صدرنشین ضلع پریشد وقارآباد سنیتا مہندر ریڈی کے خلاف تحریک عدم اعتماد، کانگریس میں شمولیت کے دوسرے ہی دن بی آر ایس کے 12 زیڈ پی ٹی سیز کا اقدام

صدرنشین ضلع پریشد وقارآباد سنیتا مہندر ریڈی کے خلاف تحریک عدم اعتماد
کانگریس میں شمولیت کے دوسرے ہی دن بی آر ایس کے 12 زیڈ پی ٹی سیز کا اقدام
مکتوب ایڈیشنل کلکٹر کو سونپ دیا گیا، وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کے لیے پہلا سیاسی چیلنج!!

حیدرآباد/وقارآباد: 17۔فروری
(سحر نیوز ڈاٹ کام)

مسز  پی۔سنیتا مہندرریڈی، صدرنشین ضلع پریشد،وقارآبادضلع نے کل وزیراعلیٰ ریونت ریڈی سےملاقات کرتےہوئے بی آر ایس پارٹی چھوڑکر اپنے فرزند رنیش ریڈی کےساتھ باقاعدہ کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔تاہم اس موقع پر موجود ان کے شوہر و سابق وزیر و موجودہ بی آر ایس رکن قانون ساز کونسل متحدہ ضلع رنگاریڈی ڈاکٹر پی۔مہندر ریڈی نے باقاعدہ کانگریس میں شمولیت اختیار نہیں کی۔ایسی قیاس آرائیاں زیر گشت ہیں کہ وہ بھی جلد ہی کانگریس میں شامل ہونے والے ہیں۔!

مسز  پی۔سنیتا مہندر ریڈی جو متحدہ ضلع رنگاریڈی میں دو مرتبہ اور ہیٹ ٹرک کرتےہوئے وقارآباد ضلع پریشد کی تیسری مرتبہ صدرنشین منتخب ہوئی تھیں کے خلاف کانگریس میں شمولیت کے 24 گھنٹوں بعد ہی آج بی آر ایس پارٹی سےتعلق رکھنے والے 12 ارکان ضلع پریشد(زیڈ پی ٹی سیز)نے تحریک عدم اعتماد پیش کر دی ہے۔

اس سلسلہ میں ان 12 ارکان نے آج ایڈیشنل کلکٹر وقارآبادضلع لنگیا نائیک سےملاقات کرتے ہوئے اپنی دستخطوں پر مشتمل تحریک عدم اعتماد کا مکتوب حوالے کیا۔اطلاعات کے مطابق تحریک عدم اعتماد کی پیشکش کےفوری بعد یہ تمام زیڈ پی ٹی سیز  نامعلوم محفوظ مقام پر منتقل کر دئیے گئے ہیں۔!!

وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کےضلع وقارآباد میں اس طرح تحریک عدم اعتماد کی پیشکش سیاسی اور عوامی سطح پر موضوع بحث بن گئی ہے۔اور یہ وزیراعلیٰ کےلیے پہلاسیاسی چیلنج مانا جارہاہے۔اطلاعات کےمطابق دستخط کرنےوالے 12 زیڈ پی ٹی سیز میں سے 3 زیڈ پی ٹی سیز کاتعلق وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کے حلقہ اسمبلی کوڑنگل سے ہے۔

ضلع پریشد وقارآباد میں جملہ 18 ارکان ہیں جن میں سے صرف دو کا تعلق کانگریس پارٹی سے ہے۔حالیہ اسمبلی انتخابات سے قبل بی آر ایس کے ایک رکن ضلع پریشد کانگریس میں شامل ہوئے تھے۔وہیں یالال اوربھمرس پیٹ کے ارکان ضلع پریشد نے اس تحریک عدم اعتماد کے مکتوب پر دستخط نہیں کیے ہیں جن کا تعلق بی آر ایس سے ہے۔

تاہم تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے لیے درکار 12 ارکان کی دستخط وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کا پہلا سیاسی امتحان مانا جارہا ہے۔ اس تحریک عدم اعتماد پر حلقہ اسمبلی کوڑنگل کے دو،وقار آباد اور پرگی اسمبلی حلقہ جات کے دو،دو ارکان کے علاوہ اسمبلی حلقہ جات چیوڑلہ اور تانڈور کے ارکان زیڈ پی ٹی سی نے دستخط کیے ہیں۔

دوسری جانب کانگریسی قائدین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ سابق رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی کی والدہ نے کانگریس کے ٹکٹ پر زیڈ پی ٹی سی کے انتخابات میں مقابلہ کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی تھیں۔بعدازاں وہ ٹی آر ایس پارٹی میں شامل ہوگئیں، اس وقت کانگریس نے ان سے استعفیٰ طلب نہیں کیا تھا تو اب مسز  پی۔سنیتا مہندرریڈی کی جانب سے کانگریس میں شامل ہونے کےبعد تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا جواز کیا ہے۔؟

یہ بھی پڑھیں ” 

تانڈور کے پتھر پر عائد رائلٹی میں کمی کی جائے، صنعتکار اور مزدور مشکلات کا شکار، تور بورڈ قائم کیا جائے : رکن اسمبلی میں منوہر ریڈی کا خطاب

بشیر بدر : پدما شری اور ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ یافتہ 89 سالہ ممتاز و نامور بزرگ شاعر کی سالگرہ پر خصوصی مضمون