مرہم بھی گرلگایا تو کانٹے کی نو ک سے!
تانڈور میں سڑکوں کے گڑھوں کو صرف کنکروں سے بھردیا گیا
عوام مزید پریشان! سڑکوں پر ہر طرف کنکر پھیل گئے
وقارآباد/تانڈور: 12۔ڈسمبر(سحرنیوزڈاٹ کام)

ریاست تلنگانہ کے وقارآباد ضلع میں ریاست کرناٹک کی سرحد پر موجود حلقہ اسمبلی تانڈور! جہاں چارسمنٹ فیکٹریز، ہزاروں پتھر کی معدنیات اور فیکٹریز کے علاوہ تور دال کی پیداوار کے لیے مشہور ہے۔اور اس کی خرید و فروخت اور منتقلی کے لیے ملک کے مختلف مقامات سے تاجرین کے علاوہ روزآنہ ہزاروں بھاری مال بردار ٹرکس، سمنٹ ٹینکرس کی آمدورفت جاری رہتی ہے۔اس کے ذریعہ حکومت کو مختلف ٹیکسوں کی شکل میں سالانہ کروڑہا روپئے حاصل ہوتے ہیں۔
اسی تانڈور میں موجود فضائی آلودگی اور انتہائی ابتر حالت میں موجود سڑکوں کے خلاف 4 ڈسمبر کو تانڈور ڈیولپمنٹ فورم کی جانب سےبڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا ، اندراچوک پر دو گھنٹوں تک انسانی زنجیر بناتے ہوئے دھرنا منظم کیا گیا اوراسی دن کامیاب تانڈور بند بھی منایا گیاتھا۔
ساتھ ہی زنجیری بھوک ہڑتال کا آغاز بھی کیا گیا تھالیکن پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے تانڈور ڈیولپمنٹ فورم کے نمائندوں سید کمال اطہر ، گوپال بھاگرے،راما کرشنا ،سباراؤ اور رامو سمیت دیگر کو اپنی حراست میں لیا تھا۔
اسی احتجاج کے دؤران احتجاجیوں کی ضد اور مطالبہ کے بعد رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی جائے مقام پر پہنچ کراعلان کیا تھا کہ اندرون 6؍ماہ تانڈور میں موجود فضائی آلودگی کے خاتمہ کو یقینی بنائیں گے ،تانڈور کی ترقی ان کی اولین ترجیح ہوگی اوران کی نمائندگی پر یہاں سڑکوں کی تعمیر کے لئے فنڈس منظور کئے گئے ہیں انہوں نے تیقن دیا کہ آئندہ مانسون تک یہاں کی تمام سڑکوں کو بہتر بنایا جائے گا۔

رکن اسمبلی نے بلدی عہدیداروں کو ہدایت دی تھی کہ تب تک فضائی آلودگی کو روکنے کے لئے روزآنہ تین وقت سڑکوں پر پانی کا چھڑکاؤ کیا جائے جس پر عمل درآمد شروع ہوچکا ہے۔رکن اسمبلی تانڈور کے ان تیقنات کے بعد احتجاج ،بند اور زنجیری بھوک ہڑتال ختم کردی گئی تھی۔
اسی دؤران کل محکمہ آراینڈ بی کے عہدیدار بہت دنوں کے بعد خواب غفلت جاگے انہیں احساس ہوا کہ سڑکوں پر گڑھے بھی موجود ہیں تو ان سڑکوں کی مرمت کے کاموں کا آغاز کیا گیا۔
جس کے بعد تانڈور میں گوتاپور روڈ پر ملپا ہوٹل سے سینٹ مارکس اسکول تک اور کوڑنگل روڈ پر اندرا چوک سے ریلوے فلائی اوور بریج تک سڑک پر موجود گڑھوں کو موٹے کنکروں اور اس میں ہلکی سمنٹ کی آمیزش کرتے ہوئے پُر کیا گیا۔
قابل غور اور محکمہ آر اینڈ بی کے عہدیداروں اور ملازمین کی اس اعلیٰ کارکردگی کی داد دینا لازمی ہوگیا ہے کہ ان گڑھوں میں پانی کا چھڑکاؤ کرتے ہوئے پانی سے ترکنکروں کوبھر کر اپنے ہاتھ صاف کرلیے گئے۔

لیکن ان کنکروں کے ساتھ ” تارکول” (ڈانبر) کا استعمال نہیں کیا گیا! کہ ان دونوں انتہائی مصروف سڑکوں پر سے گزرنے والی سینکڑوں مال بردار گاڑیوں،آرٹی سی بسوں،بالخصوص کاروں،موٹرسیکلوں اور آٹو رکشا چلانے والوں کو راحت نصیب ہو!!
اب تارکول (ڈانبر) کے عدم استعمال کے باعث ان دونوں سڑکوں کے گڑھوں میں بھرے گئے کنکر گڑھوں سے باہر نکل کر سڑک پر پھیل گئے ہیں اور محکمہ آر اینڈ بی کی کارکردگی پر ان کا منہ چڑا رہے ہیں۔
ساتھ ہی ان سڑکوں پر دؤڑنے والی گاڑیوں اور ڈرائیورس کو پہلے گڑھوں سے شدید مشکلات درپیش تھیں اب ان گڑھوں کے ساتھ ساتھ سڑک پر پھیلے ہوئے کنکر بھی مزید مشکلات کا سامان پیدا کررہے ہیں۔
تانڈور میں محکمہ آراینڈ بی کی اس کارکردگی پر شاعر افتخار ساگر کا یہ شعر صادق آتا ہے!!
اس نے ہمارے زخم کا کچھ یوں کیا علاج
مرہم بھی گر لگایا تو کانٹوں کی نوک سے
وہیں مال بردار گاڑیوں، بسوں، کاروں اور موٹرسیکلوں کے گزرنے کے دؤران یہ کنکر گاڑیوں کے ٹائروں کے کناروں سے دب کر اُڑرہے ہیں جس سے ان دونوں سڑکوں پر موجود دُکانات اور اس پر چلنے والے راہ گیروں کو چوٹ پہنچنے کا مکمل امکان ہے!۔
تانڈور کے عوام کا استفسار ہے کہ صرف کنکروں کے ذریعہ سڑکوں کی مرمت کا یہ کونسا طریقہ ہے؟
کیا محکمہ آراینڈ بی کے عہدیدار اور ملازمین اس بات سے واقف نہیں ہیں کہ گڑھوں کر پُر کرنے کے لیے کنکروں کے ساتھ تارکول (ڈانبر) کا استعمال پوری دنیا میں کیا جاتا ہے!!سڑکوں پر پھیلے ہوئے کنکر اب عوام کے لیے مزید مشکلات کا سامان پیدا کررہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر لکھا جارہا ہے کہ اس طرح کنکروں سے روز عوام کو مارنے کے بجائے سیدھے پتھروں سے مارا جائے!!
تانڈور کے عوام کو امید ہے کہ رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی اس جانب فوری توجہ دیتے ہوئے محکمہ آر اینڈ بی کے عہدیداروں اور ملازمین کی اس عمدہ کارکردگی کے اعلیٰ نمونوں کا خود جائزہ لیں گے اور عہدیداروں کو بتائیں گے کہ سڑکوں پر موجود گڑھوں کی مرمت کس طرح کی جاتی ہے؟

