تلنگانہ کی 116 بلدیات اور 7 میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کا نقارہ بج گیا، 11 فروری کو ووٹنگ اور 13 فروری کو ووٹوں کی گنتی

تلنگانہ کی 116 بلدیات اور 7 میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کا نقارہ بج گیا
ریاستی الیکشن کمیشن کا اعلامیہ جاری، 11 فروری کو ووٹنگ، 13 فروری کو ووٹوں کی گنتی اور نتائج
 28 جنوری سے 30 جنوری تک پرچہ نامزدگی کا ادخال، جملہ 52 لاکھ 43 ہزار رائے دہندے

حیدرآباد : 27۔جنوری (سحر نیوز ڈاٹ کام )

ریاستی الیکشن کمشنر رانی کمودنی نے آج 27 جنوری کی شام ریاست تلنگانہ کی 116 بلدیات اور 7 کارپوریشنوں کے انتخابات کے لیے انتخابی شیڈول جاری کر دیا ہے۔جس کے ساتھ ہی ریاست میں انتخابی ضابطہ اخلاق Model Code Of Conduct نافذ ہوگیا ہے۔

اسی کیساتھ تلنگانہ میں بلدیاتی انتخابات کے لیے آج نقارہ بج گیا جس کا تمام سیاسی جماعتوں اور ان انتخابات میں قسمت آزمائی کے خواہشمند امیدواروں کو بے چینی کیساتھ انتظار تھا۔

ریاست تلنگانہ کی 116 بلدیات اور 7 میونسپل کارپوریشنس کے لیے 11 فروری، بروزچہارشنبہ 7 بجے صبح سے شام 5بجے تک رائے دہی کا انعقاد عمل میں لایا جائے گا, اگر کسی وجہ سے کہیں لازمی ہو تو 12 فروری کو دوبارہ  رائے دہی منعقد ہوگی۔

ریاست میں ان بلدی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی 13 فروری کو صبح  8 بجے سے شروع ہوگی اور اسی دن انتخابی نتائج کا اعلان کر دیا جائے گا۔

گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن ان انتخابات میں شامل نہیں ہے کیونکہ اس کی معیاد 10 فروری کو ختم ہو رہی ہے۔

ان بلدی انتخابات میں مقابلہ کے خواہشمند امیدوار 28 جنوری بروز چہارشنبہ سے 30 جنوری بروز جمعہ کو روز ساڑھے دس بجے صبح سے شام 5 بجے تک اپنے پرچہ نامزدگی داخل کر سکتے ہیں۔31 جنوری کو 11بجے دن سے ان پرچہ نامزدگی کی جانچ پڑتال (اسکروٹنی) کی جائے گی اور اسی دن امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کر دی جائے گی۔

کاغذات نامزدگی کو مسترد کیے جانے کے خلاف یکم  فروری کی شام 5 بجے تک ضلع الیکشن اتھارٹی کے سامنے شکایت داخل کی جاسکتی ہے 2 فروری کی شام 5بجے تک ان شکایتوں کو نمٹایا جائے گا۔

پرچہ نامزدگی داخل کرنے والے امیدوار 3 فروری کی سہء پہر تین بجے تک اپنے پرچہ نامزدگی واپس لے سکتے ہیں اس کے بعد اسی دن حتمی امیداروں کی فہرست جاری / اپ لوڈکر دی جائے گی۔

ریاست کے سات میونسپل کارپوریشنس جن کے انتخابات منعقد ہونگے ان میں کریم نگر (66حلقے)، نظام آباد، محبوب نگر، راما گنڈم، کوتہ گوڑم، منچریال (تمام 60 بلدی حلقے) اورنلگنڈہ (48 بلدی حلقے) شامل ہیں جہاں جملہ 414 بلدی حلقوں میں کارپوریٹرس کے لیے اور 116 بلدیات کے 2,582 ارکان بلدیہ (کونسلرس) کے لیے انتخابات منعقد ہونگے۔

ریاست کے ان بلدی انتخابات میں جملہ 52 لاکھ 43 ہزار رائے دہندے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے جن میں 25لاکھ 62 ہزار مرد رائے دہندے ، 26 لاکھ 80 ہزار خاتون رائے دہندوں کے علاوہ 640 تیسری صنف کے رائے دہندے شامل ہیں جو ریاست میں قائم کیے جانے والے 8,203 مراکز رائے دہی پر اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کریں جن کے لیے 16,031 بیالٹ باکس کا نظم ہوگا۔

