لندن سے آئی ہوئی کوویڈ سے متاثرہ لڑکی حیدرآباد ایرپورٹ پر چکمہ دے کر اپنے والدین کے فلیٹ پر پہنچ گئی،پولیس نے ہسپتال منتقل

لندن سے آئی ہوئی کوویڈ سے متاثرہ ایک لڑکی
حیدرآباد ایرپورٹ سے چکمہ دے کر اپنے والدین کے فلیٹ پر پہنچ گئی
بعد ازاں پولیس نے ہسپتال منتقل کیا، پولیس کو بھی چکمہ دینے کی کوشش
کیاب ڈرائیور،والدین اور پکڑنے میں پولیس کی مدد کرنے والے تمام قورنطین میں

حیدرآباد: 04۔ڈسمبر(سحرنیوزڈاٹ کام)

کوویڈ متاثرین ہسپتال منتقل کیے جانے سے خوفزدہ ہوکر بناء کسی اطلاع اپنوں میں پہنچ جاتے ہیں لیکن اس سے ایک بڑا خطرہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ اس دؤران جن جن کے رابطے میں آتے ہیں انہیں بھی کوویڈ سے متاثر کردیتے ہیں۔

ایسی ہی ایک لڑکی جو لندن سے حیدرآباد کے راجیو گاندھی انٹرنیشنل ایرپورٹ پہنچی تھی محکمہ طب کے عہدیداروں کو بناء بتائے چکمہ دے کر ایرپورٹ سے روانہ ہوگئی اور اپنے والدین کے مکان پہنچ گئی۔تاہم اس لڑکی کے پاسپورٹ میں درج تفصیلات کے بعد پولیس نے اس لڑکی کو اپنی تحویل میں لے کر ہسپتال منتقل کردیا۔

تاہم لڑکی کی اس غلطی کے اہم نتائج برآمد ہوئے ہیں کیونکہ تین دیگر افراد اب ممکنہ طور پر وائرس سے متاثر ہونے کی وجہ سے طبی محکمہ کی زد میں آگئے ہیں۔جن میں وہ کیاب ڈرائیور شامل ہے جس نے اسے گھر پہنچایا تھا اور اس کے والدین جنہیں ان کے مکان میں قورنطین کر دیا گیا ہے۔

اس واقعہ کی تفصیلات کے مطابق لندن میں مقیم ایک قطب اللہ پور کی ساکن لڑکی جمعہ کی صبح برٹش ایئرویز کی پرواز سے حیدرآباد ایرپورٹ پر اترنے اور پروٹوکول کے مطابق مسافرین کی جانچ کے بعد کوویڈ۔19 سے متاثرہ پائی گئی تھی جسے ہسپتال منتقل کیا جانے والا تھا۔

تاہم یہ لڑکی بناء اطلاع دئیے چکمہ دے کر راجیو گاندھی انٹرنیشنل ایرپورٹ سے نکل کر اپنے والدین کے فلیٹ پر پہنچ گئی۔

لندن سے آئی ہوئی اس لڑکی کی ایرپورٹ پرغیر موجودگی کا پتہ ایک گھنٹہ بعد چلا اس وقت تک وہ خاتون ایک کیاب لے کر قطب اللہ پور کے رٹز اپارٹمنٹ میں موجود اپنے والدین کے فلیٹ پہنچ گئی تھی۔

اس معاملہ میں سب انسپکٹر  پولیس جیڈی میٹلہ کے۔بالراج نے میڈیا کو بتایا کہ پاسپورٹ کی تفصیلات اور میڈیکل ٹیم کی مدد سے اس لڑکی کا پتہ چلاتے ہوئے اس کے اپارٹمنٹ پہنچ کر اسے تحویل میں لیا گیا۔بعدازاں اس لڑکی کو گچی باؤلی کے تلنگانہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسس اینڈ ریسرچ TIMS# ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

بتایا جارہا ہے کہ اس لڑکی نے وہاں سے بھی پولیس کو چکمہ دے کر فرار ہونے کی کوشش کی تھی تاہم اپارٹمنٹ کے چند افراد کی مدد سے اس لڑکی کو پکڑلیا گیا۔تاہم اس کے بعد اس لڑکی کو پکڑنے میں مدد کرنے والے اپارٹمنٹ کے ساکن چند افراد کو بھی اب 14 دنوں تک اپنے مکانات میں قورنطین میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ اس خاتون کے نمونے جینوم کی ترتیب genome sequencing کے لیے بھیجے گئے ہیں جہاں اس کی جانچ کی جائے گی کہ آیا وہ Omicron ویرینٹ سے متاثر ہے یا نہیں؟

دوسری جانب دستیاب اطلاعات کے مطابق جمعہ کو حیدرآباد کے راجیو گاندھی انٹرنیشنل ایرپورٹ پر طبی جانچ کے بعد مختلف ممالک سے آئے ہوئے جملہ 10 مسافرین کی کوویڈ۔19 رپورٹ پازیٹیو آئی ہے اور انہیں گچی باؤلی میں موجود تلنگانہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسس اینڈ ریسرچ (ٹمس) ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

ڈائرکٹر ٹمس ڈاکٹر وملا تھامس نے بتایا کہ بیرون ملک سے آنے والے مریض جو کہ غیر علامتی ہیں ہسپتال کے خصوصی آئسولیشن وارڈس میں صحت یاب ہو رہے ہیں اور ان مریضوں کو متاثر کرنے والے وائرئنٹ کی قسم نامعلوم ہے اور ان کے نمونے جینومک ترتیب genome sequencing کے لیے نامزد لیابس کو روانہ کیے گئے ہیں۔