فیصلہ سے ہمیں انصاف نہیں ملا
ہمارا خیال تھا کہ ہائی کورٹ آئینی اقدار کو برقرار رکھے گی
امبیڈکر زندہ ہوتے تو رودیتے،ہم حجاب کے بغیر کالج نہیں جائیں گی
اُڑپی کی 6 درخواست گزار طالبات کی پریس کانفرنس
بنگلورو: 15۔مارچ(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
ریاست کرناٹک میں جاری حجاب تنازعہ پر آج کرناٹک ہائی کورٹ کی چیف جسٹس کرناٹک ہائی کورٹ ریتو راج اوستھی،جسٹس کرشنا ایس ڈکشٹ اور جسٹس قاضی زیب النسامحی الدین پرمشتمل سہ رکنی بنچ نے اپنے صادر کردہ فیصلہ میں کہا ہے کہ حجاب ایک ضروری مذہبی جُز نہیں ہے اور یہ مذہبی عمل لازمی نہیں ہے۔
کرناٹک ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کے بعد کرناٹک ہائی کورٹ سے رجوع ہونے والی اُڑپی کے گورنمنٹ پری یونیورسٹی کالج (پی یو کالج) میں کی 6 مسلم طالبات جنہیں حجاب پہن کر کالج آنے پر روک دیا گیا تھا نے آج کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ”ہائی کورٹ کے فیصلہ سے ہمیں انصاف نہیں ملا،ہمارا خیال تھا کہ ہائی کورٹ آئینی اقدار کو برقرار رکھے گی۔
ساتھ ہی ان طالبات نے اعلان کیا ہے کہ ہم حجاب کے بغیر کالج نہیں جائیں گی۔ان 6 طالبات نے کہا ہے کہ معمار دستور بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر اگر آج زندہ ہوتے تو وہ رو رہے ہوتے۔
یہ 6 طالبات حکومت کرناٹک کی جانب سے 5 فروری کو جاری کردہ جی او کو چیلنج کرتے ہوئے کرناٹک ہائی کورٹ سے رجوع ہوئی تھیں۔جن کی درخواستوں کے خلاف آج فیصلہ صادر ہوا ہے۔
” ان طالبات کی پریس کانفرنس اور ایک طالبہ عالیہ اسعادی کا ویڈیو پیغام اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے۔”
ان 6 طالبات میں شامل عالیہ اسعادی نے اپنے علحدہ ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ”ہمیں ہماری عدالت پر پورا یقین تھا کہ ہمیں ہمارے دستوری حقوق دئیے جائیں گے۔لیکن آج کرناٹک ہائی کورٹ کا جو فیصلہ آیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ حجاب اسلام کا لازمی جُز نہیں ہے جس میں میں متفق نہیں ہوں۔”
"اس ویڈیو پیغام میں عالیہ اسعادی نے کہا ہے کہ اگر حجاب اسلام کا لازمی عمل نہ ہوتا تو وہ اتنی جدوجہد نہیں کرتیں،اور اپنی تعلیم کو لے کر بھی صلاح نہ کرتیں۔انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ کے فیصلہ سے وہ مطمئین نہیں ہیں کیونکہ حجاب قرآن کہتا ہے کہ حجاب ایک اہم حصہ ہے۔عالیہ اسعادی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ حجاب کے لیے اپنی قانونی جدوجہد جاری رکھیں گی۔کیونکہ حجاب ان کی شناخت ہے اور ان کے لیے قابل فخر ہے”۔
دوسری جانب ان طالبات کے ایک وکیل مسٹر انس تنویر نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”میری موکلوں سے حجاب معاملہ میں ملاقات کی۔جلد ہی سپریم کورٹ سے رجوع ہوں گے ان شاء اللہ۔یہ لڑکیاں ان شاء اللہ حجاب پہننے کے اپنے حقوق کا استعمال کرتے ہوئے اپنی تعلیم جاری رکھیں گی۔ان لڑکیوں نے عدالتوں اور آئین سے امید نہیں ہاری ہے” ۔