ریاست تلنگانہ میں 2,996 حلقوں کےلیے ہونے والے ان بلدی انتخابات میں 1,511حلقے جنرل ہیں،جبکہ تحفظات کے تحت بی سی طبقہ کے لیے 854 بلدی حلقے، ایس سی طبقات کے لیے 444 اور ایس ٹی طبقہ کے لیے 187 بلدی حلقہ جات محفوظ قرار دئیے گئے ہیں۔ موسم گرما ء کے آغاز کے ساتھ ریاست میں ان بلدی انتخابات کے دوران سیاسی گرمی بھی عروج پر پہنچے گی۔!!

ریاست تلنگانہ میں ان بلدی انتخابات کے آغاز سے اختتام تک انتخابی ضابطہ اخلاق سختی کیساتھ نافذ رہے گا۔جس کے دوران عوام بالخصوص بیوپاریوں اور رقمی لین دین کے لیے سفر کرنے والوں کے لیے ان رہنمایانہ اُصولوں پر عمل کرنا لازمی ہوگا۔!!

💼 عہدیداروں کےمطابق ایک شخص کےپاس 50 ہزار روپئے نقد رقم رکھنے کی ہی اجازت ہوگی۔انتخابی ضابطہ اخلاق کےدؤران عوام کو ان چیزوں کا خاص خیال رکھنا ضروری ہوگا۔

⬅️ اگر کسی کے پاس سفر کے دوران شاہراہوں یا مقامی طورپر کہیں جاتے وقت 50 ہزار روپئے سےزائد رقم موجود ہو تو اس کی وجوہات اور جائز دستاویزات اپنے ساتھ رکھیں۔

⬅️ ہسپتالوں کے بلوں کی ادائیگی کی غرض سے لے جانے والی 50 ہزار روپئے سے زائد رقم کےساتھ مریض کی طبی رپورٹ،ہسپتالوں کے رسائد اور دیگر ضروری کاغذات اپنے ساتھ لازمی طور پر لے جائیں۔
⬅️ کسی ضرورت کے لیے اگر بینک سے بڑی رقم نکالی جاتی ہے تو بینک کی پاس بک یا اے ٹی ایم کی رسید اپنے ساتھ ضرور رکھیں۔
⬅️ کسی بھی اشیاء یا اجناس کی خرید و فروخت کے بعد حاصل ہونے والی رقم کی رسائد اپنے ساتھ رکھیں اور تلاشی مہم کےدوران عہدیداروں کو پیش کریں۔
⬅️ اگر اراضی یا مکان کی فروخت کے بعد بھاری مقدار میں رقم لے جائی جا رہی ہو تواس کے جائز دستاویزات بھی اپنے ساتھ رکھنا لازمی ہوگا۔
⬅️ کاروباری غرض سے اشیاء کی خریدی کے لیے لے جائی جانے والی،کسی اور مقصد کے لیے اپنے ساتھ موجود رقم کے متعلق لین دین کی مکمل تفصیلات اور رسائد اپنے ساتھ رکھیں اور چیکنگ کے دوران عہدیداروں کو دکھا ئیں۔

یاد رہےکہ کسی مقصد سے بڑی مقدار میں منتقل کی جانے والی رقم کےساتھ وجوہات اور جائز دستاویزات موجود نہ ہوں تو اس رقم کوضبط کرلیا جائے گا۔اور اس معاملہ میں محکمہ انکم ٹیکس،جی ایس ٹی کے عہدیدار بھی میدان میں اترجاتے ہیں۔ اور جب تک جائز دستاویزات پیش نہیں کیے جاتے آپ مصیبت کا شکار ہوسکتے ہیں۔!!

لازمی ہےکہ زیادہ تر افراد اس انتخابی ضابطہ اخلاق اور تلاشی مہم کے دوران رقم،زیورات اور دیگر قیمتی اشیاء کی ضبطی کا شکار بن جاتے ہیں ۔ایسے بیوپاریوں اور ضرورتمندوں کو بھی اس تعلق سے باشعور بنایا جائے۔دوسری جانب موجودہ حکومت بھی عوامی مفاد میں کوئی اسکیمات کا اعلانات نہیں کرسکتی اور نہ ہی سرکاری پروگراموں کا انعقاد عمل میں لایا جاسکتا ہے۔!!