تلنگانہ میں بھی نئے سال کی تقاریب پر پابندیاں عائد کی جائیں
ریاستی ہائی کورٹ میں درخواست داخل،سماعت کل
حیدرآباد :29۔ڈسمبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
ملک اور ریاست میں اومیکرون اور کورونا وائرس کے بڑھتے کیسوں کے پیش نظر ملک کی دس ریاستوں میں رات کا کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔اور دیگر ریاستوں میں مختلف پابندیاں عائد کردی گئی ہیں، جبکہ دہلی میں Yellow Alert جاری کرتے ہوئے کئی سخت پابندیاں عائد کرتے ہوئے تعلیمی اداروں،سینما ہالس اور جِم بھی بند کردئیے گئے ہیں۔ملک کی مختلف ریاستوں میں شدید پابندیوں کے ساتھ نئے سال کے جشن اور تقاریب پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
لیکن حکومت تلنگانہ کی جانب سے چند سخت ہدایات اور پابندیوں کے ساتھ 31 ڈسمبر کی رات ایک بجے تک نئے سال کے جشن کی اجازت پر عوام کی جانب سے اعتراض کیا جارہا ہے۔ اسی مسئلہ پر آج تلنگانہ ہائی کورٹ میں ایک درخواست داخل کرتے ہوئے عدالت سے اس معاملہ میں مداخلت کی اپیل کی گئی ہے۔
ریاستی ہائی کورٹ میں داخل کی گئی اپیل میں کہا گیا ہے کہ 31 ڈسمبر کی رات نئے سال کے جشن کے لیے رات ایک بجے تک کا وقت دیا جانا پابندیوں میں کیسے شمار کیا جاسکتا ہے؟حکومت کی جانب سے لیے گئے اس اقدام کے خلاف کارروائی کرنے کی ہائی کورٹ سے اپیل کی گئی ہے۔
ہائی کورٹ میں داخل کی گئی اس اپیل میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس طرح کی اجازت کے ذریعہ حکومت تلنگانہ نے عالمی وبا، وبائی امراض اور آفات سماوی کی روک تھام (ڈیزاسٹر مینجمنٹ) کو نظر انداز کرتے ہوئے احکام جاری کیے ہیں۔اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی ہدایات کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ حکومت تلنگانہ نے اومیکرون کے بڑھتے معاملات کو دیکھتے ہوئے نئے سال کے جشن کے لیے چند قواعد کے ساتھ نرمی دی ہے۔31 ڈسمبر کی نصف شب کے بعد ایک بجے رات تک ہی نئے سال کی تقاریب منائی جاسکتی ہیں۔ساتھ ہی عوام بالخصوص نوجوانوں اور نئے سال کی تقاریب منانے والوں کو انتباہ دیا گیاہے کہ وہ کوویڈ قواعد پر لازمی طور پر عمل کریں،ماسک پہنیں اور مجمع کی شکل میں نہ گھومیں۔خلاف ورزی کرنے والوں پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
حکومت کی جانب سے دی گئی اس ڈھیل کی مخالفت کرتے ہوئے ریاستی ہائی کورٹ میں آج داخل کردہ پٹیشن میں عدالت سے اپیل کی گئی ہے کہ اس سلسلہ میں دیگر ریاستوں کی طرح سخت پابندیاں عائد کی جائیں۔
اس پٹیشن میں ہائی کورٹ کو بتایا گیا ہے کہ ریاست میں اب تک 62 اومیکرون کے کیس درج ہوئے ہیں۔لہذا ہائی کورٹ تلنگانہ حکومت کو ہدایت جاری کرے کہ اس کی جانب سے جاری کیے گئے ہدایت نامہ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نئے سال کے جشن پر مکمل طور پر پابندی عائد کی جائے۔
ریاستی ہائی کورٹ میں داخل کی اس درخواست کی کل 30 ڈسمبر کو سماعت ہوگی۔اب سب کی نظریں ہائی کورٹ پر ہیں۔کیا ریاست میں بھی نئے سال کے جشن پر مکمل طور پر پابندی عائد کرنے کی ہدایت جاری کی جائے گی؟

