حیدرآباد میں ایک اور اومی کرون کیس درج
تلنگانہ میں جملہ متاثرین کی تعداد 25 ہوگئی
حیدرآباد: 22۔ڈسمبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
تلنگانہ میں کورونا وائرس کی دوسری شکل اومی کرون کے متاثرین میں اضافہ کاسلسلہ جاری ہے۔آج حیدرآباد میں ایک اور اومی کرون سے متاثرہ نوجوان کی محکمہ صحت کے عہدیداروں نے شناخت اور تصدیق کی ہے۔
حیات نگر میں ایک 23سالہ نوجوان اومی کرون سے متاثر پایا گیا ہے۔محکمہ صحت کے عہدیداروں نے تصدیق کی کہ تشخیص کے بعد اس نوجوان کی رپورٹ پازیٹیو آئی ہے۔جسے تلنگانہ انسٹیٹیو آف میڈیکل سائنسیس ،گچی باؤلی منتقل کردیا گیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ حیات نگر کا ساکن یہ نوجوان حال ہی میں سویڈن سے حیدرآباد واپس ہوا تھا۔
اس نوجوان کو ٹمس ہسپتال منتقل کرنے کے بعد محکمہ صحت کے عہدیدار اس نوجوان کے رابطہ میں آنے والے تمام افراد کے نمونے حاصل کرکے جانچ کی غرض سے روانہ کیے گئے ہیں۔اس طرح آج تک ریاست تلنگانہ میں اومی کرون متاثرین کی جملہ تعداد 25 تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب اومی کرون متاثرین کی تعداد 200 سے زائد ہوجانے کے بعد سارے ملک میں تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ہندوستان کی مختلف ریاستوں بشمول تلنگانہ میں اب تک اومی کرون متاثرین کے 216 کیس ریکارڈ ہوئے ہیں۔
سب سے زیادہ اومی کرون کیس ملک کی تین ریاستوں میں ریکارڈ ہوئے ہیں جن میں مہاراشٹرا میں 65، دہلی میں 54 اور تلنگانہ میں 25 کیس شامل ہیں۔جبکہ کرناٹک میں 19، راجستھان 18،کیرالا میں 15، گجرات میں 14 اومی کرون کیس ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
اومی کرون متاثرین کی تعداد میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے دبارہ ریاستوں کو دوبارہ چوکس کردیا ہے۔اور ریاستوں کو روانہ کروہ مکتوب میں متنبہ کیا گیا کہ ہے کہ ڈیلٹا وائرئنٹ کہ مقابلہ میں اومی کرون تین گنا زائد رفتار سے پھیل رہا ہے۔اور ریاستوں کو ہدای دیت گئی ہے کہ وہ مکمل چوکس رہیں اور احتیاطی طور پر تمام ممکنہ اور لازمی اقدامات کیے جائیں۔
مرکزی حکومت نے ریاستوں کو روانہ کردہ اپنے مکتوب میں متنبہ کیا ہے کہ اومی کرون کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ ڈیلٹا وائرئنٹ کا پھیلاؤ بھی ہنوز جاری ہے اور بالخصوص اضلاع میں اس کی روک تھام کو یقینی بنایا جائے،کنٹینمنٹ زونس کے قیام کو ترجیح دی جائے۔
ریاستوں کو روانہ کردہ مکتوب میں مرکزی حکومت نے ریاستوں کو مشورہ دیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر اپنی اپنی ریاستوں میں رات کا کرفیو نافذ کیا جائے،سخت پابندیاں عائد کی جائیں،عوامی اجتماعات اور پروگراموں پر پابندی عائد کی جائے،دفاتر میں ملازمین کی حاضری کو کم کیا جائے اور عوام ٹرانسپورٹ سسٹم پر تحدیدات عائد کی جائیں۔
مرکزی حکومت نے ریاستی حکومتوں کو یہ ہدایت بھی دی ہے کہ ہسپتالوں میں بستروں، آکسیجن کی فراہمی،ایمبولنس سرویس اور ادویات کے بشمول دیگر انتظامات کے لیے خصوصی فنڈس کا استعمال کیا جائے۔ساتھ ہی ہدایت دی گئی ہے کہ کوویڈ ویکسین مہم کو مزید تیز کیا جائے۔

