تلنگانہ: انٹرمیڈیٹ سال اول میں ناکام قراردئیے گئے تمام طلبہ بھی کامیاب قرار: وزیرتعلیم سبیتا اندرا ریڈی کا اعلان

تلنگانہ: انٹرمیڈیٹ سال اول میں ناکام قرار دئیے گئے تمام طلبہ بھی کامیاب قرار
ریاستی وزیرتعلیم سبیتا اندرا ریڈی کا اعلان

حیدرآباد :24۔ڈسمبر(سحرنیوزڈاٹ کام)

حال ہی میں جاری کیے گئے انٹرمیڈیٹ سال اول کے نتائج پر ریاستی وزیرتعلیم پی۔سبیتا اندراریڈی نے آج شام ایک اہم فیصلہ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انٹرسال اول کے امتحانات میں شرکت کرنے والے تمام طلبہ کو کامیاب قرار دینے کا حکومت نے فیصلہ کیا ہے۔

آج شام پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرتعلیم نے کہا کہ ریاستی وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھر راؤ کی ہدایت پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ناکام ہونے والے تمام طلبہ کو اضافی نشانات کے ساتھ کامیاب قرار دیا جائے۔

اس طرح حالیہ جاری انٹر سال اول کے نتائج میں ناکام قرار دئیے گئے تمام طلبہ کو بھی کامیاب قرار دینے کا حکومت نے فیصلہ کیا ہے۔

وزیرتعلیم پی۔سبیتا اندراریڈی نے کہا کہ کوویڈ وبا سے شعبہ تعلیم پر بھی شدید اثرات مرتب ہوئے ہیں اور اس کو کم سے کم کرنے کے ریاستی حکومت نے تمام اقدامات بھی کیے۔ اور اس کے لیے ڈیجٹیل اور ٹی۔شاٹ کے ذریعہ تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھنے کے اقدامات بھی کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ 9 جماعت کے طلبہ کو بناء امتحانات کے دسویں جماعت میں پروموٹ کیا گیا اور دسویں جماعت میں زیرتعلیم طلبہ کو انٹرمیڈیٹ میں پروموٹ کیا گیا۔اسی طرح انٹرمیڈیٹ سال دوم کے طلبہ کو بھی پروموٹ کیا گیا۔

وزیرتعلیم پی۔سبیتا اندراریڈی نے کہا کہ ریاست میں 900 گروکل اسکولس قائم کیے گئے جن میں سے 620 گروکل اسکولس کو انٹرمیڈیٹ تک ترقی دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کے یوٹیوب چینل کو تین لاکھ سے زائد طلبہ نے سبسکرائب کرکے دیکھا ہے۔جس کے بعد طئے کیا گیا کہ انٹرسال دوم میں جانے والے انٹرسال اول کے طلبہ کے لیے امتحانات منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

وزیرتعلیم پی۔سبیتا اندراریڈی نے کہا کہ کافی غور و خوص کے ایک ماہ کا وقت دیتے ہوئے انٹرسال اول کے امتحانات منعقد کیے گئے تھے اور ان امتحانات میں شرکت کرنے والے طلبہ میں 49 فیصد طلبہ ہی کامیاب ہوپائے تھے۔

وزیرتعلیم پی۔سبیتا اندراریڈی نے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ناکام ہونے والے طلبہ اور دیگر کی جانب سے یہ الزامات افسوسناک اور تکلیف دہ ہیں کہ اس سلسلہ میں حکومت کی غلطی ہے! انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اس معاملہ میں تلنگانہ اسٹیٹ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ سے کوئی غلطی یا کوتاہی نہیں ہوئی ہے۔

وزیرتعلیم پی۔سبیتا اندراریڈی نے طلبہ، ان کے والدین اور سیاسی جماعتوں کو مشورہ دیا کہ وہ طلبہ کے مستقبل کے معاملہ میں ذمہ دارانہ رول ادا کریں۔اور بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے کامیاب ترغیب دیں۔

وزیرتعلیم پی۔سبیتا اندراریڈی نے بتایا کہ انٹرمیڈیٹ سال اول میں ناکام ہونے والے طلبہ کے نشانات میں 10 اضافی نشانات شامل کیے جائیں تو 8،070 طلبہ امتیازی نشانات سے کامیاب ہوں گے جبکہ 25 اضافی نشانات دئیے جائیں تو 70،000 طلبہ کامیاب ہوجائیں گے۔

وزیرتعلیم پی۔سبیتا اندراریڈی نے واضح کیا کہ ان نتائج کے اثرات انٹرمیڈیٹ سال دوم کے امتحانات پر مرتب نہ ہوں اسی لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مستقبل میں دوبارہ یہی فیصلہ کرنا ناممکن ہے لہذا طلبہ محنت کے ساتھ تعلیم حاصل کریں اور مکمل تیاریوں کے ساتھ امتحانات میں شریک ہوں۔

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ 16 ڈسمبر کو تلنگانہ اسٹیٹ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کی جانب سے انٹرمیڈیٹ سال اول 2021ءکے نتائج  جاری کیے گئے تھے۔ان امتحانات میں 49 فیصد طلبا و طالبات نے امتیازی کامیابی نشانات سے کامیاب ہوئے تھے۔جن میں 56 فیصد طالبات اور 42 فیصد طلبا شامل تھے۔

جاریہ سال 25 اکتوبر تا 3 نومبر انٹرسال اول کے ان امتحانات کا انعقاد عمل میں لایا گیا تھا ان امتحانات میں ریاست بھر میں جملہ 4،59،242 طلبہ نے شرکت کی تھی جن میں سے صرف 49 فیصد یعنی 22،4012 طلبا و طالبات ہی کامیاب ہوپائے تھے۔ان نتائج کے اعلان کے بعد ریاست میں چند ناکام طلبہ کی جانب سے خودکشیوں کی اطلاعات بھی آئی ہیں!!

یاد رہے کہ گزشتہ سال کورونا وباء کے باعث انٹرمیڈیٹ سال اول کے سالانہ امتحانات کو ملتوی کرتے ہوئے تمام طلبہ کو پروموٹ کیا گیا تھا اور اس وقت حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ کورونا وباء میں کمی کے بعد ان انٹرمیڈیٹ سال اول کے امتحانات کسی بھی وقت منعقد کیے جائیں گے۔