افغانستان کا ایک ایسا صحافی و نیوز اینکر جو فٹ پاتھ پر "سموسے ” بیچنے پر مجبور

ہم نے علاجِ زخمِ دِل تو ڈھونڈ لیا لیکن
گہرے زخموں کو بھرنے میں وقت تو لگتا ہے

افغانستان کا ایک ایسا صحافی و نیوز اینکر
جو فُٹ پاتھ پر ” سموسے ” بیچنے پر مجبور

نئی دہلی: 17۔جون
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

انسان اور وقت کا ساتھ بہت پُرانا ہے،آج بھی انسان کبھی وقت کےساتھ ہوتا ہے توکبھی وقت کے ساتھ ساتھ چلنے کی کوشش میں ہوتا ہے۔کبھی تیز دؤڑ کر آگے نکلنے کی کوشش کرتا ہے اور منہ کے بل گر پڑتا ہے،ہزارہا سال کے تجربے اور ساتھ کے باوجود انسان ابھی بھی وقت سے بہت پیچھے ہے۔وہ لاکھ خود کو طرم خان سمجھنے لگے لیکن وقت ہمیشہ اُس کے اندازوں کو غلط ثابت کردیتا ہے اور اُسے بتاتا ہے کہ ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ…….

یہ بھی سنتے ہیں کہ وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔دیکھا جائے تو یہ بات بھی خوب ہے کہ خوشی کی گھڑیوں میں انسان کو مغرور نہیں ہونے دیتی اور مشکل میں مایوسی سے بچا لیتی ہے۔یعنی انسان کے برتاؤ کو اعتدال کے سکون بخش مستقر میں لا کھڑا کرتی ہے۔اس بات سے مشکل میں حوصلہ ملتا ہے اور اُمید کی لو فروزاں ہو جاتی ہے کہ کبھی تو وقت موافق بھی ہوگا۔

وقت کبھی انسان کے موافق ہوتا ہے توکبھی مخالف اور ہر دو صورتوں میں یہ انسان کوبہت کچھ سکھاتا ہے اور جوبات وقت انسان کو سکھاتا ہےاُسے بھولنا ممکن نہیں ہوتا۔

جو لوگ وقت کے ساتھ چلنا سیکھ لیتے ہیں وہ مستقل خود کو بدلتے رہتے ہیں لیکن وقت رُکنا نہیں جانتا اور اکثر انسان وقت کے تعاقب میں ہانپ جاتا ہے۔

وقت بڑی ظالم شئے ہے اور وہ ایسے کہ اگر آپ خود وقت کے قصیدے بھی پڑھتے رہیں تب بھی یہ اپنی روش سے باز نہ آئے گا اور پُھر سے اُڑ جائے گا اور آپ کو کفِ افسوس ملنے کے مزید وقت درکار ہوگا۔(محمد احمد،بشکریہ: اردو ویب،اردو محفل،)

ایسے ہی وقت اور حالات کے شکار افغانستان کے ایک صحافی اور نیوز اینکر "موسیٰ محمدی”ہوئے ہیں۔جن کی تصاویر ٹوئٹر پر کبیرحقمل نے اپنے مصدقہ ٹوئٹر ہینڈل سے ٹوئٹ کیے ہیں جو کہ سابق افغانستان میں بی بی سی پشتو کے نمائندہ تھے اور لیکچرار ہیں۔

یہی تصاویر افغانستان کی ایک صحافی سماجی جہدکار نیلوفر ایوبی نے بھی اپنے مصدقہ ٹوئٹر ہینڈل سے ٹوئٹ کرتے ہوئے انگریزی میں لکھا ہے کہ "ایک صحافی کےطور پر زندگی بھر کا کام اور جدوجہد افغانستان کی باصلاحیت نوجوان نسل کے لیے اس طرح ختم ہوتی ہے۔یہ ایک لعنتی تاریخ ہے جو ہمارے لیے ہر چند سال بعد اپنے آپ کو دہراتی ہے”۔نیلوفر ایوبی کے اس ٹوئٹ کو ایک ہی دن میں 48,200 ٹوئٹر صارفین نے لائیک کیا ہے۔جبکہ اس ٹوئٹ کے 13,700 ری۔ٹوئٹ ہوئے ہیں وہیں 1,613 ٹوئٹر صارفین نے اس ٹوئٹ پر مختلف کمنٹس کیے ہیں۔

