وقارآبادضلع تانڈور: قتل کے ارادہ سے ہی موٹرسیکل کو کار سے ٹکر دی گئی تھی! حادثہ کے ایک زخمی کی پولیس میں شکایت،کیس درج

وقارآبادضلع: تانڈور میں قتل کے ارادہ سے ہی موٹرسیکل کو کار سے ٹکر دی گئی تھی!
حادثہ کے ایک زخمی کی یالال پولیس اسٹیشن میں شکایت،کیس درج، پولیس تحقیقات میں مصروف

وقارآباد/تانڈور: 14۔نومبر (سحرنیوزڈاٹ کام)

وقارآبادضلع کے تانڈور کی حیدرآباد روڈ پر موجود راجیو گروہا کالونی کے قریب گزشتہ نصف شب سے قبل ایک موٹرسیکل TS 34 D 3724 پر اندرماں کالونی کے ساکن عبدالجبار اور راجیو گروہا کالونی (حیدرآباد روڈ) کے ساکن ابو سفیان اور محمد سہیل کی موٹرسیکل کو اس وقت تانڈور کی سمت سے ان کے پیچھے آنے والی ایک سوئفٹ ڈیزائر کار TS 08 FB 2268 نے ٹکر دے دی تھی جب وہ تانڈور میں چائے پی کر مذکورہ بالا کالونیوں میں موجود اپنے اپنے مکانات کو واپس ہورہے تھے۔

جس کے باعث موٹرسیکل چلا رہے عبدالجبار 28 سالہ کی جائے حادثہ پر ہی دلخراش موت واقع ہوگئی تھی جبکہ محمدسہیل اور ابوسفیان زخمی ہوگئے تھے۔آج بعد سہء پہر عبدالجبار کی نعش بعد پوسٹ مارٹم ورثا کے حوالے کردی گئی جن کی نماز جنازہ بعد نماز عصر جامع مسجد میں ادائیگی کے بعد یوسف سیٹھ قبرستان میں تدفین عمل میں لائی گئی۔

وہیں محمدسہیل کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے جو حیدرآباد کے ہسپتال میں زیرعلاج ہیں۔  

اس حادثہ کے بعد مہلوک عبدالجبار اور زخمی نوجوانوں کے افراد خاندان اور تانڈور میں مختلف شکوک و شبہات کا اظہار کیا جارہا تھا!

یہاں سب سے افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ کار کی ٹکر سے ہلاک ہونے والےعبدالجبار اپنی بیوی اور چار بچوں کی کفالت کا واحد ذریعہ تھے جن کی موت کے بعد یہ خاندان بے سہارا ہوگیا ہے۔وہیں محمدسہیل کے متعلق بھی کہا جارہا ہے کہ وہ بھی اپنے خاندان کی کفالت کا ذریعہ ہیں۔

اس واقعہ پر شکوک و شبہات کے دؤران آج شام سب انسپکٹر پولیس یالال سریش نے میڈیا کو بتایا کہ اس واقعہ میں زخمی ابوسفیان نے پولیس میں شکایت درج کروائی ہے کہ کار میں موجود معین اور اسمٰعیل نے پرانی مخاصمت کے باعث ہی ان کی موٹرسیکل کو پیچھے سے ٹکر ماری ہے۔وہیں مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس کار میں واقعہ کے وقت تین افراد موجود تھے؟جس پر سب انسپکٹر نے کہا کہ اس کی بھی تحقیقات کی جائیں گی کہ کار میں وہ تیسرا فرد کون تھا؟

سب انسپکٹر پولیس یالال سریش نے بتایا کہ اس سلسلہ میں پولیس نے ایک کیس درج رجسٹر کرلیا ہے اور سرکل انسپکٹر پولیس تانڈور (رورل) جلندر ریڈی اس کیس کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات میں مصروف ہیں۔

ایسی اطلاعات بھی تانڈور میں زیرگشت ہیں کہ دو دن قبل ہی اس واقعہ کے دونوں فریقین کے درمیان کسی معاملہ میں مفاہمت بھی  کروائی  گئی تھی!!

دوسری جانب موجودہ حالات میں بھی چندمسلم نوجوانوں کی ذہنیت اور ان کی روِش تبدیل ہونے تیار نہیں ہے۔اور نہ ہی انہیں کسی ذمہ داری کا احساس ہی ہے! 

ریاست کے کسی نہ کسی مقام بالخصوص حیدرآباد سے روزآنہ مسلم نوجوانوں کے قتل کی وارداتوں کی اطلاعات عام ہیں۔جو کہ حساس شہریوں کے لیے پریشانیوں کا باعث ہیں۔

ایسے واقعات مسلم معاشرہ کا ایک حصہ بنتے جارہے ہیں۔معمولی معمولی باتوں پر قتل اور قاتلانہ حملوں کی وارداتوں سے جہاں مسلم معاشرہ میں بڑھتے جرائم کا پتہ چل رہا ہے وہیں معاشرہ کی مزید بدنامی کا باعث بھی بن رہا ہے۔

مسلم نوجوانوں کا یہ رحجان معاشرہ کے لئے مسقتبل میں مزید مسائل پیدا کرسکتا ہے ضرورت شدید ہے کہ جرائم اورقتل کی جانب بڑھ رہے اس رحجان پر نکیل کسنے کے لیے باقاعدہ ایک مہم چلائی جائے اور نوجوانوں کی کونسلنگ کی جائے۔اس کے لیے تمام تنظیموں اور قوم کے ذمہ داران کو ایک پلیٹ فارم پر آنے کی شدید ضرورت ہے۔

******

” اس واقعہ سے متعلق ابتدائی تفصیلات سحرنیوز ڈاٹ کام کی اس لنک کو کلک کرکے پڑھی جاسکتی ہیں "

وقارآباد ضلع: راجیوگروہا کالونی تانڈورکے قریب موٹرسیکل کو کار کی ٹکر،ایک نوجوان ہلاک،دیگر دو زخمی،حادثہ کےمتعلق شکوک و شبہات!