اصل تیار کنندہ میں ہوں”۔جن دو بے گناہوں کو آپ نے گرفتار کیا ان سے کوئی تعلق نہیں،انہیں جلد از جلد رہا کرو”۔

https://twitter.com/giyu44/status/1478595245835227137

” بُلّی بائی ایپ” کے خلاف شیوسینا کی رکن راجیہ سبھا پرینکا چترویدی،راہول گاندھی،بیر اسدالدین اویسی کے علاوہ کئی نامورشخصیتوں نے پولیس اور حکومت سے شدید مطالبہ کیا تھا کہ اس معاملہ میں فوری کارروائی کرتے ہوئے خاطیوں کو گرفتار کیا جائے۔اور ساتھ ہی جن مسلم خواتین اور لڑکیوں کی 113 تصاویر نیلامی کے لیے اس ایپ پر لگائی گئیں تھیں ان میں کئی ایک نے بھی پولیس میں شکایت درج کروائی تھی۔

افسوسناک بات یہ بھی ہے کہ اس معاملہ میں گرفتاری کے بعد ان تمام چاروں ملزمین کےمستقل تاریک ہونے کے آثار ہیں!

نامور صحافی راویش کمار شروع ہی سے اپنے ہر پرائم ٹائم شو میں کہتے آرہے ہیں کہ ایک مخصوص مذہب کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے اکثریتی فرقہ کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو استعمال کرتے ہوئے انہیں مجرم بنایا جارہا ہے!

یاد رہے کہ کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان کے ہاتھوں ٹیم انڈیا کی شکست کے بعد اس ٹیم کا حصہ محمد شامی کو انتہائی ذلیل طریقہ سے سوشل میڈیا پر ٹرول کیا گیا تھا جس پر ٹیم انڈیا کے کپتان ویراٹ کوہلی نے محمد شامی کی تائید کرتے ہوئے محمد شامی کے خلاف ٹرولنگ میں مصروف گروپ کو نفسیاتی مریض کہا تھا!

جس کے بعد ویراٹ کوہلی کے خلاف بھی اہانت آمیز مہم چلائی گئی حتیٰ کہ ٹوئٹر پر ویراٹ کوہلی اور انوشکا شرما کی دس ماہ کی بیٹی کا ریپ کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔

بعدازاں اس ٹوئٹ کرنے والے کی شناخت رام نگیش الی باتھینی 23 سالہ کے طور پر ہوئی تھی جسے 10 نومبر کو ممبئی پولیس نے حیدرآباد سے گرفتار کرکے ممبئی منتقل کیا تھا۔رام نگیش الی باتھینی بھی سوفٹ انجنئر تھا جو 35 لاکھ روپئے ماہانہ کی ملازمت پر امریکہ جانے والا تھا!

اس طرح مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم کے لیے ایسے سادہ لوح،جوشیلے نوجوانوں کا مستقبل برباد کیا جارہا ہے۔!