ملک کی ترقی کے لیے بقائے باہم کو فروغ دینا ناگزیر، آئی جے ایف ایف کے این آر آئی کانکلیو سے مقررین کا خطاب

ملک کی ترقی کے لیے بقائے باہم کو فروغ دینا ناگزیر
آئی جے ایف ایف کے این آر آئی کانکلیو سے
ظفر سریش والا،مولانا محمد رحمانی سنابلی اور دیگر مقررین کا خطاب

ریاض : 20/جون
(ای میل/سحرنیوز ڈاٹ کام)

ہندوستان کا تنوع(بقائے باہم) جمہوریت کی بنیاد ہے،جس کو ہر حال میں برقرار رکھنا اور اس کو فروغ دینا ناگزیر ہے،کسی بھی جمہوری ملک کی ترقی کا انحصار اُس کے متنوع سماج کی ترقی ہے۔

ان خیالات کا اظہار مقررین نے ریاض سعو دی عرب میں” انٹر نیشنل جرنلسٹ فریٹرنٹی فورم۔کے ایس اے چیاپٹر ” کے زیر اہتمام منعقدہ ” این آر آئی ۔ کانکلیو ” سے خطاب کرتے ہوے کیا۔

اس کانکلیو میں جناب ظفر سریش والا سابق چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) اور مولانا محمد رحمانی سنابلی صدر ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر نئی دہلی نے مہمانانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی جبکہ ملک رئیس احمد ڈائرکٹر انجام گروپ نے مہمانانِ اعزازی کے طور پر شرکت کرتے ہوے خطاب کیا۔

کانکلیو کا آغاز محترم منصور قاسمی رکن مینجنگ کمیٹی کی قرات کلامِ پاک سے ہوا جبکہ ابتداء میں جنرل سکریٹری فورم جناب راشدالحسن نے آئی جے ایف کے قیام اور اس کے اغراض و مقاصد سے واقف کروایا۔ڈاکٹر محمد اشرف علی صدر’’انٹر نیشنل جرنلسٹ فریٹرنٹی فورم۔کے ایس اے چیاپٹر” نے مہمانوں اور شرکاء کا خیر مقدم کیا اور اس کانکلیو کو منعقد کرنے کے مقاصد و عوامل پرتفصیلی روشنی ڈالی۔ مذکورہ کے تحت دو سیشن منعقد ہوئے، پہلے سیشن میں مہمان مقررین نے خطاب کیا جبکہ دوسرا سیشن سوال وجواب پر مشتمل تھا۔

مولانا محمد رحمانی سنابلی نے اپنے خطاب میں کہاکہ مذہبِ اسلام نےمسلمانوں کو دوسری اقوام کےساتھ امن و سلامتی کی بنیاد پر زندگی گزارنے اور اُنکے حقوق ادا کرنے کاسلیقہ سکھایا ہے،انہوں نے اسلامی تعلیمات اور اصول وضوابط کی روشنی میں اس کی حکمتِ عملی پر قرآن و سنت اور صحابہ کرام(رض) کے مواقف کی روشنی میں تفصیلی گفتگو کی۔

جناب ظفر سریش والا نے اپنے خطاب میں زور دیا کہ ملک کے ہر طبقے کو اس کی ترقی میں اہم رول ادا کرنا چاہئے،مسلمانوں کے مسائل میں اُنہیں سیاسی طور پر با اختیار بنانا اور تحفظ فراہم کرنا شامل ہے اور ان کے حل کے لیے عملی کوشش ضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ ملک میں
15 فیصد پر مشتمل مسلمانوں کی آبادی ملک کو معاشی طور پر طاقتور بنانے کے لیے دیگر اقوام کے ساتھ برابر کا حصہ ادا کر رہی ہے۔

ملک رئیس احمد نے کہاکہ ہندوستان میں بہت مواقع ہیں اور اِن مواقعوں سے استفادہ کےلیے ہند۔سعودی ایکسچینج پروگرام شروع کیا جاناچاہیئے جس کے لیے انہوں نے متعلقہ مرکزی وزیر سے نمائندگی بھی کی ہے۔

ایڈوائزر فورم جناب کے این واصف،جناب اسماعیل حسن اور عبد النعیم قیوم مینجنگ کمیٹی رکن نے مہمانوں کا تعارف پیش کیا۔اسی طرز پر نائب صدر سعود رحمان، سامناد کروناگپلی، خازن محمد اسماعیل حسن عامر اور شریک معتمد باسط ابو معاذ نے مہمانوں کی خدمت میں ہدیہء گُل کا نذرانہ پیش کیا۔

محمدشمس جوائنٹ سکریٹری تلنگانہ این آر آئی فورم،جناب ارشد علی گڑھ مسلم اولڈ بوائز اسوسی ایشن،سید آصف الدین گلوبل ہالی ڈیز،محمد مزمل ساٹا، محمد عبدالمعید گلف این آر آئیز ڈاٹ کام،جناب محمد نوید،محترمہ سارہ فہد اور محترمہ نادیہ سعودی،جناب محمدشکیل صدر ورلڈ بزنس گروپ، محترمہ عاصمہ سلیم پرنسپل یارا انٹرنیشنل اسکول، اے آئی یو ایس ٹیم نے بھی جناب ظفر سریش والا کو تہنیت پیش کی۔

پہلے سیشن کی کارروائی رکن فورم کمیٹی جناب عبدالنعیم قیوم نے چلائی۔ جبکہ دوسرےسیشن کو محترمہ شہزین اِرم جوائنٹ سکریٹری فورم کے حوالے کیا گیا تھا۔جناب فاروق رضا مینجنگ کمیٹی رکن نے کانکلیو کے انتظامات کی نگرانی کی۔اس کانکلیو میں ریاض میں قائم کئی تنظیموں کے سربراہان کے علاوہ معزز شخصیات بشمول ایڈوائزر فورم جناب غضنفر علی خان و دیگر بھی موجود تھے۔