احتجاج کے دؤران مرنے والے 750 کسانوں کے افراد خاندان کو فی کس تین لاکھ روپئے کی امداد
چیف منسٹر تلنگانہ چندراشیکھر راؤ کا اعلان، کل وفد کے ساتھ دہلی کا دؤرہ کریں گے
وزیراعظم،وزرا اور عہدیداروں سے ملاقات،دھان کی خریدی کے معاملہ میں واضح اعلان کا مطالبہ
حیدرآباد: 20۔نومبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے اعلان کیا ہے کہ کسان قوانین کے خلاف ایک سال تک چلائے گئے احتجاج کے دؤران مرنے والے 750 کسانوں کے افراد خاندان کو حکومت تلنگانہ کی جانب سے فی کس تین لاکھ روپئے کی ایکس گریشیا دی جائے گی اور ان کسانوں کے افراد خاندان سے بھی ملاقات کی جائے گی۔اس سے 22 کروڑ 50 لاکھ روپئے خرچ ہوں گے۔
چیف منسٹر کے۔چندرا شیکھر راؤ آج شام پرگتی بھون،حیدرآباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔
چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے ساتھ ہی مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ صرف کسان قوانین واپس لینا کافی نہیں ہے مرکزی حکومت کی جانب سے بھی مرنے والے تمام کسانوں کے افراد خاندان کو فی کس 25 لاکھ روپئے کی ایکس گریشیا دی جائے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس احتجاج کے دوران کسانوں کے خلاف درج کیے گئے ہزاروں مقدمات واپس لیے جائیں۔اور ساتھ ہی فصلوں کے لیے اقل ترین قیمت (ایم ایس پی) کا اعلان کیا جائے۔
ساتھ ہی انہوں نے اعلان کیا کہ وہ کل چیف سیکریٹری، وزرا اور ارکان پارلیمان،ارکان اسمبلی کا وفد لے کر دہلی کا دؤرہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ بارہا مرتبہ مطالبہ اور احتجاج کے بعد بھی مرکزی حکومت نے ریاست کے کسانوں سے دھان خریدے جانے کے معاملہ میں اب تک کوئی اعلان نہیں کیا ہے۔انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کو مشورہ دیا کہ وہ کسانوں اور شعبہ زراعت کو پہلے "آتم نربھر بنائیں "
انہوں نے کسان قوانین کی واپسی پر ریمارک کیا کہ اب ملک کو تمہاری اوقات معلوم ہوگئی ہے۔وزیراعظم کی صرف چھاتی کا سائز بتانا کافی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ احتجاجی کسانوں کو کس کس نام سے پکارا گیا؟ اب وہ وزرا کس منہ سے کسانوں سے بات کریں گے؟
چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے ساتھ ہی مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ جدید برقی قانون کو بھی فوری طور پر واپس لیا جائے
انہوں نے انتباہ دیا کہ دھان کی خریدی کے معاملہ مرکز اپنا موقف واضح کرے ورنہ ریاست میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ جدید ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد دیا جانے والا فنڈ آج تک نہیں دیا گیا ہے،