جبکہ کبیرحقمل Kabir Haqmal@نے اپنے پشتو زبان میں کیے گئے ٹوئٹ میں لکھا ہےکہ”یہ طالبان کی حکومت والےافغانستان میں ایک صحافی کی زندگی ہے۔” موسیٰ محمدی ” نے کئی سالوں تک میڈیا میں صحافی/ترجمان کے طور پر کام کیا ہے اور آج ان کے پاس اپنے خاندان کی کفالت کے لیے سڑک کے کنارے کھانا بیچنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔”غربت اور حلال روزی کمانے میں کوئی شرم نہیں”۔

کبیرحقمل نے اپنے اس ٹوئٹ پر ایک کمنٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”لیکن یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ کسی ملک کے باشعور لوگ اس مرحلے تک کیسے پہنچے ہیں،غریبوں کا کیا بنے گا۔ہم نہیں جانتے کہ تبدیلی کو کیا نام دیا جائے۔پاکستان کے کہنے پر اسلامی نظام کی حکمرانی یا اللہ تعالیٰ کے غضب اور ہماری ناشکری کی سزا؟ تاہم ہمارے نزدیک یہ دوسرا نام درست معلوم ہوتا ہے”۔

 

15 اگست 2021 کو افغانستان میں طالبان کا داخلہ،صدارتی محل پرقبضہ کے بعد طالبان نے افغانستان میں حکومت بنالی۔اب یہ بحث ہمارے لیے بے معنی ہی ہوگی کہ طالبان نے افغانستان پر دوبارہ قبضہ کرتے ہوئے کیا حاصل کیا،کس کو فائدہ ہوا اور نقصان میں کون رہا؟

لیکن اسلامی حکومت کے نام پر وہ سب کچھ بدل دیا گیا جسے ترقی یافتہ اور خود کو مہذب کہنے والی قوم نے آج تک قبول نہیں کیا!!۔

افغانستان کے سرکاری اور کئی خانگی نیوز اور ٹی وی چینلوں سے بے پردہ خواتین کو ہٹا دیا گیا یا پھر انہیں مکمل حجاب پہنادیا گیا۔اس دؤران افغانستان سے نفسانفسی کے عالم میں کئی خاتون گلوکار،اداکار،نیوز اینکر اور آزاد خیال لوگ خوف کے باعث فرار ہوکر دیگر ممالک میں پناہ گزیں بن گئے۔

لیکن افغانستان کے ایک صحافی اور نیوز اینکر”موسیٰ محمدی”نے ملک چھوڑکر بھاگنا مناسب نہیں سمجھا لیکن پیشہ صحافت سے دور ضرور کردئیے گئے اور ان کا مقدر بیروزگاری میں تبدیل ہوگیا۔

پھر بھی انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور نہ ہی کوئی شرم محسوس کی۔اب وہ افغانستان میں ہی سڑک کے کنارے بیٹھ کرسموسے اور دیگر غذائی اشیا فروخت کرتے ہوئے عزت اور حلال کی کمائی کرتے ہوئے اپنے خاندان کی کفالت کررہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق موسیٰ محمدی افغانستان پر طالبان کے دوبارہ قبضہ سے پہلے "خبرھا”کے علاوہ مختلف نیوز چینلوں پر اینکر اور صحافتی فرائض انجام دیا کرتے تھے۔لیکن طالبان کے قبضہ کے بعد کئی خانگی نیوز چینلز بند کروادئیے گئے ہیں اور عوام پر بھی کئی ایک پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔

ٹوئٹر پر اس صحافی اور نیوز اینکر کی موسیٰ محمدی کی بطور نیوز اینکر اور اب سڑک کے کنارے بیٹھ کر غذائی اشیاء فروخت کیے جانے کی دل شکن تصاویر اور اور ان حالت کو دیکھ کر ٹوئٹر صافین افسوس کا اظہار کررہے ہیں۔

واقعی وقت بہت بڑا ظالم ہوتا ہے کہ ایک صحافی اور نیوز اینکر کو ٹی وی کے نیوز روم سے نکال کر سیدھے سڑک پر لا بٹھادیا!۔پھر بھی موسیٰ محمدی لائق ستائش ہیں کہ انہوں نے اپنے پیشہ اور اپنے ماضی کو بالائے طاق رکھ کرخود کے لیے اور اپنے خاندان کے لیے دو وقت کی عزت کی روٹی فراہم کرنے کے لیے یہ کاروبار کرنا گوارہ کرلیا۔

محفوظ الرحمان عادل نے کبھی کہا تھا کہ؎

وقت کی گردشوں کا غم نہ کرو 

حوصلے مشکلوں میں پلتے ہیں